گزشتہ کچھ عرصے تک سرجیکل اسٹرائیک کا لفظ میڈیا ،اخبارات اور خاص طور پر لوگوں کی گفتگو کا مرکز۔ بنا رہا ہر کوئی اس حوالے سے اپنی بولتی بولتا نظر آیا اور جیسا کہ ہوتا ہے رات گئی تو بات گئی کے مقولے پر عمل کرتے ہوئے اپنی زندگی میں مگن.
لیکن ان سب باتوں میں غور طلب بات یہ ہے کہ کسی نے بھی ایک بھارتی جرنیل کے ایک بیان پر غور نہیں کیا جس میں انھوں نے کہا ” اب سرجیکل اسٹرائیک دوسری قسم کی ہوگی ” یہ دوسری قسم کیا ہے آئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں.
پاکستان ایک زرعی ملک ہے یعنی جس کی معیشت کا دارومدار زراعت پر ہے .کپاس ،چاول اور آم یہ تینوں وہ اشیاء ہیں جن کی وجہ سے دنیا میں پاکستان اپنا ایک الگ مقام رکھتا ہے یعنی یہ تینوں چیزیں پاکستان میں برآمدات کا ایک بڑا حصہ ہیں یوں تو کھیلوں کا سامان اور دوسری کئی اور چیزیں بھی ہیں لیکن ان تینوں کو الگ شمار کیا جاتا ہے گزشتہ چند سالوں میں ہونے والی بارشوں اور سیلابوں کی وجہ سے کپاس اور چاول کی فصلوں پر بہت فرق پڑا ہے جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں پاکستانی چاول کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے .قیمتوں میں اضافے کے باوجود پاکستانی چاول کی مانگ میں کمی نہیں آئی جس کا فائدہ بھارت نے کچھ اس طرح سے اٹھانے کی کوشش کی کہ اپنے چاول کی قیمت گرا کر انٹرنیشنل مارکیٹ میں داخل کیا مگر اللہ کا کرنا کچھ اس طرح ہوا کے غیر متوازن معیار اور کچھ کیمیائی شواہد کی وجہ سے جلد ہی مارکیٹ سے آوٹ ہونا پڑا .پھر آئی بات آموں کی یورپ میں پاکستانی آموں کی ایک بہت بڑی منڈی ہے ہر آنے والے سیزن میں آم پاکستان کو زرمبادلہ کما کر دینے کا ایک بڑا ذریعہ ہیں لیکن بھارت نے اس جگہ پر بھی اپنا اثر دکھانے کی کوشش شروع کردی اس سال اپریل کے آخر اور مئی کے اوائل سے ہی پاکستانی آم پورے یورپ میں مختلف قیمتوں میں بکنا شروع ہوگئے .پاکستان فروٹ اینڈ ویجٹیبل ایسوسی ایشن(PFVA) کے مطابق ٢٠ مئی سے سیزن شروع ہوا اور ١٠٠٠٠٠ میٹرک ٹن آم برامداد کی توقع رکھی گئی اگر پاکستان سے آم ٢٠ مئی کے بعد آیا تو مارکیٹ میں پاکستانی نام سے بکنے والا آم کہاں سے آیا؟ تو جناب یہ آم دراصل Dominican Republic کا (Kesar Mango) ہے جس کا اصل وطن بھارت گجرات ہے یعنی ” نام پاکستان کا اور آم ہندوستان کا ”
اب آتے ہیں دوسری جانب چند سالوں پہلے تک آم کچا درخت سے اتارا جاتا اور پیک کیا جاتا تھا ساتھ ہی ڈبے میں ایک پڑیا کاربیٹ کی رکھ دی جاتی تھی جس کی وجہ سے شپمنٹ کے دوران آم پک جاتا تھا اور جب وہ اپنی منزل مقصود تک پہنچتا تھا تو تیار حالت میں ہوتا تھا لیکن کچھ عرصہ پہلے جاپان نے اعتراض کیا کہ اس طرح سے آم میں کیمیکل رکھنے کی وجہ سے بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے تو اس لئے انھوں نے کافی آرڈر کینسل کر دیئے جس کی وجہ سے تاجروں کو کافی نقصان اٹھانا پڑھا کام کو جاری رکھنے کے لئے بوائلر کا سہارا لینا پڑا جس کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ بھی دیکھا گیا اب آتے ہیں اصل بات کی طرف گزشتہ سال ام کی ٢ سے ٢.٥ کلو کا ڈبہ ١٢٠-١٤٠ کراؤن میں فروخت کیا گیا لیکن اس سال وہی ڈبہ ٦٥ -٨٥ تک فروخت ہورہا ہے .یورپ تاجروں کے مطابق اس سب کی اصل وجہ پاکستان کی معیشت کو تباہ کرنا ہے اور اس سب کے پیچھے وہی لوگ سرگرم ہیں جو چاہتے ہے کے پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی یعنی معیشت کو توڑھ کے رکھا دیں اور اس سب میں ان کا ساتھ ہمارے اپنے بھی دے رہے ہیں وہ کیا خوب کسی نہ کہا ہے ” گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے ”
یہی وہ سرجیکل اسٹرائیک ہے جس کی بات میں نے شروع میں کی تھی .