104

چند گزارشات……..چند تسلیمات

السلام علیکم۔۔۔”اُردو قاصد” کی پوری ٹیم کو آداب عرض ہے۔ جبکہ قارئین، ناظرین(اُردو قاصد میں اب ویڈیوز بھی شیئر ہوتی ہیں)، اور مُتکلمین (علمِ کلام کے ماہرین نہیں، بلکہ آڈیو لنک کے ذریعے گفتگو فرمانے والے افراد) کےلئے نیک خواہشات کے ساتھ گزارشات بھی کہ آپ کی لازمی شمولیت اور آراء ادارہ ہذا کےلئے اکسیرِ اعظم سے کم نہیں۔ جب تک کہ آپ کی دلچسپی رہے گی “اُردو قاصد” نقارہ خلق و اُردو بنتا رہے گا۔ مجھے اُردو زبان سے عشق کی حد تک لگاؤ ہے۔ اس لئے نہیں کہ اُردو میری قومی زبان ہے بلکہ اس لئے کہ اس زبان میں چاشنی ہے، سلاسگی ہے اور وُسعت ہے۔ ایک ایک مفہوم کی ادائیگی اور اظہار کےلئے کئی کئی الفاظ ہیں۔ جس طرح سے چاہیں آپ اپنے مفہوم کو، ما فی الضمیر کو ادا کرسکتے ہیں۔ یہ اُردو زبان کی وہ خاصیت ہے کہ جس کا میں گرویدہ ہوں۔ حالانکہ میری مادری زبان “شینا” ہے۔ چلیں اسی بہانے آج آپ ایک نئی زبان کے بارے میں آشنا تو ہوئے۔ میرے مخاطبین میں شاید کئی ایسے افراد ہوں گے جو پہلی بار “شینا” زبان کے بارے میں سُن رہے ہوں گے۔ شینا زبان گلگت بلتستان کی اکثریتی زبان ہے۔ یہاں بلتی، بروشسکی، واخی اور خوار جیسی زبانیں بھی بولی جاتی ہیں لیکن شینا زبان کو مرکزیت حاصل ہے۔ البتہ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں باہمی رابطے کا اعزاز صرف اور صرف اُردو کو حاصل ہے۔ اس نسبت سے آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ بندہ احقر کو اُردو سے لگاؤ کیوں ہے۔
سچ بتاؤں تو مجھے زندگی میں دو ہی چیزوں سے “عشق” ہوا۔(کسی “اور” سے عشق فرمانے کا “حادثہ” ابھی تک نہیں ہوا۔[جملہ معترضہ])
1۔ قومی زبان اُردو
2۔ میرے لیپ ٹاپ میں موجود میری لائبریری۔
اُس لائبریری میں قریب5 ہزار کتابیں ہیں اور وہ تمام کی تمام کتابیں اُردو زبان میں ہیں۔ مجھے اپنے لیپ ٹاپ سے بھی عشق ہے کیونکہ اس نے 5 ہزار کتابوں کا بوجھ اپنے کاندھوں پر اُٹھا رکھاہے۔ 2013ء سے میرے ساتھ ہے، مجال ہے کہ بے چارے نے کبھی دغا بازی کی ہو۔ لیکن اب میرا “وفادار” لیپ ٹاپ بوڑھا ہوچکا ہے۔ اس کی سانسیں اکھڑی اکھڑی سی ہوگئیں ہیں۔ شاید کہ دوڑ دھوپ نے جوانی کی ساری قلعی کھول دی ہے۔(رحم ہو اُس پر)
ایک کالم بعنوان:مُلکی سیاسی بَساط کے دو پیادے ارسال کر رہا ہوں۔ خاص طور پر ڈاکٹر حنا خراسانی اور شہزاد انصاری صاحب کےلئے ہدیہ خدمت ہے۔ ڈاکٹر حنا خراسانی کراچی یونیورسٹی میں میری پیشرو رہی ہیں۔ آپ سے بہت کچھ سیکھا، جانا اور متعدد اُمور میں مشاورت بھی لی۔ واقعی میں آپ ایک شفیق خاتون اور تعاون کرنے والی مستور ہیں۔ آپ سے ربط رکھنا اور گفتگو و شنید برقرار رکھنا فائدہ(علمی و تحقیقی فائدہ) ہی دے سکتا ہے، نقصان نہیں ہوسکتا۔
شہزادانصاری صاحب اُردو زبان کےلئے آپ کا جذبہ بہت ہی عمیق اور خلوص سے بھرپور ہے۔ دیارِ غیر میں اُردو زبان کے ارتقاء و احیاء کےلئے آپ نے “اُردو قاصد” کی شکل میں ایک خوبصورت تحفہ دیا ہے۔ بلاشبہ آپ میں جذبہ اُردو موجزن ہے۔آپ کےلئے ایک تجویز ہے۔ اگر مالی مشکلات سدِّ راہ نہیں ہیں تو اُردو قاصد کو اسی ٹائٹل کے ساتھ مطبوعہ حالت میں لے آیئیے۔ مجلہ، رسالہ، جریدہ ٹائپ کا کہ جو سہ ماہی، ششماہی یا سالنامہ کی صورت میں ہو۔
اور شہاب صاحب، شکیل صاحب، اشعر صاحب اور دیگر احباب کےلئے بھی خلوص کہ آپ سب کی نپی تُلی شمولیت اُردو قاصد کو چار چاند لگارہی ہے۔
والسلام

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں