18

ْتناؤسے نجات!

تناؤ ،جدید زمانے کا ایک خاص عنصر ہے۔ ہر فرد زندگی میں کبھی نہ کبھی تناؤ سے دوچار ضرور ہوتا ہے۔ لیکن ہم تناؤ کو اتنی جگہ نہیں دے سکتے کہ وہ ہماری زندگی بدل کے رکھ دے۔ زیادہ تناؤ صحت کے لئے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ تناؤ اس وقت محسوس ہوتا ہے جب زندگی کا توازن خراب ہوجاتا ہے اور ہم ااندر سے اس طرح خالی ہوجاتے ہیں جیسے گاڑی میں پٹرول ختم ہونے والا ہے یا فون کی بیٹری ختم ہونے والی ہے۔ آج کے زمانے میں ملازمت اور ذاتی زندگی کا توازن خطرے میں ہے۔ اگر دھیان نہ دیا جائے اور ہم اسی طرح بھاگم بھاگ کرتے رہیں تو جسمانی، ذہنی اور جذباتی اعتبار سے تھک کر چور ہوجائیں گے۔ یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ اپنی جسمانی، روحانی، ذہنی، جذباتی اور سماجی پہلوؤں کو دوبارہ چاق و چوبند بنائیں۔
تناؤ کی اہم وجوہات میں کسی عزیز کی وفات، طلاق، جدائی یا اذدواجی پریشانیاں، جیل جانا، مالی دشواریاں، نوکری کھو دینا یا سبکدوش ہونا، ظلم کا شکار ہونا، حاملہ ہونا یا زچگی کے مرحلے سے گذرنا، عنفوانِ شباب میں جسم میں تبدیلیاں رونما ہونا، نئے گھر میں یا نئی جگہ منتقل ہونا، گھر یا کام پر ذمہ داریوں میں اضافہ ہونا، شامل ہیں۔ نیز متوازن غذا کا احترام نہ کرنا، کم ورزش کرنا اور منفی خیالات اپنانے سے بھی تناؤ ہوتا ہے۔ تناؤ سے مزاج میں چڑچڑاپن آجاتا ہے۔ لوگ اپنے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں.بے چینی ہوتی ہے اورآدمی کام پر دھیان نہیں دے پاتا.تناؤ ہاضمے کے نظام کو بھی متاثر کرتاہے۔ گردن، پیٹ اور پیٹھ میں بھی درد ہوتا ہے۔
جب ایک شخص دنیا کے مطالبات کو پورا نہیں کرپاتا تو وہ تناؤ سے دوچار ہوجاتاہے۔ جب کام میں ملازم سے اس کی بساط یا صلاحیت سے زیادہ مانگ کی جاتی ہے یا اس کے پاس ایسے اوزار یا وسائل نہیں جس سے کام کو انجام دے سکے تو وہ تناؤ کا شکار ہوسکتا ہے۔ تناؤ کی وجوہات جاننے سے اس کو بہتر طریقے سے سنبھال سکتے ہیں۔ لمبے عرصے تک مسلسل کام کرتے رہنے سے جسم پر اثر ہوتا ہے۔ نیز کسی خطرناک چیز کے خوف سے جسمانی تناؤ پیدا ہوتا ہے۔ گھر یا کام کی فکر سے جذباتی تناؤ سامنے آتا ہے۔ ماحول سے بھی تناؤ پیدا کرتا ہے۔ اسکول، گھر یا نوکری پر زیادہ کام کرنے سے تناؤ پیدا ہوتا ہے۔جم غفیر، شور ارو خاندان یا نوکری سے پیدا ہونے والا دباؤ ،تناؤ کن ماحول کی شناخت ہے۔ زندہ رہنے کے لئے ہر جاندار میں ایک فطرتی ردعمل پایا جاتا ہے۔ جب آدمی کو خوف ہوتاہے کہ کوئی چیز اسے نقصان پہنچا سکتی ہے تو اس کے جسم میں اچانک زیادہ توانائی آجاتی ہے تاکہ وہ خطرناک حالات سے دور جا سکے یا اس کا مقابلہ کرسکے۔
کچھ لوگوں کے اندر تناؤ اس قدر رچ بس گیا ہے کہ وہ ان چیزوں کی فکر کرنے لگتے ہیں جن پر ان کا کوئی اختیار نہیں۔ تیز رفتار والی زندگی کی اس قدر عادت ہوجاتی ہے کہ لوگ اپنے آپ تناؤ کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں اور جب ان کا ماحول پرسکون ہو تو وہ تناؤ میں آجاتے ہیں۔
کئی لوگوں کو لگتا ہے کہ تناؤ ان کی گرفت سے باہر ہے۔ مختلف اشخاص کے لئے تناؤ الگ الگ معنی رکھتا ہے۔کسی کے لئے امتحان میں ناکام ہونا، کسی کے لئے ایک اہم میٹنگ میں دیر سے آنا،یا پھر تہوار کے دنوں میں کام کرنے سے کسی پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔
تناؤ دراصل وہ مرحلہ ہے جس میں ہم ان واقعات کا سامنا کرتے ہیں جو ہمیں چیلنج کرتے ہیں یا ہمارے لئے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ آدمی کے جذبات میں اضافہ ہوتا ہے، پسینے چھوٹتے ہیں اور دل کی حرکت میں اضافہ ہوتا ہے۔ بلند فشارِ خون کا خدشہ رہتا ہے۔ ہر فرد کی قوتِ برداشت الگ الگ ہوتی ہیں۔ ایک واقعہ کسی کے لئے تناؤ تو کسی کے لئے آگے جانے کا جذبہ ہو سکتا ہے۔ ماضی کا تجربہ بھی اس ضمن میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اپنے تناؤ کے معیار کا محاسبہ کرنا ضروری ہے۔ اکثر ایک شخص تناؤ میں مبتلا ہوتا ہے لیکن اسے اس بات کا علم نہیں ہوتا۔ اس کے آس پاس کے لوگ اس کے رویہ سے بتا سکتے ہیں کہ وہ شخص تناؤ میں ہے لیکن اسے خود معلوم نہیں ہوتا۔ دوسری بات، یہ جانیں کہ کون سے چیز آپ کو تناؤ دے رہی ہے۔ اس سے تناؤ کے مزید بڑھنے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔ کیا تناؤ کی وجہ پیسے ہیں، یا وقت پر کوئی کام ختم کرنا ہے؟ آخر تناؤ کس چیز سے پیدا ہورہا ہے۔ کبھی کبھی تناؤ کی اصل جڑ معلوم نہیں ہوپاتی۔ ایک ٹیم کا کپتان یہ سوچ سکتا ہے کہ وہ اپنی ٹیم کی ہار سے ناراض ہے جبکہ درحقیقت وہ اپنے بیٹے کے برتاؤ سے مایوس ہے۔ ایک ملازم کو لگ سکتا ہے کہ اسے زیادہ کام ہے جس کی وجہ سے اسے تناؤ ہوتا ہے لیکن اصل میں وہ اپنے مالک کو منع نہیں کرپاتا۔ غرض کہ مسائل کی صحیح شناخت ا شد ضروری ہے۔
صحت مند زندگی کی کوئی تلافی نہیں۔ متوازن غذا، ورزش، شراب، سگریٹ اور منشیات سے پرہیز،اس کی حدود ہیں۔جب نیند پوری نہ ہو تو کمزوری محسوس ہوتی ہے۔ آدمی صحیح فیصلہ نہیں کرپاتا اور چڑچڑاپن آجاتا ہے۔ جسم کا دفاعی نظام کمزور ہوجاتا ہے۔ آرام بہت ضروری ہے۔ افسوس کچھ لوگوں کو معلوم نہیں کہ آرام کیسے کیا جاتا ہے۔ کھل کر سانس لیں اور ایسے الفاظ اور تصاویر کا انتخاب کریں جن سے آرام پہنچے۔ اپنا حلقہ بنائیں جس سے آپ کو سہارا ملے۔ بیوی، رفیقِ کار اور مالک تناؤ کو کم کرنے میں معاون و مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح جنگ میں فوجی ایک دوسرے کو سہارا دیتے ہیں جس سے جسمانی اور نفسیاتی تناؤ کم ہوتا ہے۔ صحیح نظریہ سے چیزوں کی جانچ پرکھ کی جائے۔ امتحان میں کم نمبر کسی کے لئے مایوسی اور کسی دوسرے طالب علم کے لئے باعثِ راحت ہوسکتا ہے۔ جس کام میں ایک شخص زیادہ وقت اور محنت صرف کرتا ہے اسی کے حساب سے وہ اس کے نتیجے سے خوش یا بیزارہوتا ہے۔
کچھ لوگ تناؤ کو اس طریقے سے دیکھتے ہیں جس سے ان کا تناؤ اوربڑھ جاتا ہے۔ جن لوگوں نے زندگی میں زیادہ پریشانی اور صدمے برداشت کئے ہیں وہ سخت حالات سے زیادہ تناؤ محسوس کرتے ہیں۔ جو لوگ اپنے بارے میں نیک رائے رکھتے ہیں وہ حالات کے سامنے عاجز نہیں ہوتے۔تناؤ کے آنے سے پہلے اپنے جذبات پر دھیان دینا ضروری ہے۔ بہت سے لوگوں کو لگتا ہے کہ باہر کا ماحول ان کے جذبات اور رویے پر اثر کرتا ہے۔ لیکن ہمارے افکار اور خیالات اور خود کلامی تناؤ میں اضافہ کرنے میں یا کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
کچھ حادثہ ہوا۔ آپ کا خیال دوسروں کی طرف جاتا ہے کہ وہ آپ کے بارے میں کیا سوچیں گے۔ آپ کے احساسات اور رویہ میں خوف، شرمندگی، گھبراہٹ نمایاں ہوتی ہے۔ آپ کے افکار پر آپ کا اختیار ہے۔منفی کلام کو بدل کرجذبات پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ نتیجتاً تناؤ کم ہو جاتا ہے۔
اس کے علاوہ تناؤ کا سامنا کرنے کے موثر طریقے اور بھی ہیں۔ کھل کر سامنے والے کو اپنی بات بتائیں۔ خود کو تناؤ کن حالت سے دور رکھیں۔ وقتاً فوقتاً کام سے چھٹی لیں، چہل قدمی کے لئے نکلیں یا اچھی جگہ پرظہرانہ کے لئے جائیں۔ اپنے کام پر دھیان دیں۔ ایک آدھ بار کھیل کود میں حصہ لیناآپ کے لئے مفید ہوگا۔ تناؤ سے بچنے کے لئے مستحکم اور منظم طریقے سے کام کیا جائے۔ ورزش پر دھیان دیا جائے۔ اگر جسم میں درد ہو تو گرم پانی سے نہایا جائے۔ فطرت میں وقت گزاریں۔ باغبانی کریں، جانوروں کے ساتھ کھیلیں۔ گھر میں تازہ پھول رکھیں۔سمندر کے کنارے جائیں یا جنگل میں سیر کرنے جائیں۔ خریداری کریں، مساج کریں، چائے کی گرم پیالی لیں، موم بتی جلائیں اور دوستوں کے ساتھ گھل مل جائیں۔ ان کو اپنی پریشانی میں شریک کریں۔ ہنسی مذاق والی فلمیں دیکھیں۔ اپنوں کے ساتھ وقت گذاریں۔ ٹیکنالوجی سے کچھ وقت کے لئے دور رہیں۔
جب نظام اوقات میں توازن نہ ہو اور آرام و تفریح کے لئے وقت نہ نکالا جائے تب تناؤ پیدا ہوتا ہے۔تناؤ کو قابو میں رکھنے کے لئے اپنا خیال رکھیں۔ وقت نکال کر آرام کرناضروری ہے۔ رکنے سے اور آرام کرنے سے ہم زیادہ آگے نکل جاتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں