63

سویڈن کو تنازعہ کشمیر پر آواز اٹھانا ہوگی

جب گذشتہ سال اپریل میں ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی تشریف لائے تھے، تو کشمیر میں ہونے والے مظالم اور زیادتی جیسے اہم معاملے کو بالکل نظر انداز کیا گیا۔ اب سویڈن کو اقوام متحدہ اور یورپی یونین سے مطالبہ کرنا چاہئے کہ وہ کشمیر کے تنازعہ پر اپنا کردار ادا کرے. سونسکا داگبلاگت میں پولیٹیکل سائنس اور بین الاقوامی تعلقات کی ایسوسی ایٹ پروفیسر، یما برنلنڈ.

وہ اپنے کالم میں لکھتی ہیں کہ 70 سال سے جس پالیسی پر باقاعدگی سے عمل کیا جارہا تھا، ہندستان نے اس خطے کو مزید الگ تھلگ کرنے اور اس پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کردیا ہے، کئی سالوں کے دوران ، ناقدین کو خاموش کردیا گیا اور تحریک آزادی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ برنلنڈ کا ماننا ہے، پچھلے کئی سالوں میں ایک اندازے کے مطابق 70،000 افراد مارے جاچکے ہیں اور بہت سے افراد تشدد ، عصمت دری کا شکار اور لاپتہ ہوچکے ہیں۔
وہ لکھتی ہیں ، “ہماری حکومت خاموشی سے نہیں دیکھ سکتی جب کہ بھارت کشمیر میں انسانی حقوق اور جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی کررہا ہے۔”

سویڈش میں لکھے گئے یما برنلنڈ کا کالم آپ یہاں پڑھ ساکتے ہیں. https://www.svd.se/sverige-far-inte-vara-tyst-om-overgreppen-i-kashmir

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں