2

جمشید ِگل اور زبیر حسین کی خصوصی ملاقات۔

سویڈن میں مقیم پاکستانی تاجر جمشید ِگل صاحب کی پاکستان پروموشن نیٹ ورک یورپ (پی پی این ای) کے روح رواں زبیرحسین صاحب سے فلاحی اداروں کے عطیات بڑھانے (فنڈریزنگ) کے حوالے سے خصوصی ملاقات.

جمشید ِگل صاحب اور زبیر حسین کے درمیان رمضان سے قبل فلاحی اداروں کے عطیات بڑھانے(فنڈریزنگ)کے حوالے سے اہم ملاقات جمشید ِگل کی رہائش گاہ پر ہوئی. ملاقات میں گرین پلانک کے ناصر ِگل، پی پی این ای کے وائس چئیرمین محمد سرور اور مالمو کے معروف بزنس پیشہ افراد جاوید اعظم اور عامر جنجوعہ بھی موجود تھے. اس غیر معمولی ملاقات کا مقصد ،وطنِ عزیز میں فلاحی خدمات انجام دینے والے اداروں تک زکواۃ پہنچانے اور حقیقی ضرورت مندوں تک عطیات کی رسائی کے لئے حکمتِ عملی پر غور کرنا تھا. زبیر حسین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں خدمات سرانجام دینے والے تمام تر فلاحی اداروں کی ہر ممکن مدد کرنا ہماری ذمہ داری اور اولین ترجیحات میں شامل ہے . اب خواہ وہ شوکت خانم میموریل ہو یا پھر اخوت فاؤنڈیشن یا پھر سویڈش پاکستانی کمیونٹی کا اپنا ادارہ جاسمین فاؤنڈیشن ،ہم سیاست سے بالاتر ہو کر تمام تر اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے کسی بھی ادارے کی مدد کرنے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ ہم اس ادارے سے براہ راست منسلک ہوں یا پھر کسی مخصوص عہدے پر براجمان ہوں. عہدوں کی بندر بانٹ اور خود نمائی نے نہ صرف اداروں کو بلکہ وطن عزیز کی مثبت ساکھ کو بھی دیارِغیر میں کافی نقصان پہنچایا ہے.پی پی این ای ایک ایسا ادارہ ہے جو پاکستان سے منسلک ہر شئے، فرد یا ادارے کو اس کے صحیح مقام تک پہنچانے کے لئے کوشاں ہے.ہر اوورسیز پاکستانی اگر یہ بیڑہ اٹھائے کہ ہم براہ راست بغیر دکھاوے کے فلاحی اداروں کی مالی مدد کریں گے تو یقین جانئے کہ فنڈریزنگ کے نام پر ہونے والے بڑی تقریبات کے موقع کی مد میں خرچ ہونے والی خطیر رقوم بھی مستحقین تک پہنچ سکتی ہے. نہ صرف تقریبات بلکہ متعلقہ اداروں کے عہدیدار طبقے کے سفری اخراجات بھی ایک ایسا غیر ضروری خرچ ہے جو عطیات میں کٹوتی کا باعث بنتا ہے۔
جمشید ِگل صاحب کا کہنا تھا کہ دنیاوی مصروفیات نے ہماری سوچ کو اس طرح گھیرے رکھا ہے کہ ہم ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر کبھی سوچ نہیں پاتے اور شاید یہ ہی وجہ ہے کہ ملک کا غریب طبقہ غریب تر اور امیر طبقہ، امیرترین ہوتا چلا جاتا ہے. دولت کی منصفانہ تقسیم اسلامی فلاحی مملکت کی بنیاد ہے.دولت کا چند ہاتھوں میں رہنا معاشرے میں ہر قسم کی برائی کی جڑ بنتا ہے اس لئے یہ بے حد ضروری ہے کہ ہم ملک کے غریب طبقے کے لئے فقط رمضان میں مدد کرنے کے بجائے ایسا لائحمہ عمل تیار کریں کہ جس سے مستحقین سال بھر بنیادی ضروریات سے محروم نہ رہیں اور ساتھ ہی ان کو ایسے مواقع مہیا کیے جائیں جن سے وہ اپنی مدد آپ کے تحت اپنے پیروں پر کھڑے ہو کر معاشرے کا ایک فعال حصہ بن سکیں۔
پی پی این ای کے وائس چئرمین محمد سرور کا کہنا تھا کہ مالمو میں مقیم کاروباری برادری نے متحد ہو کر عزم کیا ہے کہ فلاحی اداروں کی بے لوث خدمت کی جائے اور انشاء اللہ یہ کارواں اب نہیں رکے گا۔
ملاقات کے اختتام پر پی پی این ای کی جانب سے ِگل برادران کو پی پی این ای کی جانب سے سندھ کی ثقافت کا تحفہ اجرک اور پھولوں کا گلدستہ پیش کیا گیا۔پی پی این ای اور جاسمین فاؤنڈیشن کی جانب سے اسٹاک ہوم میں رواں ماہ ہونے والے یومِ پاکستان کے میگا ایونٹ میں ِگل برادران کو شرکت کی خصوصی دعوت بھی دی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں