42

سیر کو سوا سیر

کیا ہو گیا بھائی! کہاں غائب ہوگئے تھے ؟ دو دن سے تمہیں کال پر کال کیے جارہا ہوں ، اٹھاتے ہی نہیں ہو تم، سب خیریت تو ہے نا؟ کیفے نفیس میں بیٹھے تنویر نے حماد کو دیکھتے ہی ایک ہی سانس میں کئی سوالات کرڈالے.
ہاں یار دیکھیں تو تھیں تمہاری کالیں مگر بس کچھ مصروفیت ہی ایسی تھی کہ جواب نہ دے سکا.حماد باری باری وہاں موجود لوگوں سے ہاتھ ملاتے ہوئے بولا.
اب ایسی بھی کیا مصروفیت کہ پلٹ کے خبر بھی نہ لی کسی کی. ویسے پچھلے ہفتے تمہارامیچ تھا 7 نمبر والے شاکر سے.تم نے خود ہی شرط لگائی تھی اور پھر آئے نہیں. ہماری تو بات خراب ہوگئی نا ان کے سامنے.شفیق ڈبو (کیرم) کی گوٹیاں سجاتے ہوئے طنز سے بولا.
ہاں تو میں تمہاری طرح فارغ تھوڑی ہوں اور نہ ہی میرے ابا کی بسیں چلتی ہیں شہر میں تمہارے ابا کی طرح. نوکری پیشہ ہیں ہم اور تم کیا جانو نوکری کیا بلا ہے؟ کبھی کی ہوتو پتہ ہو.غلامی کا دوسرا نام ہے نوکری. حماد تیز لہجے میں شفیق کو گھورتے ہوئے بولا.
اس بات سے کیا مطلب ہے تمہارا؟ کہیں اور کا غصہ یہاں نکال رہے ہو شاید . شفیق نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دینے میں دیر نہ لگائی.
اس سے پہلے کہ بات تو تومیں میں سے آگے بڑھتی سامنے بیٹھے ضیاء نےشفیق کو آنکھ کے اشارے سے چپ ہو جانے کا کہا اور حماد کو ساتھ لیکر نسبتاً دور رکھی ایک میز کی جانب بڑھ گیا.
کاکے دو چائے لاؤ ! ملائی والی کڑک.ضیاء نے وہاں کام کرنے والے لڑکے سے کہا اور پھر حماد کو کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولا! کیوں آگ بگولا ہورہا ہے بھائی؟ دوستوں کی باتوں کا برا نہیں مناتے. مانا کہ ہماری ملاقات کو زیادہ عرصہ نہیں ہوا مگر ہم سب تمہیں اپنا دوست ہی سمجھتے ہیں.اب بتاؤ کیا بات ہے؟ اگر پیسوں ویسوں کی ضرورت کا کوئی معاملہ ہے تو فکر کرنے کی کوئی بات نہیں.ہم دوست کس دن کے لیے ہیں.
حماد نے ٹھنڈی سانس بھر کر ضیاء کی طرف دیکھا اور نرمی سے بولا !ایسی کوئی بات نہیں ہے.میں بھی تم لوگوں کی خاطر ہی تو یہاں آتا ہوں اور رہی بات پیسوں کی تو بھائی!ہم جیسے طبقے کے لوگوں کو تو ہر وقت ہی پیسوں کی تنگی کا سامنا رہتا ہے. کوئی ایک دن کی بات ہو تو آدمی بولےبھی.
توپھر کیا بات ہے؟ کیوں پریشان ہو؟ گھر والوں کی طرف سے کوئی پریشانی ہے کیا؟ ضیاء نے اصرار کیا.
کیا بتاؤں یار! ایک ذرا سی بات پر باس سے تلخ کلامی ہوگئی اور اس نے کھڑے کھڑے نوکری سے ہی نکال دیا. میں پوری دلجمعی اور دیانت داری سے کام کرتا ہوں.آج تک کبھی کسی کام کے لیے باس کو منع نہیں کیا. آندھی آئے طوفان آئے ، کبھی ایک دن کی چھٹی نہیں کی دفتر سے اور اس وفاداری کا یہ صلہ ملا مجھے؟ امی کی طبیعت بہت خراب تھی. ان کو ہسپتال لے جانا ضروری تھا. اب مجھے کیا پتہ تھا کہ ان کو ہیضہ ہوگیا ہےاور احتیاطاً ایک دن ہسپتال میں رکھیں گے. اس صورتحال میں، میں دفتر جا ہی نہیں سکا. ایک کولیگ کے ذریعے پیغام بھجوا دیا تھا مگر وہ صاحب بتانا بھول گئے. اگلے دن دفتر پہنچا تو فوراً ہی طلبی ہوگئی اور جب صفائی دینے کی کوشش کرنے لگا تو باس کو غصہ آگیااور استعفیٰ تھما دیا. اب بتاؤ! گھر والوں سے کیا کہوں؟ گھر میں بوڑھے اور بیمار والدین ہیں، چھوٹے بہن بھائی ہیں جو ابھی پڑھ رہے ہیں. کیسے گزارا ہوگا؟ کمانے والا تو ایک میں ہی ہوں.جمع پونجی بھی کچھ نہیں کہ اسی کے آسرے پر بیٹھا رہوں. نوکری کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا ہوں. اسی لیے نہیں آرہا تھا دو ہفتوں سے. یہ کہتے کہتے حماد روہانسا ہوگیا.
ضیاء نے حماد کا شانہ تھپتھپایااور دلاسہ دیتے ہوئے بولا!پریشان نہ ہو کچھ سوچتے ہیں؟ اچھا کیا تم نے سب بتادیا. میرے کچھ جاننے والے ہیں. بات کرتا ہوں ان سے تمہارے بارے میں ، فکر نہ کرو ،کہیں نہ کہیں تو کام بن ہی جائے گا.پھر ڈبو کے پاس کھڑے لوگوں کی طرف دیکھ کر بولا !چلو وہاں چلتے ہیں سب ہمارا ہی انتظار کررہے ہیں.
دو چار دن ہی گزرے تھے کہ حماد کے پاس ضیاء کا فون آیا اور اس نے اسے سہ پہر چار بجےصدر کے علاقے میں جہانگیر پارک کے قریب بنے رستم چائے خانے میں ملنے کو کہا. حماد جب مقررہ جگہ پہنچا تو ضیاء کو اپنا منتظر پایا . علیک سلیک کے بعد ضیاء نے حماد سے نوکری ملنے کی بابت پوچھا. جواب میں حماد نے مایوسی سے نفی میں گردن ہلائی اور ضیاء کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ کر بولا!تم نے کہا تھا کہ بات کروگے اپنے کسی جاننے والے سے؟
ہاں ہاں ! میں نے اسی سلسلے میں یہاں بلایا ہے تم کو. کیفے پر سب کے درمیان بات نہیں ہوپاتی کھل کر .ضیاء نے گلا کھنکھارتے ہوئے کہا.پھر حماد کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا!اچھا یہ بتاؤ !تم میرے بارے میں کیا جانتے ہو؟
میں!بہت زیادہ تو نہیں جانتا تمہارے بارے میں . البتہ اس چھ مہینے کے عرصے میں جب سے کیفے میں آنا جانا شروع ہوا ہے ، اتنا تو جانتا ہوں کہ تم لائنز ایریا میں تنویر کے گھر کے پاس ہی رہتے ہو اور حیدرآباد میں اچھی خاصی عیش والی نوکری کرتے ہو .میری تم سسب سے پہلی ملاقات کیفے نفیس میں تنویر کے توسط سے ہی ہوئی تھی، تمہیں یاد ہوگا؟ اس نے بتایا تھا کہ خوب رونق لگتی ہے وہاں ہر ہفتے کے اختتام پر چھٹی والے دن یار دوستوں کے ساتھ.اور واقعی! اب تو میں خود بھی چھٹی کے دن کا انتظار کرتا ہوں یہاں آنے کے لئے .مگر ان سب باتوں کا میری نوکری سے کیا تعلق ہے بھائی؟حماد نے حیرانی سے ضیاء کو دیکھتے ہوئے کہا.
تعلق ہے اور بہت گہرا ہے. یہ تو تم جانتے ہو کہ میں حیدرآباد میں کام کرتا ہوں اور وہ بھی ہفتے میں پانچ دن .پیسے بھی اچھے خاصے کما لیتا ہوں.خرچے کے بعد اچھی خاصی بچت بھی ہوجاتی ہے.ضیاء نے مسکراتے ہوئے کہا.
ہاں بھائی خوش قسمت ہو تم جو ایسی نوکری ملی ہوئی ہے تمہیں آج کل کے دورمیں.حماد رشک سے ضیاء کو دیکھتے ہوئےبولا.
اب تم یہ سمجھو کہ خوش قسمتی کی یہ دیوی تمہارے دروازے پر دستک دے رہی ہے.اب یہ تمہاری مرضی ہے کہ دروازہ کھول کر اسے خوش آمدید کہتے ہو یا خداحافظ کہکر یہ موقع گنوا دیتے ہو. ضیاء نےپراسرارانداز سے مسکرا کر کہا-
میں سمجھا نہیں تم کہنا کیا چاہ رہے ہو ؟ حماد نے الجھی نظروں سے ضیاء کو دیکھتے ہوئے کہا.
میں تفصیل سے تمہیں سب بتاتا ہوں مگر اس سے پہلے تمہیں ایک وعدہ کرنا ہوگا. اور وہ یہ کہ اگر تمہیں میری پیش کش قبول نہیں تو اس بات کو یہیں دفن کردوگے ہمیشہ کے لئے. ضیاء چائے کا آخری گھونٹ لیکر پیالی رکھتے ہوئے بولا.
کبھی میں بھی تمہاری طرح در در نوکری کے لئے خوار ہوتا پھرتا تھا. ایم ایس سی کی ڈگری ہوتے ہوئے بھی کہیں ڈھنگ کی نوکری نہیں مل رہی تھی کیونکہ میرے پاس سفارشی پرچی نہیں تھی. کنبہ میرا بڑا تھا. چھ بہنیں اور بوڑھے ماں باپ.باپ ،کینسر کا مریض جس کا ٹیوشن کی کمائی میں علاج کرانا میرے لئے ممکن نہیں تھا.ایک دن دوا نہ ہونے کی وجہ سے ابا کی طبیعت کافی خراب ہوگئی.جیب میں چند روپے ہی بچے تھےجو ان کی دوا کے لئے ناکافی تھے. تب میں نے پہلی مرتبہ شفیق سے کچھ پیسے ادھار مانگےجو ہمارے پرانے محلے میں رہتا تھا . اس نے فوراً ہی پیسے میری ہتھیلی پر رکھ دیئے اور کہنے لگا کہ ! اگر مزید کی ضرورت ہو تو بلا تکلف مانگ لینا.میں نے اس سے کہا! بس تھوڑی مدت میں واپس کردوں گا .نوکری تلاش کررہا ہوں جیسے ہی ملے گی سب سے پہلے اس کے پیسے ادا کردوں گا.نوکری تو نہ ملی اور گھر میں نوبت فاقوں تک پہنچ گئی.ابا کا علاج بھی ضروری تھا. مجبور ہوکر پھر شفیق سے ادھار مانگنے اس کے گھر پہنچا تو وہاں اس نےمجھے اپنے چچا قادر سے ملوایا کہ ان کو اپنے کاروبار کے لئے کچھ نئے لوگوں کی ضرورت ہے . قادر چچا نے مجھے اپنے کاروبار میں شراکت دار بننے کی دعوت دی. میں نے ان سے کہا کہ میرے پاس زہر کھانے کے پیسے نہیں ہیں، کاروبار کیسے کرسکتا ہوں؟میری بات سن کر انہوں نے قہقہہ لگایا اور بولے کہ میاں اس کاروبار کو شروع کرنے کے لئے پیسوں کی نہیں صلاحیت کی ضرورت ہےجو کہ تم میں شفیق پہلے ہی کھوج چکا ہے.
میں نے حیران ہوکر شفیق کی طرف دیکھا تو اس نے بتایا کہ قادر چچا کا گداگری کا کاروبار ہے.انہوں نے سو ڈیڑھ سو لوگوں کو مختلف علاقوں میں نوکری پر رکھا ہوا ہے جن میں مرد عورتیں اور بچے سب شامل ہیں. یہ لوگ صبح سے رات تک بھیک مانگتے ہیں اور دن بھر میں جو کچھ کماتے ہیں اس میں سے کچھ حصہ کمیشن کے طور پر قادر چچا کو دیتے ہیں . قادر چچا کے کارندے ان کا ہر طرح سے خیال رکھتے ہیں اور ان کی حفاظت بھی کرتے ہیں خاص کر پولیس سے . شفیق خود بھی اس کاروبار میں حصے دار ہے اور مہینے میں ستر اسی ہزار تک کمالیتا ہے.
اس انوکھے کاروبار اور ہر ماہ اتنی بڑی رقم ملنے کا سن کر میں تو حیران رہ گیا. تنگدستی کے مارے ہوئے میرے گھر والوں کے چہرے میری نگاہوں کے سامنے آگئے اور میں نے حامی بھر لی مگر ساتھ ہی یہ خیال بھی آیا کہ گھر والوں سے کیا کہوں گا؟ دنیا کا سامنا کیسے کروں گا؟ ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ شفیق نے یہ بتا کر یہ خوف بھی دور کردیا کہ قادر چچا اپنا کاروبار خفیہ رکھتے ہیں . نہ دنیا والوں کو خبر ہوتی ہے اور نہ گھر والوں کو پتا چلتا ہے. ایک شہر کے لوگ دوسرے شہر میں جاکر بھی کام کرتے ہیں . آس پاس کے شہروں میں بھی ان کے کارندے موجود ہیں .کچھ لوگ میک اپ کے ذریعے شکل بدل کر اپنے شہر کراچی میں ہی کام کرتے ہیں .ہمارے اپنے میک اپ پارلر ہیں جو ایسا میک اپ کرتے ہیں کہ اپنے گھر والے بھی نہیں پہچان پاتے.پھر ضیاء نے حماد سے پوچھا! تم نے جیل روڈ پر آدھا چہرہ جلی بچی کو دیکھا ہے؟ جس پر ہر گزرنے والا ترس کھا کر کچھ نہ کچھ دے ہی دیتا ہے.وہ ہماری ہی کارندہ ہے.میں خود لی مارکیٹ میں ہوتا ہوں اپاہج کے روپ میں.گھر والوں کو بتا رکھا ہے کہ حیدرآباد میں کام کرتا ہوں.
ضیاء نے بات ختم کی اور سامنے میز پر رکھے جگ سے پانی نکال کر پینے کے بعد حماد سے بولا!
تم کو یہ راز اس لئے بتا رہا ہوں کہ تم ضرورت مند ہو اورآج جو تمہارے اوپر گزر رہی ہے وہ میرے اوپر بیت چکی ہے. ہم جیسے طبقے والوں کے پاس زیادہ پیسے کمانے کا اور اپنی خواہشات پوری کرنے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں.تم راضی ہوتو بتاؤ ؟ اپنی بڑی بات ہے قادر چچا کے یہاں .امید سے زیادہ ہی دلواؤں گا تم کو.
حماد جو اب تک بڑی خاموشی سے ضیاء کی بات سن رہا تھا . اس کے پوچھنے پر بولا!
ہاں یار ، اب تو میں بھی اس غربت اور در در کی ٹھوکریں کھانے سے تھک ساگیا ہوں. نوکری اگر مل بھی گئی تو پچیس تیس ہزارسے زیادہ کیا ملیں گے. اتنے پیسے تو پھر بھی نہیں کماسکوں گا جتنے تم بتارہے ہو.چلو اب اسی طرف قسمت آزماتے ہیں.میری طرف سے ہاں ہی ہے.بس اپنے شہر میں ہی ہو تو اچھا ہے .
یہ ہوئی نا بات! سمجھو کہ تمہاری مشکلات اب دور ہونے والی ہیں.بے فکر ہوجاؤ.اپنے آس پاس ہی رکھوانے کی بات کرتا ہوں . بڑی کمائی والا علاقہ ہے. پڑیا وغیرہ سپلائی کی آمدنی الگ ہوجاتی ہے. قادر چچا سے بات کرتا ہوں پھر تمہیں بتاتا ہوں کہ ان سے کب ملنے جانا ہے .اصل میں ان کے شہر میں کئی گھر ہیں تو معلوم کرنا پڑے گا کہ کہاں ملیں گے . ضیاء نے حماد کا شانہ تھپتھپاتے پوئے کہا اور رخصت کے لئے کرسی سے اٹھ گیا.
اگلے ہی دن شام کو حماد کے پاس ضیاء کا فون آیا کہ قادر چچا سے بات ہوگئی ہے.انہوں نے دو دن کے بعد بدھ کو رات آٹھ بجے اپنے تین ہٹی والے گھر پر بلایا ہے.حماد نے ضیاء سے مکان کا پتا پوچھا کہ وہ وہاں پہنچ جائے گا مگر ضیاء نے یہ کہکر انکار کردیا کہ دونوں ساتھ چلیں گے.
دو دن کے بعد مقرر ہ وقت پر حماد ضیاء کے ساتھ قادر چچا کے گھر پہنچا .یہ تین ہٹی کے پل کے قریب اشرف کالونی میں بنا اسی گز کا ایک دو منزلہ مکان تھاجس کی اوپر کی منزل مکمل اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی جبکہ نچلی منزل پر صدر دروازے پر ایک مدہم سا پیلا بلب روشن تھا. ضیاء کے مخصوص انداز میں دروازہ کھٹکھٹانے پر ایک لمبا تڑنگا شخص باہر آیا اور ضیاء کو سلام کرکے دونوں کو اندر آنے کا اشارہ کیا. اندر چھوٹے سے صحن سے گزر کر دونوں ایک مہمان خانے میں پہنچے جہاں سامنے ایک بڑے سے صوفے پر قادر چچا اطمینان سے بیٹھا حقہ پی رہا تھا. ضیاء نے آگے بڑھ کر سلام کیا اور پھر حماد کا تعارف کرایا.قادر چچا نے حماد کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے ضیاء سے پوچھا !
اپنے کام کےمتعلق سب سمجھا دیا ہے نا اسے؟
جی جی سب بتا دیا ہے.بس آپ کی رضامندی چاہیئے تھی.ضیاء نے خوشامدی لہجے میں کہا.
تم ہمارے بھروسے کے آدمی ہو ، تم لائے ہو تو ٹھیک ہے ورنہ نئے آدمی پر اتنے جلدی بھروسہ نہیں کرتا میں.قادر چچا نے ضیاء کو اپنے ساتھ بٹھاتے ہوئے کہا.پھر کونے میں کھڑے ایک دبلے پتلے آدمی سے بولا!
لے بھئی کمالے! تیرے لئے ایک نیا شاگرد آگیا ہے. اسے سب کام اچھی طرح سمجھانا پھر کام پر لگانا.پھر حمادکو دیکھ کرکہنے لگا! دیکھو بھئی! دل لگا کر کام کروگے تو فائدے میں رہو گے. ہمارے کام میں دیانت داری اور بھروسہ بہت اہم ہے .یاد رکھنا! اگر ہمیں دھوکہ دینے کی کوشش کی تو اس کا انجام اچھا نہیں ہوگا.ہم سے بچ کر کہیں بھاگ نہیں پاؤ گے.
حماد جلدی سے آگے بڑھ کرقادر چچا کے قدموں میں بیٹھ گیا اور مسکین انداز میں کہنے لگا!جی جی میں سب سمجھ گیا. میں آپ کو مایوس نہیں کروں گا . ابھی آپ میری صلاحیتوں سے واقف نہیں ہیں.
اچھا ٹھیک ہے دیکھتے … قادر چچا ابھی اپنی بات مکمل بھی نہ کرپایا تھا کہ مہمان خانے کا بند دروازہ زوردار آواز کے ساتھ کھلا اور صدر دروازے کا لمبا تڑنگا چوکیدار اور ایک نوعمر دیہاتی سا لڑکا ہاتھ اٹھائے اندر داخل ہوئے . ان کے پیچھے پولیس کے پانچ چھ جوان تھے جن کے ہاتھ میں جدید ساخت کا اسلحہ صاف دکھائی دے رہا تھا. کمرے میں موجود قادر چچا سمیت تمام افراد بوکھلا کر کھڑے ہوگئے. قادر چچا نے یہ صورتحال دیکھ کرآن کی آن میں صوفے کے بائیں طرف بنے ایک دروازے کی جانب بھاگنے کی کوشش کی جو شاید کوئی خفیہ راستہ تھا.مگر اسی اثناء میں حماد نے پھرتی سے چھلانگ لگا کر قادر چچا کو دبوچ کر اپنے قابو میں کرلیا.ایک سپاہی فوراً ہتھکڑی لیکر آگے بڑھا اور حماد کو سلیوٹ کرکے کہنے لگا !ٹھیک ہے سر اسے اب میرے حوالے کردیں.حماد کو یوں مخاطب کیے جانے پر ضیاء کا منہ حیرت سے کھل گیا اور وہ خونخوار نظروں سے حماد کو دیکھتے ہوئے بولا !
اچھا تو تم پولیس کے مخبر ہو؟ اس سے پہلے حماد کچھ کہتا چہرے پر نقاب لگائے ایک پولیس کے سپاہی نے اپنے چہرے پر سے نقاب ہٹا ئی اور ضیاء کی طرف دیکھ کر مسکرا کر بولا!
پولیس کے مخبر نہیں کرمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کے اسپیشل یونٹ کے اے ایس پی حماد احمد علی خان اور میں، ان کا سہولت کار انسپکٹر تنویر ملک عرف کھوجی.ہم نے تم لوگوں کو رنگے ہاتھوں پکڑنے کے لئے یہ بھیس بدلا. پھر قادر چچا کی طرف دیکھ کرکہنے لگا! ہم بہت عرصے سےتمہاری تاک میں تھے جو لوگوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر انہیں معاشرے کے لئے ناسور بنادیتے ہیں.
حماد نے وہاں موجود ڈیوٹی انسپکٹر کو ان سب مجرموں کو تھانے لے جانے کا کہا اور تنویر کو ساتھ چلنے کا اشارہ کرتے ہوئے خود وہاں سے رخصت ہوکر پیدل ہی ایک طرف چل پڑا.راستے میں سڑک سے ہٹ کر ایک نیم تاریک جگہ رک کر اس نے ادھر ادھر دیکھا اور کسی تیسرے کی موجودگی نہ ہونے کا اطمینان کرنے کے بعد تنویر سے بولا. چلیے جناب کھوجی صاحب اس کیس کا یہیں اختتام کرتے ہیں. دونوں نے قہقہہ لگاتے ہوئے اپنے اپنے سر وں پر جمی بالوں کی وگ اور چہرے پر چڑھے ماسک کو کھینچ کر اتارا اور پاس ہی پڑے کوڑے کے ڈبے میں ڈال کر اپنی اپنی راہ ہولیے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

سیر کو سوا سیر“ ایک تبصرہ

  1. اچھی کہانی تھی ۔ مگر تھورا سا اور تفصیلی ہوتی تو سسپینس کا مزہ اور آتا۔ ویسے بہت دنوں بعد خالص اردو میں کچھ پرھا اچھا لگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں