Embed HTML not available.

پاکستان انفارمیشن اینڈ کلچرل سوسائیٹی کے زیرِ اہتمام “سلام پاکستان .۴ ” کا انعقاد

‎70,80 کی دہائی تک پاکستان دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے کافی کشش رکھتا تھا۔ لیکن پھر افغانستان میں جنگ اور خطے کے بدلتے ہوئے حالات کی وجہ سے یہ کشش کم ہوتی گئی اور دھیرے دھیرے نا ہونےکے برابر ہوگئی۔
لیکن گزشتہ چند سالوں میں دنیا بھر کے سیاح ایک دفعہ پھر سے پاکستان کے طرف مائل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ انہی سب باتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پاکستان انفارمیشن اینڈ کلچرل سوسائیٹی سویڈن نے اپنے سالانہ پروگرام “ سلام پاکستان “ (جو کہ وہ ۲۰۱۶ سے مسلسل کرتے آرہے ہیں) کا عنوان “ سلام پاکستان،۴ سیاحوں کی نظر سے “ کا اہتمام کیا۔
چونکہ عالمی وبا کی وجہ سے گزشتہ سال اسی پروگرام کو منسوخ کرنا پڑا تھا تو حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس دفعہ آن لائن پروگرام کیا گیا۔
نظامت کے فرائض پکس کے فائننس مینیجر اشعر خان اور پکس کے صدر شہزاد انصاری نے انجام دیئے۔آغاز میں شہزاد انصاری نے پکس اور سلام پاکستان کے حوالے سے معلومات فراہم کی۔ سویڈن میں مقیم سفیرِ پاکستان جناب ظہور احمد نے پاکستان میں سیاحت کے فروغ اور سفارت خانے کی بھرپور مدد کی یقین دہانی کرائی۔
پروگرام کی سب سے اہم بات گورنر پنجاب جناب چوہدری سرور اور وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے بیرونِ ملک پاکستانی جناب زلفی بخاری کی خصوصی شرکت تھی۔ گورنر پنجاب جناب چوہدری سرور نے پنجاب میں سیاحوں کے حوالے سے دی جانے والی سہولیات کی تفصیل بیان کی۔ وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی جناب زلفی بخاری جو کہ ادارہ برائے فروغِ سیاحت پاکستان کے چیرمین بھی ہیں پاکستان میں سیاحت کے شعبے میں کی جانے والی پیش رفت کی تفصیل بتاتے ہوئے نئے سیاحوں کو پاکستان آنے کی دعوت دی۔
اپنی زندگی کے ۳۸ سال پاکستان میں گزار کر پاکستان کی خدمت کرنے والی سویڈش خاتون وینی لیکارڈل (جنھیں پاکستانی حکومت کی جانب سے انکی خدمات کے صلے میں ۲۰۲۱ میں
تمغۂ حسنِ کارکردگی سے بھی نوازا گیا) نے بھی پاکستان میں گزارے لمحات کو یاد کرتے ہوئے پاکستان کا سفر کرنے کا مشورہ دیا۔
کینیڈا میں مقیم پاکستانی موسیقار اور وُلاگر شیزان سلیم ( شیزان سلیم مشہور و معروف پاکستانی سنگر اور موسیقار جناب سلیم جاوید کے صاحب زادے ہیں) نے بھی اپنی دستاویزی فلم کی عکس بندی کے دوران ہونے والے تجربات اور خوبصورت لمحوں کی تفصیل بتائی۔
دیگر مقریرین جن میں جونی نورمارک فرسکلے( وُلاگر اور ٹور گائیڈ)، ہینز ورنر ویسلر ( پروفیسر جنوبی ایشیائی زبانوں اور ثقافت)، ایوا ڈنڈر ( موسیقار، سنگر)، لارش لنگ ( کلین ٹیک)، محسن سلیمی ( پاکستان سویڈش بزنس کونسل )،اور اندرس ہلٹن ( پروفیسر پنجاب اسکول) شامل تھے پاکستان میں اپنے گزارے ہوئے لمحوں کی یادوں کا ذکر کرتے ہوئے دیگر لوگوں کو بھی پاکستان کی حسین وادیوں، گرم ساحلوں، قدیم ثقافت اور لذیز کھانوں سے لطف اندوز ہونے کے دعوت دی۔
آخر میں میزبان نے اس پروگرام میں معاونت کرنے پر سفارت خانہ پاکستان سویڈن و فن لینڈ،پاکستان سویڈش بزنس کونسل، رئیا منی ٹرانسفر، اور دیگر معاونین کا شکریہ ادا کیا۔















اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں