سوشل میڈیا اور واٹس ایپ پر سنے جانے والی یہ آواز جناب نعمان خان صاحب کی ہے جو پاکستان کی ایک نجی کمپنی میں بطور پروجیکٹ مینیجر کام کرتے ہیں.

سنا ہے، عید پر اس نے، نئے کپڑے بنوائے ہیں،
حنا کے رنگوں سے اپنے ہاتھ بھی سجائے ہیں،
گھر کی دیواروں پہ، کروایا ہے رنگ و روغن،
اور ان پہ نئے، فن پارے بھی لگائے ہیں،
یہ آنکھیں کبھی منافقت کرتی نہیں،
پھیلے کاجل میں جانے، کتنے غم چھپائے ہیں،
ہونٹوں پہ جنبش، اور بے ربط سا تبسم،
شاید کچھ خیالات، لبوں پہ کپکپائے ہیں،
موبائل کو بے چینی سے دیکھتے،
کچھ پرانے پیغام نظر آئے ہیں،
وہ خود پر قابو رکھ نہ سکی،
شہید کی بیوہ نے جذبات چھلکائے ہیں،
اس کی خوشبو، وہ ساری باتیں،
وہ سب لہجے یاد آئے ہیں،
جو شہید کی تھی آخری نشانی،
وہ وردی، وہ تمغے آج نکل آئے ہیں،
اس بہادر سپاہی کے بیٹوں نے،
سارے تمغے پھر سجوائے ہیں،
آج وطن میں عید ہے لیکن،
ہمارے بابا گھر نہیں آئے ہیں،
تم آذادی سے وطن میں عید منالو،
وہ خوشیوں کی قیمت چکا آئے ہیں،
اتنی سستی نہیں ہے یہ آزادی،
وہ اپنی جان قربان کر آئے ہیں۔