Notice: Undefined index: geoplugin_countryName in /customers/5/8/f/urduqasid.se/httpd.www/wp-content/plugins/stylo-core/stylo-core.php on line 96
64

یوم اقبال کے حوالے سے اسٹاک ہولم میں تقریب کا انعقاد

اقبال آکادمی اسکینڈینیویا کے زیرِ اہتمام یومِ اقبال کے حوالے سے ایک تقریب کا انعقاد شیستا کے مقامی ہال میں کیا گیا۔ تقریب میں کثیر تعداد میں مردوخواتین نے شرکت کی۔نظامت کے فرائض عمران کھوکھر اور صدارت سفیرِ پاکستان جناب ظہور احمد نے کی۔تقریب کا آغاز اللّہ و ذلجلال کے بابرکت نام سے ہوا عبدالقدیر نے تلاوتِ قران اور انگریزی میں اسکا ترجمہ پیش کیا۔کاشف فرخ نے بارگاہِ رسالت میں نعتِ رسولِ مقبول پیش کی۔آغاز محفل میں نوشین شاہد نے خوبصورت اور جوشیلے انداز میں اقبال کا تصور پیش کر کے تو گویا تقریب میں نیا جوش پیدا کر دیا۔اردو قاصد کے مینجنگ ڈائریکٹر شہاب قادری نے ڈاکٹر عارف کسانہ کی تصانیف کے حوالے سے گفتگو کرتےہوئے کہا کہ کسانہ صاحب کی تصانیف میں فکرِ اقبال کی گہری چھاپ ہے اور بچوں کے لئے انکی تصانیف (جنکا 18 زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے )اخلاقی تربیت کے لئے مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔ پاکستان انفارمیشن اینڈ کلچرل سوسائیٹی کے صدر شہزاد انصاری جنھوں ان تمام کتابوں کا سرِ ورق بھی تیار کیا ہے نے بصارت سے محروم افراد کے لئے اس کتاب کی اشاعت اور اس میں آنے والے مسائل کا ذکر بھی کیا۔دیگر مقریرین جن میں دین چودہری،علامہ ظفر اقبال اور اسٹاک ہولم کے مشہورو معروف شاعر و ادیب جمیل احسن شامل تھے شاعر مشرق کے حوالے سے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ جمیل احسن صاحب نے تقریب کی مناسبت سے اپنا نیا کلام پیش کر کے حاظرین سے داد بھی وصول کی۔بوروس سے خاص طور تشریف لائی ہوئی مہمان آنیلی پیرشون (جنہوں نے بچوں کی کہانیاں کے سویڈش زبان میں ترجمہ کی نظر ثانی بھی کی ہے) اقبال کا پیغام خودی پر اپنی خیالات کا اظہار کیا۔ اوپسالہ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ہینس ورنر نے اپنے خوبصورت اندازِ اردو میں اقبال کی شاعری کے مختلف پہلوں پر روشنی ڈالی اور ساتھ ہی ساتھ اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ اقبال کی تصانیف کا سویڈش زبان میں بھی مواد ہونا چاہیے تاکہ سویڈیش معاشرہ بھی انکے افکار سے مستفید ہو سکے۔ایران کلچرل اتاشی سید ضیاء ہاشمی نے ایران میں اقبال کا مقام اور فکرِ اقبال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کی اقبال مشرق و مغرب دونوں کے شاعر ہیں۔اقبال آکادمی اسسکینڈنیویا کے چیئرمین ڈاکٹر عارف کسانہ نے یوم اقبال کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سلسلہ جو ہم نے پیغامِ اقبال کا شروع کیا ہے یہ اب جاری و ساری رہے گا اور افکارِ اقبال ہر جگہ تک پہنچائے جائیں گے۔ تقریب کے صدر سفیرِ پاکستان جناب ظہور احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ اقبال کا پیغام صرف چند ممالک تک محدود نہیں ہے بلکہ پوری دنیا کہ لئے ہے کیونکہ اقبال پوری دنیا کہ شاعر تھے انھوں نے اس بات کا بھی یقین دلایا کہ علامہ اقبال کی تصانیف کا سویڈش زبان میں ترجمے پر ضرور توجہ دی جائے گی اور سفارت خانہ اس میں ہر ممکن تعاون کرے گا۔
تقریب کے آخر میں علامہ ذاکر حسین نے دعائے خیر اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان،ڈاکٹر نزیر احمد اور سائیں رحمت علی کے لئے دعائے مغفرت کی۔ اس طرح ایک خوبصورت شام اس عہد کے ساتھ اختتام پزیر ہوئی کہ علامہ اقبال کا پیغام ہر جگہ تک پہنچے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں