29

”یہ بی بی سی لندن ہے ماہ پارہ صفدر سے خبریں سنیے..

”یہ بی بی سی لندن ہے ماہ پارہ صفدر سے خبریں سنیے.“ یہ وہ پہلا جملہ تھا جو ریڈیو کے ذریعے ہمارے کانوں میں پڑا.اس بات کو بھی لگ بھگ تیس برس کا عرصہ بیت گیاہے لیکن ریڈیو سننے کی جو عادت پڑی وہ آج تک برقرار ہے .گو کہ ہم فخر محسوس کرتے ہیں کہ آج ہم خود بھی ریڈیو کا حصہ ہیں .لیکن بچپن کے وہ دن نہیں بھولے جاتے جب سر شام ہم اپنے بابا (دادا ) کے ساتھ خبرنامے کے علاوہ شب نامہ اور سیربین سمیت مختلف پروگراموں کو سنا کرتے تھے حالانکہ ان پروگراموں میں کیا گفتگو کی جارہی ہے وہ ہماری سمجھ سے بالاتر تھی. یہاں تک کہ ان کے نام بھی کافی عرصے بعد ہماری سمجھ میں آئے لیکن اک سوچ اور تجسس بہت تھا کہ ایک انکل (رضا عابدی) اور اک آنٹی (ماہ پارہ) اس ریڈیو کے اندر سے کیسے بول رہے ہیں. تاہم وقت گزرنے کے ساتھ بات ہماری سمجھ میں آہی گئی اور جب پہلی بار ہم نے خود 2005میں مائیکرو فون پر کہا کہ
”آپ سن رہے ہیں مست ایف ایم 103اور موسم کی صورت حال کے ساتھ میں ہوں ارم جبیں“
تو یکایک وہی بچپن کا تجسس یاد آگیا اوراپنی بے وقوفی پر ہنسی بھی .
آج ریڈیو سے وابستگی کو 15برس کا عرصہ بیت چکا ہے جبکہ سامع کی حیثیت سے تو تیس برس.بس فرق اتنا ہے کہ ہم میڈیم ویوز(MW) اور شارٹ ویوز( SW) کی پر شور دنیا سے آگے بڑھ کر فریکوئنسی ماڈئیولیشن (FM) کے سریلے جہاں تک پہنچ گئے ہیں .جہاں معلومات اور باتوں کے تڑ کے کے ساتھ موسیقی سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں.
ملکی سطح پر معاشرے کی بہتری کے لئے ریڈیو کا کردار اپنی مثال آپ رہا ہے اور اس دوڑ میں” ْ قومی ریڈیو “ ہمیشہ سے سرفہرست ہے.ریڈیو پاکستان کے تعمیر ی کردار کو فراموش کرنا مشکل بھی ہے اور ناممکن بھی. اپنے بڑوں سے سنا ہے اور اب پڑھا بھی ہے کہ اعلان آزادی کے ساتھ ہی ریڈیو پاکستان نے اپنی ذمہ داری سنبھالی تھیں .نام ور ماہرین نشریات، ادیبوں اور شعراءکے طفیل طویل عرصے تک اپنے سننے والوں کے دلوں پر راج کیا۔ یہی نہیں بلکہ ایسے نادر اور نایاب ہیرے بھی تراشے جنہوں نے فنون لطیفہ کے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا نہ صرف منوایا بلکہ پاکستان کی پہچان بھی بنے اور شکر ہے کہ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے.
بلاشبہ ریڈیو وہ میڈیم ہے جسکی اہمیت اور افادیت سے کوئی انکار نہیں کرتا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میڈیم میں بھی نئے نئے تجربے ہورہے ہیں جیسے پہلے صوتی لہروں کے ذریعے ہم اسے سنا کرتے تھے لیکن اب انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہوئے ویب ریڈیو بھی اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں.
اس وقت ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں درجنوں ایف ایم چینلز نشر ہورہے ہیں.جہاں حالات حاضرہ سمیت دینی, معلوماتی ,تفریحی پروگراموں اور موسیقی کے ہر رنگ سنائی دینے کے علاوہ تعلیم و تربیت پر بھی زور دیا جاتا ہے. اب یہ سامع پر منحصر ہےکہ وہ کیاحاصل کرپاتا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں