فیکٹری کا چکر لگا کر میں جونہی اپنے آفس کے شاندار کمرے میں آیا تو میری نظر سیدھی میز پر رکھے کلینڈر پر پڑی. جس میں جون کی چھ تاریخ نمایاں تھی. تاریخ پر نظر ڈالتے ہی چارلس نورمن کی صورت میری آنکھوں کے سامنے آگئی جس کی بدولت یہ دن میرے لئے ہمیشہ کے لئے یادگار بن گیاہے. میری زندگی میں چارلس نورمن اور اس دن کی اہمیت کیوں ہے؟ قارئین، یہ جاننے کے لئے آپ کو میری کہانی میری زبانی سننی پڑے گی.
یہ آج سے دس سال پہلے کی بات ہے میں عامر قریشی پاکستان کے ایک پسماندہ علاقے سے اس ترقی یافتہ مغربی یورپی ملک میں تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے آیا تھا. میرے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے والدین نے اپنی ساری جمع پونجی اس امید پر میرے اوپر صرف کردی تھی کہ میں باہر سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے جب بڑا افسر بن جاؤں گا تو پورے کنبے کے دلدر دور ہوجائیں گے.
جنوری سنہ دو ہزار آٹھ میں، میں یہاں پہلی مرتبہ آیا تھا. میرا روز کا معمول کچھ یوں تھا کہ صبح یونیورسٹی جانا، واپس آکر کھانے وغیرہ کی تیاری کرنا، کچھ دیر پڑھائی کرنا، سویرے سوجانا اور پھر آدھی رات کو اٹھ جانا. اپنے ذاتی اخراجات پورے کرنے کے لئے میں گھر گھر اخبار ڈالنے کا کام کرتا تھا جس کے لئے مجھے آدھی رات کو اٹھ کرجانا پڑتا تھا. یہ ایک بہت سخت نوکری تھی. خاص کر سردیوں کے زمانے میں کہ گرم لحاف سے نکلنا ہی کسی آزمائش سے کم نہیں تھا چہ جائیکہ گھر سے باہر جانا لیکن میرے لئے یہ نوکری میری بقا کا باعث تھی.
زندگی کے شب و وروز اسی طرح گزر رہے تھے کہ میری زندگی میں وہ یادگار ترین دن آگیا جس دن میری چارلس سے پہلی ملاقات ہوئی. وہ جون کی چھ تاریخ تھی. مجھے یہاں آئے ایک سال سے اوپر ہوچکا تھا لیکن ابھی تک میرا دل یہاں پوری طرح نہیں لگ پایا تھا. حالانکہ مغربی یورپ کے اس شہر کی خوبصورتی ہر موسم میں اپنی مثال آپ ہی دکھتی ہے مگر موسم بہار میں تو ہر سو پھیلے سبزے اور رنگ برنگے پھولوں کے باعث منظر ہی کچھ اور ہوتا ہے. بہار کی آمد کے ساتھ ہی یہاں نہ صرف زمین اپنا چولا بدل لیتی ہے بلکہ یہاں رہنے والوں کے چہروں پر بھی خوشی و مسرت کا عکس دکھائی دینے لگتا ہے لیکن کیا کیجیئے کہ میری آنکھوں میں تو میرے اپنے گھر کا کچا آنگن بسا ہوا تھا. جہاں سہ پہر ہوتے ہی میری امی پانی کا چھڑکاؤ کردیتی تھیں جس سے ہر طرف بھینی بھینی مٹی کی خوشبو پھیل جاتی تھی. صحن میں ابا کے ہاتھ کے لگے بیلے، موتیا اور ہار سنگھار کے پھولوں کی خوشبو مجھے اپنے وجود میں محسوس ہوتی تھی جن کو چن کر میں مٹھی میں بھر کرسونگھتا رہتا تھا اور میری چھوٹی بہن ان کے ہار بنا کر پانی کے گھڑے پر ڈال دیتی تھی. صحن کے کونے میں کھڑا وہ سالوں پرانا بوڑھا برگد بھی پردیس میں ہردم میرے ساتھ رہتا تھا کہ جس کی چھاؤں میں پڑی چارپائی پر لیٹنے کا مزہ ہی کچھ اور تھا.
یہاں میں ہوسٹل کے جس کمرے میں رہتا تھا اس میں ایک بالکونی بھی میسر نہیں تھی البتہ مسہری کے سرہانے ایک دو پٹ کی کھڑکی تھی جو سامنے سڑک پر کھلتی تھی. سڑک کے اُس پار ایک خاصہ بڑا عوامی پارک تھا جس میں گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی علاقہ مکین اور ہوسٹل میں رہنے والے طالبعلم روز ہی بیٹھے دکھائی دیتے تھے.
یہ چھ جون سنہ دو ہزار نو کی بات ہے. اُن دنوں یونیورسٹی میں امتحانات سے فراغت کے بعد تعطیلات چل رہی تھیں. میرے دوست اور کئی ہم جماعت چھٹی منانے اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوچکے تھے اور میں پیسے بچا کر گھر بھیجنے کی خاطر وہاں رکا ہوا تھا. اس دن میں تنہائی سے اکتا کر کھڑکی میں کھڑا تھا کہ میری نظر پارک میں آتے جاتے لوگوں پر پڑی اور اسی دم میں نے بھی پارک کی کھلی فضا میں جاکر بیٹھنے کا فیصلہ کیا.
میں نے تھرموس میں چائے ڈالی اور رضا علی عابدی کی ”شیر دریا” لیکر پارک میں چلا آیا. پارک میں بچے، بوڑھے جوان سب ہی موجود تھے اور گہما گہمی کا سماں تھا. میں لوگوں کے درمیان سے گزرتا ہوا کسی پرسکون کونے کی تلاش میں چاروں طرف دیکھ رہا تھا کہ نشیب میں ایک بنچ پر مجھے ایک بوڑھا شخص اکیلے بیٹھا دکھائی دیا. مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ سوائے اس ایک بنچ کے کوئی بنچ ایسی نہیں تھی کہ جس میں کوئی اکیلے بیٹھا ہوا ہو. میں تیز تیز قدموں سے آگے بڑھ کر وہاں پہنچا اور مسکرا کر اس بوڑھے کو دیکھتے ہوئے ہیلو کہہ کر تھوڑے فاصلے پر بیٹھ گیا.
میرے بیٹھتے ہی آس پاس بیٹھے کئی لوگوں نے مجھے حیرت بھری نظروں سے دیکھا گویا میں نے کوئی انوکھا کام کردیا ہو. برابر میں بیٹھے بوڑھے نے اچٹتی ہوئی سپاٹ نظر سے مجھے دیکھا اور میرے سلام کا جواب دیئے بغیر سامنے بنے ہوئے تالاب میں بطخوں کو تیرتے ہوئے دیکھنے لگا. میں نے تھرموس سے چائے نکالی اور اخلاقی مظاہرے کے طور پر بوڑھے سے پوچھا کہ
” آپ چائے پینا پسند کریں گے؟”
اس نے میری بات سنی ان سنی کردی اور زرا سا رخ موڑ کر بیٹھ گیا جیسے اسے میری بات پسند نہ آئی ہو. میں بھی سر جھٹک کر کتاب پڑھنے میں مشغول ہوگیا. تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ مجھے محسوس ہوا کہ برابر میں بیٹھا بوڑھا شخص مجھے دیکھ رہا ہے. میں نے گردن موڑ کر اس کی سمت دیکھا تو نظریں ملنے پر وہ کچھ گھبرا سا گیا اور اچانک اٹھ کر ایک جانب چل دیا.
اس دن کے بعد میں روز ہی پارک میں جانے لگا تھا اور پتہ نہیں کیوں مجھے نشیب میں بنی اس بنچ پر بیٹھنا بھی اچھا لگنے لگا تھا جس پر کبھی بھی اس بوڑھے شخص کے علاوہ کوئی نہیں بیٹھتا تھا. وہ ہمیشہ مجھ سے پہلے وہاں موجود ہوتا تھا مگر مجھ سے کوئی بات نہیں کرتا تھا البتہ کن اکھیوں سے میری جانب دیکھتا رہتا تھا. اسی معمول میں ایک ہفتہ گزر گیا.
ایک دن بڑی عجیب بات ہوئی میں بنچ پر حسب معمول بیٹھا اور کتاب نکال ہی رہا تھا کہ بوڑھے نے میری طرف دیکھا اور انگریزی زبان میں بولا
” میں چارلس نورمن ہوں.”
میں نے جلدی سے کہا!
” میرا نام عامر قریشی ہے اور میں پاکستان سے یہاں تعلیم حاصل کرنے آیا ہوں.”
” اچھا تو تم پاکستانی ہو ”
یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگیا اور سامنے تالاب پر نظریں جما دی. چند لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ پھر گویا ہوا اور دھیمے لہجے میں کہنے لگا!
” تم پاکستان سے آئے ہو مگر اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ تم کہاں سے ہو، اہم بات یہ ہے کہ تم ابھی یہاں ہو.”
میں نے سر ہلا کر بلاوجہ اس کی تائید کی اور بات بڑھانے کی خاطر اس سے کہا کہ ہاں یہ ملک بہت خوبصورت ہے. یہ پارک بھی بہت اچھا اور خوبصورت ہے. یہاں بیٹھنا اچھا لگتا ہے. تم شاید اسی لئے یہاں روز آتے ہو؟
اس نے ہنکاری بھری اور کہنے لگا!
” تمہارے نزدیک خوبصورتی کیا ہے؟”
میں نے کہا!
” ہر وہ چیز جو آنکھوں کو بھلی لگے.”
اس پر وہ بولا!
” کیا خوبصورتی یہ نہیں کہ جو چیز جس مقصد کے لئے بنائی گئی ہو وہ اس پر پوری اترے؟”
میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی جانب دیکھا اور کچھ کہنا ہی چاہتا تھا کہ وہ اٹھ کر چل دیا. دو قدم آگے جاکر وہ مڑا اور کہنے لگا!
” ہم کل ملیں گے.”
اگلے دن جب میں پارک پہنچا تو وہ بنچ پر آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا. نہ جانے کس وقت وہ یہاں آتا تھا. میرے بیٹھتے ہی وہ کہنے لگا!
” آج تم اپنا چائے کا تھرموس نہیں لائے؟”
میں نے حیرت سے اس کی جانب دیکھا اور مسکرا کر کہا!
” نہیں، دراصل چائے کی پتی ختم ہوگئی تھی لیکن مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ تم اتنے بھی انجان نہیں ہو مجھ سے جتنا میں سمجھتا تھا.”
اس نے سامنے پیروں کے پاس پڑے تھیلے میں سے ایک تھرموس اور دوکپ نکالے اور اس میں کافی انڈیل کر ایک کپ میری جانب بڑھا دیا. میں نے شکریہ کہہ کر اس سے کپ لے لیا. کافی پینے کے دوران میں کئی بار اس امید پر اس کی جانب دیکھتا رہا کہ شاید وہ کوئی اور بات کرے لیکن وہ پورے انہماک سے کافی پینے اور سامنے تالاب میں بطخوں کو دیکھنے میں مصروف تھا.
اس کے اس طرح نظرانداز کردیئے جانے پر میں بھی رخ موڑ کر پارک میں موجود رنگ برنگے پھولوں، اونچے اونچے درختوں اور اچھل کود کرتے پیارے پیارے بچوں کو دیکھنے میں لگ گیا. میں اس خوبصورت منظر میں محو تھا کہ اچانک چارلس نورمن نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہنے لگا!
” کسی بھی چیز کی خوبصورتی یہ ہے کہ جو چیز جس مقصد کے لئے بنی وہ اس پر پوری اترے. کیا تم سقراط سے واقف ہو؟”
پھر میرے جواب کا انتظار کیے بغیر کہنے لگا!
” سقراط کو بہت کم لوگ جانتے ہیں ہاں واقف شاید بہت سے ہوں.”
میں نے جلدی سے کہا!
” میں جانتا ہوں، سقراط ایک یونانی فلسفی تھا جو 470 قبل مسیح میں ایتھنز میں پیدا ہوا تھا. اس کے باپ کا نام سوفرونسکس اور ماں کا فیتے ریتی تھا اور اس کاباپ مجسمہ ساز اور ماں دایہ تھی اور….
” اچھا تو تم بھی سقراط سے واقف ہو.”
میری بات پوری ہونے سے پہلے ہی اس نے مجھے ٹوکا اور پھر کہنے لگا!
” سقراط کی نظر میں ہر چیز میں خوبصورتی ہے بس ہمیں اس ماخذ کے بارے میں جاننے کی ضرورت ہے جو خوبصورتی کو آشکار کرتی ہے. کیا تم نے کبھی کمہار کو چاک پر برتن بناتے دیکھا ہے کہ کس طرح وہ چاک کو گھما گھما کر مٹی کے لوندے میں چھپا وہ خوبصورت برتن نکال لیتا ہے. جانتے ہو؟ سقراط کو ایتھنز کا بدصورت ترین شخص کہا جاتا تھا اور وہ ہمیشہ اپنے لئے یہ دعا مانگا کرتا تھا کہ خدا میرے باطن کو خوبصورت بنادے.”
اس دن میں نے اس سے سقراط اور اس کے فلسفے کے بارے میں بہت کچھ جانا. پھر تو یہ ہمارا معمول ہی بن گیا. ہم ہر روز گھنٹوں مختلف موضوعات پر باتیں کیا کرتے. معیشت، سیاست، تاریخ، جغرافیہ سائنس، ادب اور فلسفہ، کون سا ایسا موضوع تھا جس پر ہم بات نہیں کرتے تھے. اس کی صحبت مجھے بہت مزہ دیتی تھی حالانکہ ہماری عمروں میں بہت فرق تھا. وہ ہمیشہ کہا کرتا تھا!
” عمروں کے فرق سے کچھ نہیں ہوتا عقلوں میں فرق مشکل پیدا کردیتی ہے.”
بس اس کی ایک بات مجھے پریشان کردیتی تھی. وہ یہ کہ وہ کبھی بھی اپنے متعلق کچھ نہیں بتاتا تھا اور نہ ہی میرے بارے میں کچھ جاننے کا متمنی ہوتا تھا. اس کا یہ انداز بھی عجیب تھا کہ وہ اچانک جانے کے لئے کھڑا ہوجاتا اور پھر یہ کہ کر چل دیتا کہ
” ہم کل ملیں گے.”
یہ سلسلہ ڈیڑھ ماہ تک یونہی چلتا رہا. اس دوران میں نے اسے کھانے کی دعوت بھی دی مگر اس نے معذرت کرلی اور کبھی یوں بھی ہوا کہ میں نے چاہا کہ اس کے ساتھ اس کے گھر تک چلوں مگر اس نے خاصی رکھائی سے منع کردیا. یہاں تک کہ کبھی اس نے میری پیش کی ہوئی چائے بھی نہیں پی حالانکہ میں کئی باراس کی لائی ہوئی کافی سے مستفید ہوتا رہاتھا.
یہ جولائی کے آخری دنوں کی بات تھی کہ میں حسب معمول پارک میں پہنچا تو وہ مجھے کہیں نظر نہیں آیا. اتنے عرصے میں آج پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ وہ مجھ سے پہلے موجود نہیں تھا. میں دو گھنٹہ تک وہاں بیٹھا اس کا انتظار کرتا رہا اور پھر مایوس ہوکر واپس ہوسٹل چلا آیا.
اگلے دن میں وقت مقررہ سے پہلے ہی پارک چلا آیا مگر وہ اس دن بھی نہیں آیا.
تیسرے دن میں نے تشویش کی حالت میں پارک میں بیٹھے لوگوں سے اس کی بابت دریافت کیا تو سب نے لاعلمی کا اظہار کیا. پاس ہی بیٹھی ایک ادھیڑ عمر عورت کہنے لگی!
” چارلس ایک تنہائی پسند انسان ہے. وہ ادھر سامنے والی عمارت میں پہلی منزل پر رہتا ہے اور کئی سالوں سے میرا پڑوسی ہے لیکن وہ کسی سے بھی ملنا جلنا پسند نہیں کرتا ہے. خاص طور پر وہ باہر والوں سے تو بالکل بھی میل جول پسند نہیں کرتا ہے. مجھے تو بڑی حیرت ہے کہ وہ کیسے یہاں تمہارے ساتھ بیٹھ کرگھنٹوں تم سے باتیں کرتا رہا ہے. اس سے پہلے اس نے ایسا کبھی نہیں کیا شاید تم میں کوئی خاص بات ہے.”
میں نے مسکرا کر اس کی جانب دیکھ کر اس کا شکریہ ادا کیا اور یہ سوچتا ہوا آگے بڑھ گیا کہ تم اس کی کئی سالوں سے پڑوسی ہونے کے باوجود شاید اس سے صرف واقف ہی ہو اس کے بارے میں جانتی نہیں ہو.
اگلے دن میں تازہ پھولوں کا گلدستہ لیکر اس عمارت کی طرف چل پڑا جہاں چارلس کی رہائش تھی. داخلی دروازے پر کھڑے ہوکر مکینوں کے ناموں کی تختی پر اس کا نام تلاش کیا اور اس کے ساتھ لگی گھنٹی بجادی. چند لمحے گزرنے کے بعد ایک نسوانی آواز سنائی دی!
”دروازے پر کون ہے؟”
میں نے جلدی سے اسپیکر کے قریب جاکر اپنا تعارف کرایا اور چارلس سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی. دوسری جانب کچھ دیر خاموشی طاری رہی اور پھر وہی آواز سنائی دی!
”میں معذرت چاہتی ہوں کہ محترم چارلس اس وقت آپ سے ملاقات کے خواہاں نہیں ہیں.”
اور اس کے بعد رابطہ منقطع ہوگیا.
یہ الفاظ سن کر مجھے تو جیسے سکتہ ہوگیا. کیا واقعی اس نے مجھ سے ملنے سے انکار کردیا. ہاں یہ ٹھیک ہے کہ ہمارے مراسم بہت پرانے نہیں ہیں مگر ہم بہت دنوں سے اچھے دوستوں کی مانند تو ہیں. کیا وہ پڑوسی عورت صحیح کہتی ہے کہ وہ لوگوں سے اور خاص طور پر باہر والوں سے میل جول پسند نہیں کرتا ہے؟
یہ سب سوچتے ہوئے میں خاصہ دلبرداشتہ ہوکر وہاں سے واپس ہولیا. ہوسٹل پہنچنے پر نیچے لاؤنج میں مجھے ہوسٹل کی منتظم مس ہیلینا مل گئیں. وہ ایک امریکی خاتون تھیں اور یہاں تیس سال پہلے شادی کرکے اپنے شوہر کے ساتھ آئی تھیں. گو کہ وہ ہوسٹل کے رہنے والوں میں ایک سخت مزاج خاتون کے طور پر مشہور تھیں مگر میرے ساتھ ہمیشہ مشفق رہتی تھیں. میرا حال احوال پوچھتی رہتی تھیں اور اکثر مجھے کافی کے لئے بھی مدعو کرتی رہتی تھیں. میں نے مس ہیلینا کو ہیلو کہا اور ان کی خیریت دریافت کرتے ہوئے ان سے پوچھا کہ
” کیا میں آپ سے کچھ دیر بات کرسکتا ہوں؟”
”کیوں نہیں، وہ بولیں! مجھے تمہارے ساتھ بات کرکے ہمیشہ اچھا لگتا ہے آؤ وہاں بیٹھ کربات کرتے ہیں.”
انھوں نے سامنے رکھے صوفوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا. چند رسمی گفتگو کے بعد میں نے ان سے پوچھا! ”مجھے یہ بتائیے کہ کیا یہاں کے لوگ ہم باہر والوں کو اور خاص طور پر ایشیائی لوگوں کو پسند نہیں کرتے؟”
وہ مسکرائیں اور کہنے لگی!
”ایسا کیوں کہا تم نے؟”
میں نے چارلس کی بابت ان کو بتایا تو وہ کہنے لگیں!
” میں کسی انفرادی شخص کے بارے میں تو نہیں کہہ سکتی لیکن اپنے پیشے کے لحاظ سے میرا مختلف لوگوں سے ملنا جلنارہتا ہے. میرا خیال ہے کہ یہاں لوگ منافقت نہیں کرتے اگر چارلس تم کو ناپسند کرتا تو کبھی تم سے بات چیت نہ کرتا، ضرور کوئی اور بات ہے. تم دوبارہ جاکر معلوم کرنا.”
میں ان کا شکریہ ادا کرکے کمرے میں آگیا.
نامعلوم کیوں مگر رات بھر مجھے چارلس کا ہی خیال ستاتا رہا. اگلے دن صبح سویرے ہی میں اس کے گھر پہنچ گیا تو دیکھا کہ ایک ایمبولینس اسی وقت وہاں سے روانہ ہوئی. میں ابھی ایمبولینس کو جاتے دیکھ ہی رہاتھا کہ اتنے میں داخلی دروازہ کھلا اور ایک جوان عورت باہر آئی اور مجھے مخاطب کرکے کہنے لگی!
”کیا آپ کا نام عامر ہے؟”
میں نے جلدی سے کہا!
” جی ہاں مگر آپ مجھے کیسے جانتی ہیں؟”
وہ کہنے لگی!
” میں محترم چارلس نورمن کی نرس تھی اور میں ہی ان کی دیکھ بھال کیا کرتی تھی خیر! آپ کے لئے انہوں نے ایک پیغام دیا تھا.”
” میرے لئے! کہاں ہے؟”
میں نے بے صبری سے کہا. اس نے ایک سادہ لفافہ میری طرف بڑھایا اور بولی!
” انہیں یقین تھا کہ آپ ضرور آئیں گے.”
میں نے شکریہ کہہ کر جلدی سے لفافہ اس کے ہاتھ سے لے لیا لے اور بیقراری سے کھولا تو اندر ایک چھوٹا سا کاغذ تھا جس میں لکھا تھا!
” اب ہم نہیں ملیں گے ”.
میں نے کاغذ تہہ کرکے لفافے میں رکھا اور لفافے کو جیب میں رکھ لیا. میری سمجھ میں نہیں آرہاتھا کہ ہمارے درمیان یہ کیسا تعلق ہے؟ میں اس کے لئے کیوں اتنا پریشان ہورہا ہوں؟ اور وہ جس نے کبھی مجھے اپنے گھر نہیں بلایا اور کل تو ملنے سے بھی انکار کردیا تھا آج اُسے میرے آنے کا یقین کیوں تھا؟
میں بوجھل دل کے ساتھ ہوسٹل واپس آگیا. کوشش کے باوجود میں چارلس کو بھلا نہ پارہا تھا. کئی مرتبہ پارک میں اس امید کے ساتھ گیا کہ شاید وہ وہاں بیٹھا ہو.اس کے گھر کے آس پاس بھی لوگوں سے پوچھا تو تو انہیں بھی کچھ خاص معلومات نہیں تھی سوائے اس کے کہ وہ اب یہاں نہیں ہے.
گرمیاں رخصت ہورہی تھیں اور سرد ہوائیں چلنے لگی تھیں. میرے امتحانات میں ایک ماہ سے بھی کم وقت رہ گیا تھا اور اس کے بعد مجھے واپس پاکستان چلے جانا تھا لہذا میں نے اپنا سارا دھیان پڑھائی کی جانب موڑ لیا.
ایک دن یونیورسٹی سے آکر میں کھانا کھانے بیٹھا ہی تھا کہ میرے فون کی گھنٹی بجی. میرے ہیلو کہنے پر دوسری جانب سے ایک مردانہ آواز آئی کہ وہ برٹل سیون سون بول رہا ہے اور پھر اس نے پوچھا!
” کیا آپ عامر قریشی بات کررہے ہیں؟”
میں نے کہا!
” جی بول رہا ہوں.”
اس پر وہ بولا!
” ہمارے موکل محترم چارلس نورمن نے آپ کے نام ایک وصیت چھوڑی ہے.”
” میرے نام وصیت؟”
میں نے حیرانگی سے کہا.
” جی ہاں کیا آپ کل دس بجے ہمارے دفتر آسکتے ہیں؟”
اس نے پوچھا.
میں نے کہا!
” جی میں پہنچ جاؤں گا. آپ پتا بتائیے؟”
اگلے دن جب میں وکیل کے دفتر پہنچا تو اسے اپنا منتظرپایا. اس نے مسکراتے ہوئے مجھ سے مصاٍفحہ کیا اور مجھے بیٹھنے کو کرسی پیش کی. اس سے پہلے کہ میں کچھ پوچھتا اس نے میرے سامنے ایک بھورے رنگ کا چھوٹا سا بریف کیس رکھ دیا اور کہنے لگا!
” ہمارے موکل محترم چارلس نورمن نے اس کا وارث آپ کو قرار دیا ہے. کچھ قانونی کاروائی کے بعد یہ سب کچھ آپ کے حوالے کردیا جائے گا.”
ساتھ ہی اس نے ایک سادہ لفافہ میری جانب بڑھایا کہ چارلس کی جانب سے اس میں میرے لئے کوئی پیغام ہے. میں نے کانپتے ہاتھوں سے لفافہ اس سے لیکر کوٹ کی جیب میں ڈال لیا.
ہوسٹل پہنچ کر میں نے جلدی سے بریف کیس کھولا تو اندر چند کاغذات اور دو پرانی تصویریں نظر آئیں. ایک میں وہ ایک بوڑھے مرد اور عورت کے ساتھ کھڑا تھا جس کے پیچھے لکھا تھا ” والدین کے ساتھ ”جبکہ دوسری میں وہ ایک جوان عورت کے ساتھ کھڑا تھا اور اس پر لکھا تھا ” اپنی بیوی کے ساتھ.”
میں نے فائل نکالی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ اس کی میڈیکل رپورٹیں تھیں. جن کے مطابق وہ ایک جان لیوا بیماری کا شکار تھا اور اس کی زندگی کے دن بہت کم تھے.
اچانک مجھے اس لفافے کا خیال آیا جو برٹل نے مجھے دیا تھا اور میں نے کوٹ کی جیب میں ڈال دیا تھا. میں نے لفافہ کھولا تو اس میں ایک اچھی خاصی رقم کا بینک کا چیک اور ایک مڑا ہوا کاغذ پڑا تھا. میں نے کاغذ کھولا تو اس میں لکھا تھا
” ہم اب کبھی نہیں ملیں گے مگر ہمارا تعلق نہیں ٹوٹے گا.”