ہماری زندگی کا ہر زاویہ ہماری سوچ سے جنم لیتا ہے۔ لیکن ہماری ذاتی زندگی ہو یا سماجی، ہماری توجہ کا مرکز سب سے پہلے منفی سوچ یا وہ حرکات و واقعات ہوتے ہیں جو ہمیں نا پسند ہوتے ہیں۔ اکثر افراد کو تو ہر چیز سے شکایت ہوتی ہے اور تعریف یا شکرگزاری سے محروم یہ افراد کبھی بھی مثبت انداز میں نہ دیکھتے ہیں اور نہ ہی سوچتے ہیں۔ یہ منفی سوچ اور حالات معمولی ہونے کے باوجود ان کے زندگی پر ایسا منفی اثر مرتب کرتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی میں ہونے والے خوشگوار واقعات و حالات کو ناشکری اور منفی سوچ کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔
معاملات کو مثبت انداز سے دیکھنا، ان کی قدر کرنا انسان میں شکر گزاری پیدا کرتا ہے۔ اور ہم باخوبی واقف ہیں کہ مسلمان کی پوری زندگی صبرو شکر سے عبارت ہے۔
زندگی میں مثبت پہلوؤں پر توجہ مرکوز کرنے کا ہر گز مطلب نہیں کہ ہم منفی پہلو کو نظر انداز کر رہے ہیں یا ان سے جان چھڑا رہے ہیں بلکہ اس طرح سے تو ہم زندگی میں ہر چیز کی درست سمت متعین کر سکتے ہیں اور ہم چیز کو اتنی ہی توجہ اور اہمیت دیتے ہیں جتنی انہیں چاہیے ہو نہ زیادہ، نہ کم کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم منفی چیزوں کو جتنی اہمیت اور توجہ دے رہے ہوتے ہیں وہ بلکل بھی اسکی حامل نہیں ہوتیں۔