ہمارا قومی پرچم ہماری امنگوں اور خودمختاری وآزادی کا علمبردار ہے۔ اور اس کے ادب و احترام کے کچھ تقاضے ہیں جن کا پورا کیا جانا بے حد ضروری ہے ۔ گزشتہ برس اسی حوالے سے میری تحریر ْقومی پرچم کی تکریم ْ ایک مودّبانہ گزارش تھی۔ اس اصلاحاتی گزارش کو کچھ افراد نے بے حد نا پسند کیا اور یہ شکوہ کیا کہ یہ بات لکھنے کے بجائے موقع پر سمجھائی بھی جاسکتی تھی، میں نے موقع کو غنیمت جانتے ہوئے چند مزید گزارشات کا فوراً اظہار کیا اور ہمیشہ کی طرح اس پر عمل کرنے اور کرانے کے یقین دہانی کرائی گئی۔ لیکن حسب روایت اس سال بھی پرچم اور پاکستان کا نام چھپے بینرز اسی بے ڈھنگے طریقے سے اسٹاک ہوم میں ہونے والے میلے کے اسٹیج پر لگائے گئے ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جہاں ہم اعلیٰ افسران کے پروٹوکول پر پوری توجہ دیتے ہیں وہاں سبز ہلالی پرچم کے پروٹوکول کو کیوں نظر انداز کر دیتے ہیں۔
قومی پرچم اور پاکستان کا نام ہر لحاظ سے قابل احترام ہے، کسی بھی حالت میں اس کی بے حرمتی قبول نہیں ہے اور اس کی حفاظت کو اپنا مقصد اور قومی فریضہ سمجھنا چاہیئے۔ اور اس ہی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں ایک بار پھر چند نکات کی یاد دہانی کرانے کی جسارت کر رہا ہوں۔
پاکستانی پرچم کے احترام کا تقاضا ہے کہ کوئی دوسرا پرچم اس سے اونچا نہیں لہرانا چاہیے۔
قومی پرچم مقرر اور صاحب صدر کے پچھلی طرف اس کے سر سے اونچا لگانا چاہیے ۔
قومی پرچم انتہائی مستعدی کے ساتھ لہرایا اور انتہائی ادب و احترام کے ساتھ اتارا جائے۔
قومی پرچم اور پاکستان کی تاریخ ، اہمیت اور اس کے اداب و احترام کے بارے میں نئی نسل کو ہم کیا سکھا رہے ہیں۔ کیوں خاص طور پر نشاندہی کرنے کے بعد بھی سبز ہلالی پرچم کو لہرانے اور اسٹیج کے نچلے حصے پر بینر لگانے میں کوتاہی برتی گئی۔
یہ پہلی بار نہیں ہوا ، اس لیے سویڈن میں مقیم پاکستانیوں کی دل آزاری کرنے پر انتظامیہ کو جواب دینا چاہیئے۔