Notice: Undefined index: geoplugin_countryName in /customers/5/8/f/urduqasid.se/httpd.www/wp-content/plugins/stylo-core/stylo-core.php on line 96
82

شیردل ایک جائزہ

اے. آر. وائی فلم کے تحت بننے والی اردو فلم ”شیر دل” بائیس مارچ کو پاکستان میں اور انتیس مارچ کو سویڈن میں پیش کی گئی. جس کے ہدایت کار، اظفر جعفری اور کہانی نویس، نعمان خان ہیں. فلم ایک ایسے نوجوان حارث (میکال ذوالفقار) کے گرد گھومتی ہے جو پاک فضائیہ میں شمولیت حاصل کرنے کا شدت سے خواہاں ہے.
فلم کی ابتدا 1965ء کی جنگ کے ایک منظر سے کی گئی ہے جس میں پاک فضائیہ کے ایک فلائٹ لیفٹنٹ سکندر خان کو دکھایا گیا گیا ہے جو اپنی زندگی وطن عزیز پر قربان کردیتے ہیں. فلم کا ہیرو حارث اپنے دادا کی اس قربانی سے حددرجہ متاثر ہے اور انہی کی طرح ملک کی خدمت کرنا چاہتا ہے لیکن اس کے والدین (عمران اپل اور لیلیٰ زبیری) اس معاملے میں اس کا ساتھ نہیں دیتے اور چاہتے ہیں کہ وہ فضائیہ میں جانے کے بجائے اپنے والد کا کاروبار سنبھالے.
والد کے خیال میں حارث آسائشوں کے ساتھ زندگی گزارنے کا عادی ہے اس لیے وہ فضائی اکیڈمی کی سختیاں برداشت نہیں کرپائے گا لیکن اس کی دادای اور شہید سکندر خان کی بیوہ (ثمینہ احمد) پوتے کی ثابت قدمی دیکھ کر اس کی حمایت کرتی ہیں اور اسے پائلٹ بننے کی اجازت دیتی ہیں.
اگلے منظر میں حارث اپنے دوست فہد (ابراہیم علاوی) کے ساتھ پی.ایف. اکیڈمی میں جاتا ہے جہاں ان کی ملاقات ہری جیت (مالک عقیل) اور عرفان (بلال شاہد) سے ہوتی ہے اور ان چاروں میں بہت اچھی دوستی ہوجاتی ہے جو آگے فلائیٹ لیفٹنٹ بننے کے بعد بھی قائم رہتی ہے.
فلم کی کہانی میں رومانس بھی آتا ہے جب حارث کی ملاقات سبرینہ (ارمینہ رعنا خان) سے ہوتی ہے اور دونوں ایک دوسرے کو پسند کرنے لگتے ہیں مگر سبرینہ حارث کے پاک فضائیہ میں شمولیت پر راضی نہیں ہوتی اور شادی سے انکار کردیتی ہے مگر بعد میں راضی ہوجاتی ہے.
کہانی آگے بڑھتی ہے اور پھر انڈیا پاکستان کے درمیان تنازعے کی شروعات ہوتی ہے. انڈیا کے جہاز پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اندر تک آجاتے ہیں مگر پاک فضائیہ کے جہاز فوری پہنچ کر ان کو بھاگنے پر مجبور کردیتے ہیں. انڈین پائلٹ ارون ویرانی (حسن نیازی) حارث کے جہاز کو نشانہ بناتا ہے مگر اس کو کامیابی حاصل نہیں ہوتی.
ان دونوں کی اگلی ملاقات انٹرنیشنل فلائٹ اسکول میں ہوتی ہے جہاں ابتدا میں دونوں ایک دوسرے سے گریزاں رہتے ہیں اور ایک دوسرے کو نیچا دکھاتے ہیں مگر بھر دونوں میں تھوڑی دوستی ہوجاتی ہے.
فلم کے آخر میں انڈین جہاز دوبارہ پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور حارث اپنے جہاز جے. ایف 17 جو شیردل کے نام سے جانا جاتا ہے،کے ساتھ محاز پر جاتا ہے. وہ انڈین جہاز میں ارون ویرانی کو دیکھتا ہے مگر یہاں دوستی پیچھے رہ جاتی ہے اور فرض شناسی غالب آتی ہے. حارث ارون ویرانی کے جہازکا مسلسل پیچھا کرتے ہوئے نشانے پر لاتا ہے اور بالآخر اسے پاکستانی حدود میں گرا لیتا ہے.
اب بات ہو کچھ تجزیئے کی، فلم شیر دل میں حب الوطنی، دوستی، پیار محبت، تعلقات، مزاح سب ہی کچھ دکھایا گیا مگر کہانی میں تھوڑی بے ربطی رہی. ایسا محسوس ہوا کہ بہ یک وقت کئی موضوعات کو ایک فلم میں دکھانے کی کوشش کی گئی ہے. فلم کی منظر کشی عمدہ تھی اور موسیقی بھی دل لبھانے والی تھی. خاص طور پر شادی کے موقع پر گایا ہوا گانا (کڑی دا جھمکا) ایک اچھا اضافہ ثابت ہوگا شادی بیاہ کے موقع پر. بنیادی طور پر دیکھا جائے تو فلم تفریح کے حساب سے ٹھیک تھی. فلم کے ہیرو حارث کے دوستوں کے ساتھ جومنظر دکھائے گئے وہ ناظرین کو محظوظ کرنے کے لیے خاصے اچھے تھے. اس کے علاوہ فلم کے ذریعے جنوبی ایشیا میں برابری کی سطح پر امن اور دوستی کا جو پیغام پہنچایا گیا وہ ایک خاصہ مثبت قدم ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں