73

کامیابی کیا ہے اور “کرسی معلق” کی رُداد

دُنیا میں طرح طرح کے لوگوں سے میل میلاپ ہونا دراصل زندگی ہے اور اُن لوگوں کے رویئے، روشیں، اخلاقی قدریں، چال چلن وغیرہ سے نبرد آزما ہونا ہی انسان کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
ایک قریبی مثال کی طرف توجہ دیجئے:
اگر آپ کی/کا شریکِ سفر انتہائی غیر ذمہ دار ہو، آپ کو ایک آنکھ نہ بھاتا ہو، من ہی من میں آپ کے غصہ کا ٹمپریچر حد درجہ بُلند ہو تو ایسے میں وہ زندگی کہ جس کو آپ نے کامیابی کے ایک زینہ کی طرف شریکِ سفر کے انتخاب کے ذریعے بڑھا دیا تھا، وہ ڈانو ڈول ہوجائے گی۔ زندگی کے دیگر شعبوں میں آپ باکمال ہونے کے باوجود یہی ایک شعبہ(گھر گرہستی) آپ کےلئے وبالِ جان بن جائے گا۔
میرا مشورہ لیجئے:
کریں انتخاب اُس کا جو ہو لاجواب آپ کا۔۔۔!! ہر طرح کی رنگینی پھیکی ہے اگر آپ کا یہ انتخاب لاجواب کی بجائے “عجوبہ جواب” ہو۔ اگر آپ دُرست انتخاب کی راہ سے بھٹک گئے تو سمجھ لیجئے کہ آپ کی نیّہ ڈوب گئی۔ زندگی آپ کو اس قدر ستائے گی کہ آپ کان بند، زبان بند، ہاتھ بند۔۔ بند ہی بند کی صدائے نحیف بلند کرتے رہیں گے اور آپ کی سننے والا کوئی نہیں ہوگا کیونکہ جس نے سننا تھا وہ تو آپ پر ظلم ڈھا رہا/رہی ہے۔ وہ کیا خاک آپ کی سنیں گے/ گی۔
(یہ مشورہ خالصتاً بالغان کےلئے ہے اور بچوں کی پہنچ سے دور ہے)
اب ایک قدم آگے بڑھایئیے:
پڑھ لکھ کر بن گئے نواب آپ(حالانکہ نوابی کا موقع ابھی آیا نہیں) جب تک کہ ملازمت کی دُرست راہ متعین نہ ہو کون آپ کو نواب سمجھے گا؟(کم سے کم آپ کے اِرد گرد بیٹھے لوگ تو آپ کی حیثیت کو آپ کی عالی شان ملازمت اور ہاں گاڑی سے ہی پہچانتے ہیں) یہ جو کہا گیا ہے “پڑھو گے لکھو گے تو بنو گے نواب” شاید عجلت میں کسی صاحب نے بے پَرکی پھینکی ہے۔ (معذرت کے ساتھ) جیسے ہی ایک اچھی ملازمت دُر آتی ہے، (نصیب کے پٹارے سے، آپ کی محنت سے، یا۔۔۔۔۔۔یہ آپ خود ہی طے کرلیں) سب سے پہلے دفتر میں آپ کی ملاقات اُس شخص سے ہوجائے گی جو آپ کے سینئر کی حیثیت سے “کُرسی معلق” پر براجمان ہوں گے۔
اس “کُرسی معلق” کا بھی کمال دیکھیئے۔ تین قسم کے لوگ اس پر براجمان ہوں گے:
اول: انتہائی درجے کے چالاک و شاطر لوگ اس کے مالک ہوں گے۔ اُن کی کل کائنات یہی چالاکی اور شاطرانہ دماغ ہوگا۔ قابلیت اور صلاحیت میں کمزور ہونے کے باوجود انہی دو اداؤں(چالاکی اور شاطرانہ چال) سے وہ “باس” کا فریضہ بخوبی نبھارہے ہوں گے۔ یہ اپنے سے کم عہدے والے افراد سے کبھی بھی زیر نہیں ہوتے بلکہ دھونس دھمکیوں اور جھوٹے رتبے کے ذریعے اپنی حیثیت برقرار رکھتے ہیں۔ اِن سے بچ کے رہیئے گا۔ یہ لوگ آپ کی صلاحیتوں کو زنگ لگانے میں کافی “معاون” ثابت ہوتے ہیں۔
دوم: انتہائی نالائق اور دفتری اُمور سے نابلد افراد بھی فروکش ہوں گے۔ کیا کہیئے گا زمانے کا دستور ہی یہی ہے کہ ہمیشہ چاپلوس قسم کے لوگ ہی اس کے حقدار بن جاتے ہیں۔ باصلاحیت افراد کا “جمعہ بازار” تو لگتا نہیں۔ بس لگے ہاتھوں “چاپلوسیت” کے آئین و قانون پر عمل کرنا لازم ٹھہر جاتا ہے۔ اس قسم کے لوگ اپنے سے کم عہدے کے افراد کی خوشامد بھی کریں گے اور آفیسران بالا کی بھی جی حضوری کریں گے۔ سچ پوچھیں تو کسی بھی دفتر کے یہ “چہیتے”، “جان” اور بعض خواتین آفیسران کے “منہ بولے بھائی جان”بھی ہوتے ہیں۔ ان کے نام بلند تر۔۔۔۔۔۔۔۔پڑھنا یقیناً آپ کا دل چاہتا ہوگا۔۔؟ تو پڑھیئیے نا!!! کس نے روکا آپ کو؟
سوم: انتہائی باصلاحیت، قابل اور عالی دماغ کے حامل افراد بھی آپ کے باس ہوں گے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو کسی بھی دفتر یا ادارہ کے روح رواں ہوتے ہیں۔ ان کی صلاحیتوں کے چھتری تلے آپ کی قابلیت کو بھی جِلا ملتی ہے۔ روز بروز آپ کی سوچ میں، کام میں اور طرزِ گفتگو میں نکھار پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ مزید بہت کچھ کرنے کی اُمنگ جاگ جاتی ہے۔ ان آفیسران کو ہمارا معلوم اور نامعلوم سلام ہو۔ معلوم اس لئے کہ ان سے کبھی کبھار ہمارا واسطہ پڑتا ہے اور نامعلوم اس لئے کہ ایسے افراد بہت کم تعداد میں ہوتے ہیں اور خلاقائی مخلوق کی طرح نظر نہیں آتے۔
جیسا کہ ہم نے سطور بالا میں کہا کہ جیسے ہی آپ کی ملاقات ان افسران سے ہوتی ہے، آپ کی زندگی کا ایک اور سفر شروع ہوا۔ فرض کرتے ہیں کہ خدا نخواستہ اگر آپ کی مذکورہ افسران سے نہیں بنتی ہے تو بتائیئے زندگی کس قدر اذیت ناک ہوگی۔ وہ جو کامیابی جس کا ڈھنڈورہ ہم صبح شام پیٹتے ہیں وہ تو پُھس ہوجائے گی۔
قبل ازین اسکول کی زندگی، کالج کی زندگی اور یونیورسٹی کی زندگی میں بھی ہزارہا لوگوں سے واسطہ پڑنا اور اُن کے رویئوں سے عہدہ برآ ہونا بھی ایک انسان کی کامیاب زندگی کی علامت ہے۔ جبکہ دفتر اور گھر پھر شام کو دوستوں، رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے ساتھ بھی نبھانا ایک اور امتحان بھی ہے جس کی تفصیل بیان کروں گا تو “اتوار بازار” جیسی کیفیت ہوگی۔ بس اسی پہ اکتفاء کیجئے اور زندگی کو کامیاب بنانے کےلئے معاشرتی حیوان سے نکل کر معاشرتی انسان کی درجہ بندی میں آجائیں۔ سب کچھ کامیابی کا زینہ بن جائے گا۔
نوٹ:
اب سے لے کر اتوار تک ہمارا ناطہ محترم قارئین، فیس بُکی دوست احباب سے منقطع رہے گا کیونکہ ہم جارہے ہیں گاؤں اور آپ “کرسی معلق” کا خواب دیکھتے رہیئے گا۔ (ملتمس: ڈاکٹر ریاض رضیؔ)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں