Embed HTML not available.

کینسر فاؤنڈیشن کا سویڈش حکومت سے چینی ٹیکس لگانے کا مطالبہ

آدھا لیٹر سویڈش فانٹا میں چینی کے 18 کیوبز ہوتے ہیں جبکہ برطانیہ میں فانٹا کی مساوی مقدار میں چینی کے سات ٹکڑے ہوتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سافٹ ڈرنکس شوگر ٹیکس سے مشروط ہیں۔ کینسر فاؤنڈیشن اب یہ تجویز کررہا ہے کہ سویڈن زیادہ وزن اور موٹاپے کو کم کرنے کے لیے جوس اور سافٹ ڈرنک ٹیکس متعارف کروائے۔
تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ موٹاپا اور زیادہ وزن کا سیدھا تعلق شوگر ڈرنکس اور 13 مختلف کینسروں سے ہے۔ کینسر فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر جنرل کا ماننا ہے کہ صحت عامہ کو بہتر بنانے کا ایک قدم شوگر ٹیکس متعارف کروانا ہے ، جیسا کہ دوسرے ممالک نے بھی موٹاپا کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے شوگر ٹیکس لگایا ہے ۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ سویڈش سافٹ ڈرنکس میں دوسرے ممالک کے مقابلے زیادہ شوگر ہوتی ہے۔
سویڈن میں ، فن لینڈ اور ڈنمارک کے مقابلے ، فانٹا میں چینی کی مقدار زیادہ ہے۔برطانیہ میں ، اُن مشروبات جن میں چینی کی مقدار پانچ فیصد سے زیادہ ہوتی ہے اُن پر شوگرٹیکس متعارف کرایا گیا ہے ۔ جس کے نتیجے میں ، اکثریت مینوفیکچروں نے فروخت کرنے کے لئے مشروبات میں چینی کے مقدار کو کم کردیا ہے۔
موٹاپا ، ٹائپ 2 ضیابطیس اور دل کی بیماریاں ، سویڈن ہی نہیں پوری دنیا میں صحت عامہ کا بڑا مسئلہ ہے ۔
سویڈن ادارہِ صحت کی 2017 کی رپورٹ کے مطابق سویڈن موٹاپے سے درپیش بیماریوں کے علاج پر 70 بلین سالانہ خرچ کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں