13

داستان ایک ٹیڑھے مینار کی ۔۔

اٹلی کے صوبے ٹوسکانہ کے شہر پیسا کو دنیا جانتی ہے ۔ اسکول اور کالج میں پیسا شہر کے ٹیڑھے ایک طرف جھکے مینار کے بارے میں پڑھ رکھا تھا آج خدا نے یہ موقع فراہم کیا کہ اس مینار کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھا اور نظروں میں دنیا کے اس انوکھے مینار کے طرز تعمیر کو بسا لیا۔ آئیے آپ کو بھی اس ٹیڑھے مینار کی دلچسپ باتیں سُناتے ہیں ۔
۔ شہر پیسا کے اس ٹیڑھے اور منفرد مینار کو تعمیر ہونے میں ایک اندازے کے مطابق 174 سال کا طویل وقت دکار ہوا۔
۔ ایک طرف جھکاؤ والے اس خوبصورت اور سنگ مرمر کے اس مینار کی تعمیر سن 1174 میں شروع ہوئی اور 1350 میں مکمل ہوئی ۔
۔ 1174 میں جب اس مینار کی تیسری منزل تعمیر ہوئی تو مینار نے جھکنا شروع کردیا تھا ۔ جس کی سب بڑی وجہ جو اُس وقت جاننی گئی وہ یہ تھی کہ معماروں نے مٹی اور ریت سے بنی نرم زمین پر اس مینار کی بنیاد رکھی تھی ۔ جس نے ایک بڑے تنازع کو جنم دیا اور فوری طور پر بعد تعمیری کام کو بند کردیا گیا اور سن 1272 تک یہ کام دوبارہ شروع نہ ہوسکا۔ بعد میں جب کام شروع کیا گیا تو پہلے مرحلے میں مزید چار منزلیں تعمیر کی گئیں۔ سال 1370 میں آخری یعنی آٹھویں منزل کی تعمیر کے ساتھ ٹاور آف پیسا مکمل ہوا تو اس کے تعمیر کے شروع ہونے کو تقریباً 173 سال گزر چکے تھے ۔
۔ ابتدائی طور پر مینار شمال کی طرف جھکا ہوا تھا اور بلڈرز نے اس طرف کے پلرز کو اونچا کرکے جھکاؤ کو درست کرنے کی کوشش کی لیکن جب 1272 میں دوبارہ کام شروع ہوا تو یہ مینار مکمل طور پر جنوب کی طرف جھکا نظر آیا۔ بلڈرز نے پانچویں اور چھٹی منزل پر مینار کے جنوبی جانب کے پلرز اور محرابوں کو اونچا کرکے دوبارہ سے جھکاؤ کو درست کرنے کی کوشش کی۔
۔ آج جب مینار کا بغور اور چاروں طرف سے موازنہ کیا تو یہ مینار تھوڑے سے مڑے ہوئے کیلے جیسی شکل میں نظر آیا۔ ہوسکتا ہے اس کی وجہ یہ بھی ہو کہ مجھے یہ پھل بہت زیادہ پسند ہے ۔
۔ میری ناقص عقل میں یہ بات آئی ہے کہ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ مینار ٹیڑھا ایک طرف جھکا ہوا ہے۔ “ پیسا “ یونانی زبان کا ایک لفظ ہے جس کا مطلب ہے “دلدل والی زمین” ۔ تو جب دلدل والی زمین پر کوئی اونچا مینار تعمیر کیا جائے گا تو یہ غلطی تو ہونی ہی تھی ۔
۔ پیسا کے عالمی شہرت یافتہ مینار کے جھکاؤ کو درست کرنے کی پہلی حقیقی کوشش سن 1935 میں کی گئی جب انجینئروں نے ڈھانچے کی بنیاد میں سیمنٹ اور گارہ ڈالا۔ تاہم اس کام نے اس مسئلے کو مزید خراب کردیا اور ٹاور مزید جھک گیا ۔
۔ 1990 تک ٹاور آف پیسا 5.5 ڈگری کے اپنے سب سے بڑے جھکاؤ تک پہنچ گیا تھا۔ ایک کمپیوٹر ماڈلز نے پیشن گوئی کی تھی کہ ٹاور اُس وقت گر جائے گا جب یہ 5.44 ڈگری تک پہنچ جائے گالیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ٹاور آج تک بدستور کھڑا ہے ۔
۔ سال 1990 کے بعد ایک سنجیدہ تکنیکی بحالی کا عمل شروع ہوا اور مینار کو سیاحت کے لیے بند کر دیا گیا۔ انجینئروں نے ٹاور کے شمال کی جانب سیسے کا بھاری وزن رکھا اور ٹاور کے نیچے سے مٹی ہٹانے کا کام انجام دیا۔ بحالی کے اس کام میں کسی بھی طرح کی غلطی سے بچنے کے لیے احتیاطی طور پر مینار کو چاروں طرف سے اسٹیل کے موٹے موٹے تاروں سے باندھ دیا گیا تھا۔
۔ یہ پروگرام سن 2000 تک یعنی دس سال تک جاری رہا اور اسطرح انجینرز مینار کے جھکاؤ کو چھ انچ تک کم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اس طرح یہ مینار سال 1870 کے جھکاؤ تک واپس آ گیا ۔ ایک سال بعد 2001 میں تیڑھے پن کو سال 1838 کے جھکاؤ تک درست کر دیا گیا۔ اُس کے بعد سے یہ پیشن گوئی کی جارہی ہے کہ یہ مینار مزید 200 سال تک محفوظ طریقے سے قائم رہے گا۔
۔ 294 قدم کی سیڑھیوں سے چڑھ کر آپ اُوپر بھی جاسکتے ہیں جہاں چرچ کے طرز کی سات گھنٹیاں نصف ہیں ۔
۔ سب سے دلچسپ بات جو اس مینار سے جڑی ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران یہ خیال کیا جاتا تھا کہ جرمنوں نے ٹاور کو مشاہدہ کرنے اور فوجیوں کے چیک پوسٹ کے طور پر استعمال کیا ہے۔ جیسے ہی امریکی فوجیوں نے دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے لیے شہر پیسا کی طرف مارچ کیا تو انہوں نے ایک 23 سالہ امریکی سارجنٹ کو حکم دیا کہ وہ ہر اُس عمارت کو آگ لگائے جس میں جرمن فوجی موجود تھے۔ لیکن شُکر ہے اُس وقت مینار کے ساتھ بنے گرجا گھر اور خود اس مینار کو تباہ کرنے کا مطالبہ نہیں کیا گیا تھا کیونکہ اُن امریکی فوجیوں کے خیال میں یہ دونوں عمارتیں بہت خوبصورت ہیں ۔ اور یوں اُن امریکی جرنیلوں نے ایک کام تو بہت اچھا کیا کہ اس مینار کو تباہی سے بچا لیا۔اور آج ہم اس مقام پر کھڑے اس کا نظارہ کررہے تھے ۔
۔ پیسا کا جھکا ہوا مینار جو کہ عالمی ثقافتی ورثہ ہے تقریبا دس سال کے طویل مرمت کے بعد دسمبر 2001 میں سیاحت کے لیے دوبارہ کھولا گیا۔ اس تعمیراتی کام پر ایک اندازے کے مطابق تقریباً28 ملین یورو لاگت آئی۔

حواشی: گارجین ، سمتھ سونین ، میڈرڈ انجینئرنگ ، بی بی سی ، ٹاور آف پیسا ، تصاویر: انور ظہیر رہبر.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں