34

روداد ایک سہ پہر کی۔۔۔۔اردو ادب اور غالب کے حوالے سے۔

مورخہ 19 جون 2022 کو برلن شہر کی وہ دوپہر بہت خوبصورت تھی، درجہ حرارت کا پارہ اپنی پرکیف اور مستانہ حالت میں چالیس درجے کے آس پاس محو رقص تھا۔ ہم نے، یعنی میں اور علی حیدر بھائی نے برلن کے مرکزی ریلوے اسٹیشن پر ٹورنٹو کینڈا سے تشریف لائے ڈاکٹر سید تقی عابدی صاحب کو خوش آمدید کہا اور گھر کو چلے۔ دوپہر کے کھانے پر بیگم نے لذیذ ڈشیں تیار رکھی تھیں۔ مانچسٹر سے نغمانہ کنول شیخ اور ان کے شریک زندگی امتیاز اقبال شیخ، اوسلو سے فیصل نواز چودھری اور ٹیلٹو جرمنی سے انور ظہیر رہبر اور ان کی بیگم پہلے سے ہی موجود تھیں۔ ماحاضر تناول فرمانے کے بعد ہمارے گھر کے بالکل سامنے واقع اولوف پالمےسینٹر چل پڑے۔
اولوف پالمے سینٹر والوں نے میرے بیٹے سید کاشان اور ان کے دوست ابراہیم کے ساتھ مل کر ہال کو خوبصورتی سے سجایا دیا تھا۔ بزم ادب برلن کا بڑا سا بینرجس پر تقی عابدی صاحب کی تصویر لگی تھی علاوہ ڈائس پر بھی ان کی تصویر لگی تھی۔ ہال تین بجے سے ہی بھرنے لگا اور پروگرام کے دوران تو اس قدر بھر چکا تھا کہ لوگ کوریڈور میں کھڑے رہے۔
اس پروگرام میں شرکت کے لیے انور محمود، میاں مبین اختر، قیصر ملک، منظور اعوان ، ملک ایوب اعوان اور شیخ صلاح الدین اور فاروق شاہ اور انصر بٹ صاحبان خصوصی طور پر تشریف لائے تھے۔
تقی عابدی صاحب نے جب “غالب اولین ترقی پسند شاعر” کے عنوان سے اپنی تقریر شروع کی تو لوگ عش عش کر اٹھے۔ وہ ایک زبردست مقرر اور معلومات کےخزانے سے لیس اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فارسی اور اردو کے اشعار سناتے رہے
ڈاکٹر تقی عابدی نے غالب کی اردو اور فارسی شاعری کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کے ان اشعار کا تجزیہ کیا جو غالب کی ترقی پسند شاعری کی تصدیق کرتے ہیں۔ڈاکٹر تقی عابدی نے فرمایا کہ غالب کے دور میں مغلیہ حکومت زوال کے دہانے پر کھڑی تھی اور ایک نئی تہذیب جنم لے رہی تھی۔غالب ایک روشن خیال اور ترقی پسند شاعر تھا۔اس کی نظر ایک نئی تہذیب کو آتے دیکھ رہی تھی۔غالب کی ترقی پسندی اردو کی بہ نسبت اس کے فارسی اشعار سے زیادہ ظاہر ہوتی ہے۔غالب کے تقریبا ” 16000 اشعار کا انکشاف ہوا ہے لیکن اردو کی بہ نسبت ان کی فارسی شاعری میں ترقی پسندی کا رحجان زیادہ ہے۔انہوں نے غالب کے چند فارسی اشعار پیش کئے جن سے غالب کی بصیرت انگیزی کا اندازہ ہوتا ہے۔غالب نے بتایا ہے کہ انسان کچھ بھی نہیں ہے اگر اس کے پاس ہمت نہ ہو۔مخلوق کیا ہے اگر روم فتح کرلے لیکن یہ سب کچھ بھی نہیں اگر اس کے پاس ذاتی صلاحیت نہ ہو۔جو کوئی اس پردہ دنیا میں قابل جہاد ہے وہ صرف اپنی ہمت عالی کی بدولت۔جب خدا لکھنے کی توفیق دیتا ہے تو سوائے خدا کے تمام دوسرے نام کاٹ دئیے جاتے ہیں۔اگر تمہاری ہمت اپنے پروں کو کھولے تو تمہیں ہما کا مقام مل جاتا ہے۔ڈاکٹر تقی عابدی کا کہنا ہے کہ غالب کے دور میں نہ تو ترقی پسندی کا کوئی معیار تھا اور نہ ہی اب تک کسی کی سوچ وہاں تک پہنچی تھی۔غالب کے اردو اشعار کا مجموعہ تقریبا”16000 اشعار پر مبنی ہے۔غالب ایک۔ایسے موڑ پر کھڑا تھا جہاں پرانی تہذیب شکستہ حالت میں تھی اور ایک نئی تہذیب جنم لے رہی تھی۔اس وقت کے موجود شعراء ذوق، شیفتہ،مومن وغیرہ کو لیں تو نہ ان کے پاس پرانی تہذیب کے لٹنے کا غم تھااور نہ ایک نئی تہذیب کا کوئی خاکہ تھا جسے فرہنگ جدید کہتے ہیں۔
ڈاکٹر سید تقی عابدی مقالے کے اختتام پر سوالات کے وقفے میں مدلل جوابات دیتے رہے۔ سوالات کے وقفے میں پہلا سوال تاجر اور سیاسیت داں انصر بٹ کی طرف سے تھا۔
تقریب کے اگلے حصے میں مشاعرہ رکھا گیا تھا۔جن شعراء نے شرکت کی ان کے نام یہ ہیں۔ سید علی حیدر عابدی، سید تقی عابدی(ٹورنٹو)، سرور غزالی، نغمانہ کنول(مانچسٹر)، عشرت معین سیما، انور ظہیر رہبر، آصف اقبال (پراگ) بسمہ بی بی، مایا حیدر، میاں مزمل لطیف، کوثر محمود رامے، طاہرہ رباب، حسنین بخاری.انور ظہیر رہبر کا یہ شعر خوب پسند کیا گیا
اک شمع کے گرد ہیں پروانے بے شمار
کیوں روشنی کہ ہیں یہ دیوانے بے شمار

کوثر محمود رامے کا یہ شعر بہت پسند کیا گیا
لکھ نہ پایا ہوں جو زندگی کا الم۔
اس لیے کر دیا سر قلم کا قلم۔

کاشف کاظمی یوں نغمہ سرا تھے
گردشِ ایام سے گھبرا سے گئے ہیں عقل و دل
کاشف ابکہ لازم ہے کہ عشق کو اپنا امام کریں۔

آصف اقبال پراگ سے تشریف لائے تھے اور ان اشعار کا تحفہ لائے
دلوں میں درد رگوں میں یہ جان کافی ہے
ستم ظریف تیرا یہ نشان کافی ہے
فرشتوں نامئے عمال کی ضرورت کیا
غم حیات کی داستان کافی ہے

جناب حسنین بخاری نے یہ اشعار پڑھے
میں بارآور شجر ہوں مجھ پہ نہ سنگ باری کرو خدا را
تم اپنے ہاتھوں سے توڑ لینا ثمر, میں شاخیں جھکا رہا ہوں
ہم بچاتے رہ گئے دیمک سے اپنے گھر مگر
چند کیڑے کرسیوں کے ملک سارا کھا گئے

جناب رشی خان نے یہ شعر نذر کیا اور خوب داد وصول کی۔
خود کو ہم بھول گئے تیرے حوالے کرکے
اور تجھے یاد نہیں ہم کو کہاں رکھا تھا

نغمانہ کنول شیخ صاحبہ نے ان اشعار پر خوب داد سمیٹی
تُجھ کو مُجھ میں ڈونڈھ رہے ہیں بستی والے
کیسے ان کو شعر سُناؤں مستی والے

جناب عامر عزیز نے یہ شعر پڑھا۔
میں روشنیوں کے شہر میں رہتا ہوں
پھر بھی ظلمتوں کے قہر میں رہتا ہوں

ریاض شیخ نے اپنا کلام سنایا
بنے مخالف آئین بنائے مجھے روٹی چائیے۔
قرضے لے مدد بلائے مجھے روٹی چائیے۔

طاہرہ رباب صاحبہ نے یہ قطعہ نذرکیا
کیا عطر بیز جھونکا تھا وجدان عشق کا
جس نے حیات گل کو گلستان بنادیا
محو تلاش رنگ بصیرت تھی سر بسر
اک جلوئے نے فکر کا سلطان بنا دیا

مایا حیدر یوں نغمہ سرا تھیں
اُس کے غم سے فرار کیا کرنا
روک کے اُس کا وار کیا کرنا
راہیں ساری ہی اُس کے گھر کو ہیں
راہ نئی اختیار کیا کرنا

عشرت معین سیما یہ شعر پڑھا
یادِ ماضی کا خزانہ مجھے بھاری ہے بہت
حافظے کی نئی زنبیل کہاں ممکن ہے

تمام شعراء کرام کے خوبصورت ترین کلام سے مزین یہ سہ پہر تقریبا” تین گھنٹے تک جاری رہی۔ جس کے بعد تمام مہمانوں کی بریانی، سموسے اور چائے سے تواضع کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں