74

شہداء جموں کی یاد میں

”ہمارا خیال تھا کہ یہ صرف چند دنوں کی بات ہے اور جلد ہی حالات بہتر ہوجائیں گے اور ہم پھر سے اپنے گھروں میں واپس چلے جائیں گےلیکن بد قسمتی سے وہ دن کبھی نہ آیا اور ہم لوگ اپنے وطن واپس جانے کی آرزو لیکر ایک کرکے اس دنیا سے رخصت ہورہے ہیں“۔جموں سے ہجرت کرکے پاکستان آنے والوں کی اکثریت کی یہی سوچ تھی۔ جموں کشمیرسے اپنے گھر وں کو چھوڑ کر آنے والے کبھی بھی اپنے وطن کو بھلا نہ سکے اور بہت سے تو یہ وصیت کرکے اس دنیا سے جاتے تھے کہ اگر اْن کا انتقال ہوگیا تو انہیں بطور امانت دفن کیا جائے اور جب بھی موقع ملے تو اْن کے جسد خاکی کو اپنے وطن کی مٹی کے سپرد کردیا جائے۔مسلمانان جموں پر قیامت ٹوٹی اور ڈھائی لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کے خون سے جموں کی سرزمین رنگین ہوئی۔اپنے خاندان والوں کے علاوہ جموں سے ہجرت کرکے پاکستان آنے والوں سے جب وہ داستانیں سنتے ہیں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ 1946ء کے انتخابات اور تقسیم ہند کے منصوبے کے بعد پنجاب کے تقسیم کی باتیں ہونے لگیں لیکن ریاست جموں کشمیر چونکہ برطانوی ہند میں شامل نہ تھی بلکہ ایک دیسی ریاست تھی جسے قانون آزادی ہند کے تحت اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا پورا اختیار تھا کہ وہ پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک ساتھ الحاق کا فیصلہ کرے یا پھر اپنی خودمختاری کا اعلان کرلے۔ مہاراجہ کشمیر ریاست کو خودمختار رکھنا چاہتا تھا اور اْسے کانگرس کی بجائے مسلم لیگ کی ریاستوں کے بارے میں پالیسی اپنے اور ریاست کے لئے فائدہ مند نظر آتی تھی اسی لیے اْس نے 12اگست1947ء کو ریاست جموں کشمیر کے پاکستان کے ساتھ جوں کا توں (سٹینڈ سٹل ایگریمنٹ) معاہدہ کیا جس کی صورت میں دفاع، امورخارجہ، پوسٹل سروس، مواصلات اور کسٹم وغیرہ کے حکومت پا کستان کے کنٹرول میں چلے جانے سے ریاست جموں کشمیر کے لوگ بھی مطمئن ہوگئے۔ 14 اگست کو ریاست بھر میں پاکستان کی آزادی کا دن بہت خوشی سے منایا گیا لیکن یہ خوشی زیادہ دن نہ قائم رہ سکی اور ریاست کے مختلف حصوں سے شورش کی خبریں آنا شروع ہوگئیں۔ گاندھی، نہرو، پٹیل اور دوسری کانگریسی قیادت کبھی بھی کشمیر کو ہاتھ سےنہیں جانے دینا چاہتی تھی اور انہیں ماؤنٹ بیٹن کا پورا تعاون حاصل تھا۔ قیام پاکستان کو بھی ایک ہفتہ ہی ہوا تھا کہ پونچھ کے علاقے سے ریاستی حکومت کے خلاف مسلح کاروائیوں کا سلسلہ ریاست کے دوسرے حصوں تک پھیلنا شروع ہوگیا جس کے رد عمل میں دوسری جانب سے بھی جوابی کاروئیوں کا آغاز ہوگیا۔ بھارتی سامراج ریاست جموں کشمیر کو ہر قیمت میں ہڑپ کرنے کا فیصلہ کرچکا تھا۔ جموں کے مسلمان ان حالات کے لیے نہ تو تیار تھے اور نہ ہی اس کشت و خون کا تصور کر سکتے تھے۔ جموں اگرچہ مسلم اکثریتی علاقہ تھا مگر بھارت کے ساتھ سرحد ہونے کی وجہ سے ہندووں اور سکھوں کے جتھے منظم انداز میں حملہ آور ہونے لگے۔ اگرچہ اکتوبر کے وسط تک جموں شہر کے حالات پر امن تھے مگر دیہات کے علاقوں سے لوگ حفظ ماتقدم کے طور پر پاکستان کی جانب پناہ کی تلاش میں جانے لگے۔ اس کے بعد جب کشمیر پر22 ۱کتوبر کو قبائلی حملہ شروع ہوا تو پھر جموں میں بھی قتل و غارت میں شدت آتی گئی۔ 23اکتوبر کو جموں کے ایک قصبہ میراں صاحب میں ڈوگرہ سپاہیوں اور جن سنگھیوں نے مسلمانوں کے مجمع پر شدید فائرنگ کرکے ہزاروں افراد کو شہید کردیا۔مسلمانوں کے گھروں پر حملے شروع ہوگئے اور ہزاروں مسلمان عورتوں کو اغوا کرلیا گیا جن میں مسلم کانفرس کے صدر ، چودہری غلام عباس اور قائمقام صدر، چوہدری حمید اللہ کی بیٹیاں بھی شامل تھیں۔26 اکتوبر کو جبری الحاق کا بہانہ بنا کر بھارتی فوج جموں کشمیر میں داخل ہوگئی۔3 نومبر کو پٹیالہ سے مزید فوجی کمک جموں آگئی اور 4نومبر کو بھارتی وزیر دفاع سردار بلدیو سنگھ اور وزیر داخلہ سردار پٹیل مزید منصوبہ بندی کے لیے جموں آئے۔5نومبر کو مسلمانوں کو کہا گیا کہ اگر وہ پاکستان جانا چاہتے ہیں تو پولیس لائن پہنچ جائیں جہاں سے انہیں ٹرکوں اور گاڑیوں میں بھر کرلے جایا گیا مگر راستے ہی میں انہیں شہید کردیا گیا.صرف چند لوگ ہی اپنی جانیں بچا سکے۔ اگلے روز پھر جموں کے مسلمانوں کو قافلے کی صورت میں پاکستان پہنچانے کی غرض سے روانہ کیا مگر انہیں بھی راستے میں شہید کردیا گیا۔ اس قدر ظلم و بربریت کی مثال چشم فلک نے شاید پہلے نہ دیکھی ہوگی۔ عورتوں نے کنوؤں میں چھلانگیں لگا کر جان دے کر اپنی عزتیں بچائیں۔ بچ نکلنے والے جب وہ واقعات سناتے تھے تو ر ونگٹے کھڑے ہوجاتے تھے۔اس وقت کی قیادت اگر بالغ نظری اور مستعدی سے کام کرتی تو ممکن ہے کہ یہ قیامت صغریٰ بپا نہ ہوتی۔ریاست جموں کشمیر اور پاکستان کے مابین جوں کا توں معاہدہ ہونے کے باوجود باہمی تعلق کو مضبوط نہ بنایا گیا بلکہ سیالکوٹ سے جموں کے لیے ریل گاڑی بند کر دی گئی۔ قبائلی حملہ اگر ناگزیر بھی تھا تو اسے غیر منظم، نیم بزدلانہ اور بغیر منصوبہ بندی کے کیوں کیا گیا۔ حملہ کرنا اگر ناگزیر بھی تھا تو یہ سیالکوٹ سے کٹھوعہ اور جموں کی جانب کیوں نہ کیا گیا۔ بھارت سے آنے والی صرف ایک شاہراہ کو کٹھوعہ کے قریب بند کرکے جموں کے مسلمانوں کو کیوں نہ بچایا گیا۔ اکتوبر کے وسط کے بعد جب جموں میں مسلمانوں پر حملے شروع ہوئے پھر بھی قبائلیوں کو جموں کی جانب کیوں نہ متحرک گیا گیا۔ قبائلی سری نگر پر قبضے کی بجائے مظفر آباد اور بارہ مولا میں لوٹ مار کرکے کیوں وقت ضائع کرتے رہے۔ آل جموں کشمیر مسلم کانفرس کی قیادت کیوں حالات کا ادراک نہ کرسکی۔ قائد اعظم کے منع کرنے کے باوجود مسلم کانفرس کی قیادت نے کیوں بلاوجہ محاذ آرائی شروع کی جس کے نتیجہ میں جماعت کے صدر چوہدری غلام عباس، آر .ساغر اور دوسرے جیل میں ڈال دیئے گئے۔شیخ عبداللہ کا وفد جی ایم صادق کی قیادت میں لاہور میں خوار ہوتا رہا لیکن کسی نے انہیں پوچھا تک نہیں۔ لاکھو ں انسانوں کا خون بھی بہا اور ریاست بھی جبری تقسیم ہوگئی لیکن اْن شہداء نے اپنے خون سے جو شمع روشن کی تھی وہ آج بھی روشن ہے . جموں کشمیر کی تیسری نسل بھی اس جبری تقسیم کو تسلیم نہیں کرتی اور وہ مادر وطن کی آزادی کے لیے آج بھی متحرک ہیں اور اْس دن کی نہ صرف آرزو رکھتے ہیں بلکہ اس دن کے منتظر بھی ہیں ہیں جب… آ ملیں گے سینہ چاکان وطن سے سینہ چاک۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں