94

“مُکافات عمل” گھریلو تشدد سہنے والی ہر عورت کے نام

ساری اپنے اسکول کا کام ختم کرکے کتابیں سمیٹ کر اٹھی اور اپنے چھوٹے بھائی عارف کو ساتھ لےکر باہر لان میں چلی آئی. ان دونوں بہن بھائی کی عمرمیں اگرچہ کافی فرق ہے مگر عارف ہمیشہ اپنی بہن کے ساتھ ہی کھیلتا ہے کیونکہ ان کے والد ملک اسرار کو محلے کے لوگوں سے میل جول پسند نہیں. اہل محلہ بھی ملک اسرار کے غصے اور بدمزاجی کی وجہ سے اپنے بچوں کا ان کے ساتھ کھیلنا پسند نہیں کرتے تھے. ساری اور عارف اس بات سے بہت افسردہ رہتے تھے اور اکثر گھر کی منڈیر سے یا دروازے کی جالی سے باہر جھانک کر بچوں کو حسرت سے آپس میں کھیلتا کودتا دیکھتے رہتے تھے. وہ جانتے تھے کہ سب لوگ ان کے ابا کے غصے اور بد لحاظی سے نالاں ہیں اور ان سے بچ کر رہنا چاہتے ہیں.
ساری کو یاد تھا کہ پچھلے سال گرمیوں میں محلے کے کچھ بزرگ ابا کے پاس آئے تھے کہ ساری اور عارف کو بھی محلے کے دوسرے بچے بچیوں کے ساتھ کھیلنے دیا کریں مگر ابا نے انہیں برا بھلاکہہ کر گھر سے نکال دیا تھا. جس کے بعد پھر کبھی کسی محلے والے نے ادھر کا رخ نہیں کیا.
ملک اسرار کے غصے اور بدمزاجی کی بدولت گھر کا سکون بھی درہم برہم رہتا تھا. وہ جب تک گھر میں رہتا کسی نہ کسی بات پر اپنی بیوی رخسانہ پر چیختا چلاتا ہی رہتا. بات بہ بات بیوی کو برا بھلا کہتا اور اور ہاتھ اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرتا تھا.
رخسانہ کے والدین کا تعلق معاشرے کے اس طبقے سے تھا جو اپنی سفید پوشی کا بھرم بڑی مشکلوں سے رکھ پاتے ہیں. وہ کُل سات بہنیں تھیں. ان کے والدین اگرچہ انہیں تین وقت تر نوالے بھی نہیں کھلا پائے تھے مگر تعلیم کے زیور سے سب بہنیں آراستہ تھیں. ان سب میں رخسانہ سب سے بڑی تھی. جب ملک اسرار کے گھر سے رشتہ آیا تو اس کے والدین نے یہ سوچ کر فوراً حامی بھر لی کہ ان کی بیٹی وہاں عیش سے رہے گی.
ملک اسرار ایک خوشحال گھرانے سے تعلق رکھتا تھا جہاں روپے پیسے کی کوئی کمی نہ تھی مگر اس کا کنبہ پست ذہنیت رکھنے والا تھا. اس کے والد اور بھائی کسی بھی معاملے میں جائز اور ناجائز کی تفریق کو خاطر میں نہیں لاتے تھے. بیویوں کے معاملے میں بھی خاصی تنگ نظری دکھاتے تھے اور انہیں پیر کی جوتی سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے تھے.
اپنے باپ اور بھائی کے مقابلے میں ملک اسرار زیادہ خودسر، بدتمیز اور آوارہ صفت انسان تھا. جس کا اندازہ رخسانہ کو شادی کے ابتدائی دنوں میں ہی اچھی طرح سے ہوگیا تھا. وہ اپنے شوہر کو برائی سے روکنے کی کوشش کرتی تو وہ اس کی تضحیک کرتا اور اسے بےدردی سے مارتا. رخسانہ نے کئی مرتبہ اپنے گھر والوں کو ساری باتیں بتائیں مگر اس کی ماں نے ہمیشہ یہ کہہ کر اسے کوئی انتہائی قدم اٹھانے سے روک دیا کہ” اگر اسے طلاق ہوگئی تو ہماری بڑی بدنامی ہوگی اور اس کی باقی بہنوں کی بھی شادی نہ ہوپائے گی .اس لیے وہ صبر سے کام لے. وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سب ٹھیک ہوجائے گا”.
معاشرے کےڈر اور ماں باپ کی بدنامی کے خوف نے رخسانہ کو سب کچھ چپ چاپ سہہ لینے پر مجبور کردیا. ملک اسرار اس کی اس مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھاتا اور اسے طرح طرح سے اذیت پہنچاتا. معمولی باتوں پر وہ اسے اتنا مارتا کہ اس کے پورے جسم پر نیل پڑ جاتے اور وہ ادھ موئی ہوجاتی. وہ اکثر اسے اس کی تعلیم کا بھی طعنہ دیتا. البتہ وہ اپنے دونوں بچوں سے بہت محبت کرتا تھا حالانکہ وہ کبھی ان کے ساتھ وقت نہیں گزارتا تھا مگر ان کی تمام ضرورتوں کا خیال رکھتا تھا. ان کے لیے ہمیشہ مہنگے ترین کھلونے اور قیمتی لباس لاتا تھا. رخسانہ نے بھی کبھی بچوں کو باپ کے خلاف نہیں اکسایا تھا. وہ جانتی تھی کہ اس کا شوہر اس کے معاملے میں ظالم اور سنگدل ثابت ہوا ہے مگر اپنے بچوں کو بے حد عزیز رکھتا ہے خصوصاً ساری کو، جو ان کی پہلی اولاد ہے لیکن دونوں بچے باپ کی موجودگی میں ڈرے سہمے ہی رہتے تھے.
ساری جب چھوٹی تھی تب اسے پتہ نہیں تھا کہ اس کا باپ اس کی ماں کو مارتا پیٹتا ہے. وہ ہمیشہ سوچا کرتی تھی کہ “اماں کے چہرے اور جسم پر اچانک اتنی چوٹیں کیسے لگ جاتی ہیں؟ نیل کیسے پڑ جاتے ہیں؟” وہ جب ماں سے پوچھتی تو وہ کبھی جواب نہیں دیتیں اور ہمیشہ اس کی بات ٹال دیتیں.
رخسانہ ساری کے سوالوں سے پریشان ہوجاتی اور سوچتی کہ ” وہ کب تک بچوں سے ان کے باپ کا یہ وحشیانہ چہرہ چھپا سکے گی؟ یوں بھی ساری اب چھوٹی بچی نہیں رہی کہ وہ بے مقصد باتوں سے بہل جائے. گو کہ وہ اس سال بارہ کی ہوئی ہے مگر دماغی طور پر وہ اپنی عمر سے زیادہ سمجھدار ہے. اس نے ضرور کوئی اندازہ لگا ہی لیا ہوگا”.
رخسانہ کا خیال بالکل درست تھا. ساری اب جان گئی تھی کہ اس کی ماں کی چوٹوں اور زخموں کا راز کیا ہے. جبھی اس نے ایک دن ماں سے بغیر کچھ کہے سنے اپنی ذمہ داری سنبھال لی کہ جب اس کے ابا، اماں کو مارپیٹ کر گھر سے باہر چلے جاتے، وہ ماں کے پاس جاتی اور ان کی مرہم پٹی کرتی. ابتدا میں رخسانہ اس کو منع کرتی کہ کہیں ملک اسرار بیٹی کی ماں کے لیے ہمدردی دیکھ کر غصے سے بھڑک ہی نہ اٹھے مگر جب ساری اس کے زخموں پر اپنے ہاتھوں سے مرہم لگاتی اور اسے دوا کھلاتی تو وہ سب بھول جاتی اور اُسے بڑا سکون ملتا.
ایک دن سہ پہر میں ساری عارف کے ساتھ صحن میں کھیل رہی تھی کہ ا چانک زور سے بیرونی دروازہ کھلا اورملک اسرار اندر آیا. اس نے دونوں بچوں کو دیکھا اور بولا! ” چلو جاؤ اپنے کمرے میں جاکر کھیلو”. دونوں بھاگ کر اندر چلے گئے. ابھی کمرے میں پہنچے ہی تھے کہ دونوں کو باپ کی غصے سے دھاڑنے کی آواز سنائی دی اور پھر ماں کی ہولناک چیخیں سنائی دینے لگیں جو ابا کے ہاتھوں مار کھاکر ان کے منہ سے نکل رہی تھیں. ساتھ ہی زوردار چھناکے کے ساتھ کسی چیز کے ٹوٹنے کی آواز سنائی دی. عارف نے ڈر کر اپنے دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ لیے اور روتے ہوئے بہن سے کہنے لگا، ” آج ابا ہم سب کو مار ڈالیں گے چلو ہم لوگ کہیں بھاگ جائیں”.
ساری بھائی کے قریب آئی اور اسے گلے لگا کر کہنے لگی، ” نہیں! ہمیں کچھ نہیں ہوگا، ڈرو مت! میں ہوں نا تمہارے پاس، میں تمہیں بچالوں گی”. پھر زیرلب بڑبڑاتے ہوئے کہنے لگی! پتہ نہیں میں اماں کو ابا سے کب بچا پاؤں گی؟
تھوڑی دیر تک ابا کے چیخنے اور اماں کی سسکیوں کی آواز یں آتی رہیں اور پھر سناٹا چھا گیا. ساری نے چند لمحے انتظار کیا اور پھر بھائی کو بستر پر بٹھاکر دروازے کی جانب بڑھی. اس نے آہستہ سے دروازہ کھول کر باہر جھانکا تو اسے اماں فرش پر بیٹھی نظر آئیں اور ان کے ماتھے سے بھل بھل خون بہتا دکھائی دیا. پاس ہی شیشے کا بڑا گلدان چکناچور پڑا تھا جسے یقیناً ابا نے غصے میں اماں کو دے مارا تھا. وہ تیزی سے ماں کی جانب بڑھی اور ان کو سہارا دے کر سامنے پڑے دیوان پر لٹایا اور باورچی خانے کی طرف بھاگی. جہاں اس نے اوپری خانے میں ایک ڈبے میں طبی امداد کے مرہم و دوائیاں چھپا کے رکھی ہوئی تھیں. گرم پانی اور روئی کی مدد سے اس نے ماں کے زخموں کو صاف کرنا شروع کیا ہی تھا کہ رخسانہ نے نقاہت زدہ آواز میں اسے منع کیااور کہا ” جاؤ اپنے کمرے میں جاؤ ابھی تمہارے ابا گئے نہیں ہیں گھر سے”. تب ہی ملک اسرار کمرے میں داخل ہوا اور ساری کو ماں کی مدد کرتا دیکھ کر پہلے تو حیران ہوا اور پھر آگ بگولا ہوکر رخسانہ سے کہنے لگا! ” اچھا تو تم خود کو مظلوم بنا کر میرے بچوں کو میرے خلاف کرنا چاہتی ہو. میں تمہارا حشر نشر کردوں گا اگر تم نے میرے بچوں کو میرے خلاف استعمال کیا. تمہاری جیسی پڑھی لکھی عورتیں انہی حرکتوں کی وجہ سے اپنے شوہروں کے ہاتھوں صبح شام جوتے کھانے کی حقدار ہیں”. یہ کہ کر ملک اسرار نفرت سے دیکھتے ہوئے رخسانہ کی طرف دوبارہ بڑھا ہی تھا کہ ساری ان دونوں کے درمیان کھڑی ہوگئی اور پوری طاقت سے چیخ کر باپ سے کہنے لگی!
” رک جائیے ابا! خدا کے لیے رک جائیے. اماں ہمیں آپ کے خلاف کبھی نہیں کرتیں. وہ ہمیشہ یہی کہتی ہیں کہ ہمارے ابا ہم سے بہت محبت کرتے ہیں مگر ابا! میں آپ سے محبت نہیں کرتی کیونکہ آپ ظالم ہیں اور اللہ ظالموں کو ہر گز پسند نہیں کرتا. اور میں اماں سے بھی محبت نہیں کرتی. کیونکہ وہ آپ کا ظلم سہتی ہیں اور اللہ ظلم سہنے والوں کو بھی پسند نہیں کرتا. میں اماں کے زخموں کی مرہم پٹی اس لیے کرتی ہوں کہ جب میں بڑی ہوجاؤں گی تو میری بھی شادی ہوگی اور میرا شوہر بھی مجھے اسی طرح مارے گا تب میری بیٹی بھی میری طرح اپنی ماں کی مرہم پٹی کرے گی. ابا! میرے استاد کہتے ہیں کہ “ہم دنیا میں جو عمل کرتے ہیں بدلے میں وہی دیکھتے ہیں”.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

“مُکافات عمل” گھریلو تشدد سہنے والی ہر عورت کے نام“ ایک تبصرہ

  1. Her jismani or zehni tashadud sehne wali larki
    apni beti pe zulm karti hai…Or ye her ghar ki kahani hai…Chahay orat parhi likhi ho jahil ho ameer ma bap ki ho ya ghareeb kisi bhi nasal ya ryasat se ho. Kisi na kisi roop me zulm to sehti hai….or ye haqeeqat mard kabhi nhi samajh . .sakta or na he orat samjha sakti hai…..

اپنا تبصرہ بھیجیں