غریب ریڑی والے کے کیلے پل بھر میں لوٹ کر سمجھا گیا کہ ناموسِ رسالتﷺ کا حق ادا ہوا، جلاؤ گھیراؤ کا "فریضہ” ادا کرکے جانا گیا کہ ہم نے ناموسِ رسالتﷺ کی حفاظت کے حقوق حاصل کرلئے، دھمکیوں اور نعروں کے پسِ پردہ خیال ظاہر کیاگیا کہ متعلقہ عورت(آسیہ) کو سولی پہ چڑھاکر سُکھ کا سانس لیا گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ ایک منظم سازش کے ذریعے مُلکی فضا مخدوش کی جارہی ہے۔ جیسا کہ ہم سمجھ سکتے ہیں کہ عین احتجاج کے موقع پر مولانا سمیع الحق کا قتل اس سلسلے کی کڑی ہے۔ ملزمہ آسیہ کی بریت اگر انصاف کے تقاضوں سے ہٹ کر ہوئی ہے تو تینوں ججز مسئول ہیں اور اللہﷻ کے حضور قصوروار ہیں۔ البتہ ایک خامی کی نشاندہی ضروری ہے۔ عدالت کے فیصلے میں کلمہ شہادت”اشہد ان لا الہ الا اللہ” کا ترجمہ تھوڑا سا غیر واضح ہے۔ عام طور پر اس کا ترجمہ یہی ہوتا ہے کہ:”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہﷻ کے سوا کوئی اور خدا نہیں” جبکہ ججز کے فیصلے میں اس کا ترجمہ یہ کیا گیا ہے:”میں گواہی دہتا ہوں کہ اللہﷻ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔” بہرحال کلمہ شہادت میں لفظ "عبادت” کا ذکر نہیں ہے۔ اس کی تصیح کی جانی چاہیئے۔ اور اگر ججز کا فیصلہ مبنی بھر حق ہے تو پھر سوچنا ہوگا کہ یہ سارا ہنگامہ کس نوعیت کا تھا۔ ناموسِ رسالتﷺ کےلئے یا کسی اور مقصد کےلئے؟ سوچیں ذرا!!!!
سچ پوچھیں توپورے ملک میں ایک انارکی پھیلی ہوئی ہے۔ سبھی ناموسِ رسالت(ﷺ)کے رکھوالے، مذہب کے حد درجہ مشتاق، اور پاکستانیت کے بہت بڑے ہمدرد نظر آرہے ہیں۔ حضوراکرم(ﷺ)کی ذات گرامی اس سے کہیں بلند ہے کہ خدا نخواستہ ایک ناپاک کی جسارت سے آپ(ﷺ)کی ذاتِ بابرکت میلی کچیلی ہوجائے۔ انہی جیسی جماعتوں اور لوگوں کی وجہ سے بھی مخالفین کو موقع ملتا ہے کہ وہ آنحضرت(ﷺ)کی ذات کو لے کر بحث و مباحثہ کریں۔ حالانکہ ہمارا ایمان ہے کہ جس طرح اللہ پاکﷻ کلامِ عظیم قرآن مجید کا محافظ ہے اسی طرح شانِ پیغمبریﷺ، ناموسِ پیغمبریﷺاور حرمتِ پیغمبریﷺبھی اللہ پاکﷻ کے حصار میں ہے۔ اگر کوئی بدبخت سورج کی طرف تھوکنے کی جسارت کرے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ تھوک اُس کے منہ پر ہی گرے گی۔ سورج کروڑوں کوس دور بیٹھ کر اس حرکت کا نظارہ کر رہا ہوتا ہے۔ لہٰذا ہمارے پیغمبرحضرت محمدﷺ کی شان بہت عظیم اور نرالی ہے۔ کسی شخص کے دو بول اور دو گھٹیا قسم کی تحریروں سے آپﷺکی شان اور رتبہ کم ہونے والا نہیں ہے۔ لیکن ہر مسلمان جو واقعی پیغمبراکرمﷺسے محبت رکھتا ہے اُس کو چاہیے کہ ہر گستاخِ رسولﷺکو ایک ہی نظر سے دیکھے۔ہمارے رسولﷺ مسلک، فرقہ، گروہ سے بالاتر ہے اور ہونا چاہیے۔