Embed HTML not available.

سویڈن ایک فلاحی مملکت

سویڈن کی فیملی پالیسی تین حصوں پر مشتمل ہے، جس کی تفصیلات ہم نے اس سیریز کی پچھلی ویڈیو میں آپ تک پہچانے کی کوشش کی ہے۔ آج ہم سویڈش والدین کی آمدنی سے متعلق بیمہ پالیسی اور اس قانون کے نفاز کی وجہ اور اس کی تاریخ کا جائزہ لیں گے۔
سویڈن دنیا کا وہ پہلا ملک ہے جس نے سنہ 1974 میں والدین کی آمدنی سے متعلق بیمہ پالیسی متعارف کروائی ۔ جس کا مقصد والدین کو معاشی مشکلات کے بغیر بچے کے ساتھ ابتدائی خوبصورت ایام گزارنے کا موقع فراہم کرنا تھا۔
پوری دنیا میں سویڈن کی وجہ شہرت اس کا بہترین فلاحی نظام ہے۔ حالانکہ سویڈن کے اس معاشرے میں بھی کنبے کی معاشی ضروریات پوری کرنا صرف مرد کی ذمہ داری اور بچوں کی دیکھ بھال اور گھر کے کام کاج عورت کی ذمہ داری سمجھا جاتا تھا۔ 60 کی دہائی کے اوائل میں، سویڈن کے غیر منصفانہ اور فرسودہ خیالات ، روایات اور خاندانی نظام پر سوالات اٹھائے جانے لگے۔جس کے بعد ایک نئے سویڈش معاشرے کا تصور وضع ہونا شروع ہوا۔جس میں صنفی مساوات کے تصورات شامل تھے ، جو بالاآخر خاندان اور معاشرے میں نئے صنفی تعلقات میں بہتری کے لیے کارگر ثابت ہوئے۔ معاشرے میں صنفی مساوات کے اس مطالبے میں نہ صرف خواتین شامل تھیں بلکہ یہ مطالبہ بھی شامل تھا کہ مردوں کو بھی ان علاقوں میں برابری دی جانی چاہئے جو ان کے برابر نہیں سمجھے جاتے تھے ۔ مساوات پر مبنی ان حقوق کے اصول کا مقصد زیادہ سے زیادہ خواتین کے لئے کام کرنے کے مواقع پیدا کرنا اور مردوں کے لئے اپنے بچوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے مواقع پیدا کرنا تھا ۔ معاشرے میں برابری کے اس تصور کو کبھی کبھی سخت تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا ، لیکن 1968 کے بعد ، جب سویڈش حکومت نے اقوام متحدہ کے “معاشرے میں خواتین کی صورتحال “کے مطالبے پر ردعمل ظاہر کیا تو ، اس خیال کو اور بھی وسط ملی ۔
سویڈش سیاستدان اولوف پالمے نے استدلال پیش کیا کہ اصولی طور پر بچوں کی پرورش اور دیکھ بھال مردوں اور عورتوں کی یکساں ذمہ داری ہونی چاہئے۔ باپ اور بچے کے درمیان ابتدائی تعلق بچے کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس لیے قانون میں اس بات کی بھی گنجائش ہونی چاہیے کہ وہ باپ کو بھی یہ حق دے کہ وہ اپنے نوازئیدہ بچے کی دیکھ بھال کر سکے۔جس کے بعد صنفی مساوات کا یہ مطالبہ تیزی سے ایک مستحکم سیاسی وژن بن گیا۔یہ سیاسی وژن1974 میں والدین کی بیمہ پالیسی کے قیام کی بنیاد بنا، جس نے پہلی بار مردوں کو اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرنے کے لیے نوکری سے چھٹیاں لینے کا حق دیا ۔
سنہ 1992 میں مردوں کو اپنے بچوں کی دیکھ بھال کے لیے چھٹی لینے کی ترغیت دینے کی غرض سے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ جسے ہم آج پبلک ہیلتھ ایجنسی کے نام سے جانتے ہیں ، نے پاپا کوم ہیم کے نام سے اشاعتی مہم کا آغاز کیا۔ جس میں ان مردوں کے انٹرویو شائع کیے گئے جنہوں نے اس بیمہ پالیسی کا استعمال کیا تھا۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ سنہ 1979 میں جن مردوں نے اپنے بچوں کو سنبھالنے کے لیے چھٹیاں لیں تھیں اُن میں پاکستان سے تعلق رکھنے والا ایک کنبہ بھی شامل تھا۔ آفتاب انصاری کا تعلق پاکستان کے شہر کراچی سے ہے ۔ اس انٹرویو کی خاص بات یہ تھی کہ یہ کئی صفحات پر مشتمل تھا اور اس کی وجہ آفتاب انصاری صاحب کے اس جواب سے ظاہر ہو جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں مرد کا کام اپنے کنبے کی معاشی ضروریات پورا کرنا سمجھا جاتا ہے ، بچے سنبھالنا مکمل طور پر عورت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ مجھے بھی اپنے عزیز و اقارب اور دوستوں کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن اس چھ ماہ میں ایک بات میں جان گیا ہوں۔ عورت مرد سے زیادہ محنتی ہوتی ہےجبکہ مرد سست ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ نہ وہ اس بات پر غرور کرتی ہے اور نہ جتاتی ہے۔ ایک گھرمیں کرنے کے بہت کام ہوتے ہیں جس میں ہم مردوں کو خواتین کی مدد کرنا چاہیئے۔
جو قومیں معاشرے میں مثبت تبدیلی پر یقین رکھتی ہیں وہ ثقافت، روایات، مذاہب کو ڈھال نہیں بناتیں۔ عالمی اقتصادی فورم کے مطابق دنیا میں صنفی امتیاز کی کم ترین شرح سویڈن میں ہے۔ سویڈن میں یہ اصلاحات لاگو ہونے میں تقریباً 40 سال لگے، جس کے بعد سویڈن میں والدین کو برابر کے حقوق حاصل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں