اس کے چہرے پر اداسی چیخ چیخ کر اعلان کررہی تھی کہ آج اس کا دل زخموں سے کرچی کرچی ہے. پانچ منٹ کی طویل خاموشی کے بعد وہ گویا ہوا
”دیکھو رضیہ میں جانتا ہوں یہ سب غلط ہے اور سراسر زیادتی ہے….مگر میرے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں. میرے وہ تمام وعدے اور قسمیں جھوٹی ثابت ہوئیں جن کے میں نے تم سے دعوے کیے تھے … لیکن تم حقیقت سے بہ خوبی آشنا ہو اور یہ بھی جانتی ہو کہ میں قسمت کے آگے لاچار, مجبور اور بے بس ہوں…زندگی نے ہمیں اس موڑ پر لاکھڑا کیا ہے جہاں غم جدائی کے سوا کوئی اور چارہ نہیں…..لیکن اس بات کو ﺫہن میں نہ لانا کہ تم میں کوئی خامی تھی….یا مجھے تم سے محبت نہیں تھی …. تمہاری محبت نے تو مجھے جینا سکھایا ہے…. تمہارے کیے ہوئے احسانات کے انبار میں زندگی بھر نہیں بھلا سکتا اور نہ ہی مداوا کر سکتا ہوں…لیکن اتنا ضرور کہنا ہے کہ میں نے تم سے سچی محبت کی مگر نبھا نہ سکا…میں زند گی بھر تمھیں بھلا نہیں سکتا. تمہارے ساتھ گزرا ایک ایک لمحہ اور تمام یادیں میرے جینے کی وجہ ہیں. ہوسکے تو اس محبت کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی بھول سمجھ کر مجھے معاف کر دینا اور مجھے بھول کر نئی زندگی کا آغاز کرنا.“
امجد دکھ سے لبریز لہجے میں بول رہا تھا۔
"رضیہ آج سے تم آزاد ہو خدا تمھیں زندگی کی ہر خوشی سے نوازے اپنا خیال رکھنا. میری مجبوری کو سمجھنے کی کوشش کرنا.“
” مرد کبھی مجبور نہیں ہوتے امجد۔۔۔۔اگر وہ چاہیں۔“
رضیہ کے لبوں کا قفل ٹوٹا۔
”میرے گھر والے میری محبت کے خلاف ہیں رضیہ، میں کیسے یقین دلاٶں تمھیں! میری محبت کھوٹ سے پاک تھی اور ہے۔“
وہ دکھ سے بولا۔
رضیہ نے آخری بار اس کی دکھ بھری آنکھوں میں جھانکا اور چلی گئی۔
اب یہ داستان ختم ہو چُکی تھی اور رضیہ نے بھی کتاب بند کر دی. محبت ایک بار پھر مجبوریوں کے سامنے ہار گٸی تھی.