67

پہلی اینٹ…ماضی کے جھروکے سے جھانکتی ایک لڑکی کی انوکھی کہانی…

” تولیہ”…غسل خانے سے مسلسل تیسری بار پیاری کی پکار سن کر بیگم رضی ، جو برآمدے میں بچھے تخت پر بیٹھی زمینوں کا حساب کتاب دیکھ رہی تھیں،جھنجھلا کر تخت سے اٹھی ہی تھیں کہ سلمیٰ بوا ہاتھ میں گلابی رنگ کا تولیہ اٹھائے ہانپتی کانپتی غسل خانے کی جانب بھاگتی نظر آئیں جو پیاری کے کمرے کے داہنی طرف حال ہی میں جدید طرز پر بنایا گیا تھا.
بیگم رضی ذرا خفگی سے سلمیٰ بوا کو دیکھتے ہوئے بولیں.” کتنی بار آپ سے کہا ہے کہ پیاری کے آس پاس ہی رہا کیجئے …کب اس کو کوئی ضرورت پڑ جائے”.
” بیگم صاب ،میں تو ادھر ہی بیٹھی تھی جب بٹیا اندر گئیں…مہمان خانے کے چوکیدار برکت میاں نے آواز لگائی کہ صاحب نے کچھ سامان بھجوایا ہے بی بی کے لئے، آکر لے جاؤ… بس وہی لینے زنان خانے کے دروازے تک گئی تھی ”. سلمیٰ بوا اپنی صفائی دیتے ہوئے بولیں.
” امی جانے بھی دیجئے ، کیوں خفا ہورہی ہیں.. . یہ بیچاری تو ہردم یہیں ہوتی ہیں میری خدمت کے لئے…ایک لمحے کو بھی جدا نہیں ہوتی مجھ سے…غلطی میری اپنی تھی جو تولیہ ساتھ لے جانا بھول گئی…ان کا کوئی قصور نہیں ہے” . پیاری بالوں میں تولیہ لپیٹے ماں کے قریب آکر بولی.
پیاری کی بات سن کر سلمیٰ بوا کی آنکھوں میں آنسو آگئے.آنسوؤں میں بھیگی آواز سے بولیں. “ارے بٹیا آپ کی صورت دیکھے بغیر تو چین ہی نہیں پڑتا مجھے…پیدائش کے پہلے ہی دن بیگم صاب نے میری گود میں ڈال دیا تھا آپ کو.پھر بیگم رضی کی طرف دیکھ کر بولیں. “بیگم صاب ،ہم ابھی سے کہے دے رہے ہیں …بٹیا بیاہ کر سسرال جائیں تو ہم کو بھی ان کے ساتھ روانہ کردیجئے گا…ان کے بغیر تو یہاں ایک پل کو بھی دل نہیں لگے گا ہمارا”.
بیگم رضی ، سلمیٰ بوا کی بات سن کر ہنستے ہوئے بولیں. ” اچھا اچھاجب اُس کے بیاہ کا وقت آئے گا تب دیکھی جائے گی…ابھی جائیے اور وہ سامان لے آئیے جو نواب صاحب نے بھجوایا ہے”. سلمیٰ بوا جی اچھا کہ کر آگے بڑھ گئیں. پیاری ماں کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی.” اباجان نے کیا سامان بھجوایا ہے امی”؟
” تمہارے کپڑوں کے تھان آنے والے تھے چین سے کتان (سلک) کے،وہی ہونگے”. بیگم رضی بولیں.
“ارے ہاں ، مجھے تو یاد ہی نہیں رہا کہہ کر ، پیاری رجو نامی نوکرانی سے بولی. ” رجو، جلدی سے جاؤ اور ہماری سہیلی عصمت کو بلا کر لے آؤ “. پھر ماں سے کہنے لگی. ” امی میں نے عصمت سے وعدہ کیا ہے کہ اب کے بار جب کتان آئی گی تو ہم ایک اسے بھی دیں گے …ہم دونوں سہیلیاں عید پر ایک سا لباس پہنیں گے”.پھر کچھ شرمندگی سے ماں کی طرف دیکھ کر بولی.” معافی چاہتی ہوں امی کہ آپ سے پوچھے بغیر ہی ہم نے اس سے وعدہ کرلیا تھا…آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں ہے نا اس بات پر”؟
بیگم رضی نے مسکرا کر پیار سے بیٹی کو دیکھا اور بولیں.”نہیں، کوئی اعتراض نہیں …تمہاری بچپن کی سہیلی ہے وہ ، ضرور دینا…دوستوں کو تحفے تحائف دینا تو اچھی بات ہے مگر بس یہ یاد رہے کہ ہمیشہ بڑوں سے پوچھ کر ”. پیاری جی اچھا کہہ کر ماں کے پہلو میں بیٹھ گئی.
” بی بی صاب! یہ سامان کہاں رکھوں”؟…دو نوجوان ملازمائیں جوسر پر چار پانچ ڈبے اٹھائے کھڑی تھیں ، پیاری سے پوچھنے لگیں. پیاری نے ہاتھ سے اپنے کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا. “وہاں، میرے پلنگ پر رکھ دو جاکر”.
یہ سن کر سلمیٰ بوا جھٹ سے بولیں. “اے بٹیا پہلے دیکھ تو لیتی کہ اس مرتبہ کون کون سے رنگ آئے ہیں”؟
“ابھی نہیں سلمیٰ خالہ ، ہم عصمت کے ساتھ ہی دیکھیں گے…پہلے وہ اپنے لئے پسند کرے گی پھر ہم کریں گے”. پیاری نے محبت سے کہا.
“سامان تو بھجوادیا نواب صاحب نے مگر خود کہاں ہیں وہ؟ اختر بھی صبح سے نہیں دکھائی دیئے؟ جائیے ذرا مہمان خانے میں دیکھ کر آ ئیے”. بیگم رضی سلمیٰ بوا سے بولیں.
سلمیٰ بوا ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے بولیں.” ارے میں تو بھول ہی گئی…نواب صاحب نے کہلوایا تھا کہ وہ مہمان کے ساتھ ہیں … اختر میاں بھی وہیں ہیں …دونوں دوپہر کا کھانا مہمان کے ساتھ ہی کھائیں گے”.
“اچھا ٹھیک ہے…مگر یہ مہمان کون ہے”؟ بیگم رضی نے پوچھا.
“جی وہ نواب اجمل علی خان کے داماد، قیصر حسین صاحب آئے ہیں”. سلمیٰ بوا بولیں.
“خیریت؟ ان کی یوں اچانک آمد کا کیا مقصد ہوسکتا ہے؟ بیگم رضی منہ ہی منہ میں بدبدائیں اور پھر سلمیٰ بوا سے بولیں.
” میں ذرا تھوڑی دیر آرام کرنے جارہی ہوں …مجیدن کو کمرے میں بھیج دیجئے تاکہ اسے دوپہر کے کھانے کے متعلق ہدایت دے دوں…مہمان کی خاطر داری میں کوئی کمی نہ رہ جائے کہیں”.سلمیٰ بوا جی اچھا کہہ کر باورچی خانے کی جانب بڑھ گئیں.
پیاری اپنی سہیلی عصمت کے ساتھ حویلی کے اندرونی حصے میں بنے باغ میں بیٹھی باتیں کررہی تھی.عصمت پیاری سے پوچھنے لگی. ” پیاری تم نے کیا سوچا ہے پھر “؟
“سوچا تو یہی ہے کہ آگے پڑھنا ہے…مجھے استانی بننے کا بہت شوق ہے” . پیاری جذبےسے بولی.
عصمت محبت بھری نظروں سے پیاری کو دیکھتے ہوئے بولی. “چلو توپھر ہم دونوں ٹیچر ٹریننگ اسکول میں داخلہ لے لیتے ہیں…ہماری خواہش بھی پوری ہوجائے گی اور ہم دونوں ہاسٹل میں ایک ساتھ رہ بھی سکیں گے”. پھر یکایک فکرمندی سے بولی.” مگر پیاری تمہیں گھر سے اجازت تو مل جائے گی نا”؟
” دیکھو کیا ہوتا ہے، امی سے بات کرونگی …ویسے تو ہمارے خاندان میں لڑکیوں کو زیادہ پڑھانے کا رواج نہیں ہے لیکن اگر امی راضی ہوگئیں تو پھر کوئی مسئلہ نہیں ہوگا”. پیاری سوچ میں پڑتے ہوئے بولی.
“اور اگر وہ راضی نہیں ہوئیں تو “؟ عصمت ڈرتے ڈرتے بولی.
“مجھے یقین ہے کہ وہ مان جائیں گی…وہ ہم دونوں بہن بھائی سے بہت محبت کرتی ہیں اور ہماری ہر خواہش پوری کرتی ہیں”. پیاری فخر سے بولی.
”اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو”. عصمت آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے بولی.
ایک دن شام کے وقت ماں کو فارغ دیکھ کر پیاری نے ان سے اپنی آگے پڑھنے کی خواہش کا اظہار کردیا. بیگم رضی نے پہلے بیٹی کو غور سے دیکھا اور پھر سمجھانے والے انداز میں بولیں. “بٹیا ! جتنا پڑھ لیا کافی ہے…مزید تعلیم حاصل کرکے کیا کرنا ہے… نوکری تھوڑی کروانی ہے ہمیں تم سے…شاید تمہارے باوا بھی حمایت نہیں کریں اس کی …اب تھوڑی توجہ باقی چیزوں پر بھی دو… نواب خاندان کی عورتوں کو گھر چلانے کے ساتھ ساتھ تھوڑا بہت زمین جائیداد کے معاملات دیکھنا بھی آنا چاہیئے…آخر کو ایک دن تم کو بھی سنبھالنا ہے یہ سب”.
ماں کی نصیحت آموز باتیں سن کر پیاری لاڈ سے ان کے گلے میں بانہیں ڈال کر بولی. “میری اچھی امی…مگر یہ میرا شوق ہے…آپ تو ہمیشہ میری ہر خواہش پوری کرتی ہیں…بس آپ کو مجھے اجازت دینی ہوگی اور ابا جان سے بھی دلوانی ہوگی…میں اپ سے وعدہ کرتی ہوں کہ اس کے بعد کبھی کوئی ضد نہیں کروں گی…آپ جو کہیں گی وہ چپ چاپ مان لوں گی”.
اکلوتی بیٹی کے اس انداز نے بیگم رضی کے دل کو موم کی طرح پگھلا دیا اور بالآخر انہوں نے ہاں کردی اور جلد ہی شوہرسے بات کرکے سب انتظامات کرنے کا عندیہ بھی دے دیا.
اگلے ہی دن رات کے کھانے سے فراغت کے بعد نواب رضی احمد اپنے مطالعے کے کمرے میں آرام کرسی پر بیٹھے کسی کتاب کے مطالعے میں گم تھے کہ بیگم رضی کمرے میں داخل ہوئیں اور دروازہ بھیڑتے ہوئے شوہر سے بولیں. ” نواب صاحب ، آپ کا تھوڑا وقت درکار ہے ہمیں …پیاری کے سلسلے میں کچھ ضروری بات کرنی ہے”.
نواب رضی احمد نے مور کے پر سے نشانی رکھ کر کتاب بند کی اور مسکرا کر بیوی کو سامنے رکھی دوسری کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولے. “خوشا نصیب ہمارے ، کہیئے !ہم سن رہے ہیں … کیا کہنا چاہتی ہیں آپ ” ؟
بیگم رضی ان کو پیاری کے آگے پڑھنے کی خواہش کا بتانے لگیں اور ساتھ یہ بھی کہ وہ اجازت دے چکی ہیں . نواب رضی احمد یہ سن کر سنجیدگی سے بولے. “دیکھئے بیگم، پیاری کے آگے تعلیم حاصل کرنے میں مجھے تو کوئی اعتراض نہیں ہے مگر آپ جانتی ہیں کہ ہمارے خاندانوں میں لڑکیوں کو اتنا پڑھانے کا رواج نہیں ہےبلکہ اس عمر میں آنے تک تو ان کی شادیاں کردی جاتی ہیں یا کم از کم نسبت پکی کردی جاتی ہے… اب ایسے ماحول میں آپ بیٹی کو ہاسٹل بھیج کر پڑھانے کا قدم اٹھائیں گی تو لوگ طرح طرح کی باتیں بنائیں گے…جہاں تک میرا تعلق ہے تو مجھے رتی برابر پرواہ نہیں ہے لوگوں کی بلکہ خوشی ہے کہ ہماری بیٹی کو تعلیم حاصل کرنے کا شوق ہے…مگر آپ دیکھ لیجئے… بعد میں پریشان نہ ہوتی پھریئے گا لوگوں کی باتوں سے “.
بیگم رضی، جو دھیان سے شوہر کی بات سن رہی تھیں، ان کے آخری جملے پر چمک کر بولیں. “یہ خوب کہی آپ نے! یہاں کس کی مجال ہےجو ماہ جبین بانو کی بیٹی کے لئے کچھ الٹا سیدھا بول سکے…اس پورے علاقے میں اب بھی بڑا رعب و دبدبہ ہے ہمارے ابا مرحوم نواب میر سعادت علی کا…اور جہاں تک بات خاندان والوں کی ہے ان سے بھی میں نپٹنا جانتی ہوں… بے فکر رہیےآپ کو زحمت نہیں دوں گی کسی مسئلے میں “.
بیوی کی دو آتشہ لہجے میں بات سن کر رضی احمد مسکرائے اور شرارت سے بولے. “ارے آپ تو فیصلہ کیے ہی بیٹھی ہیں …خاندان والوں کی کیا ہماری بھی مجال نہیں جو چوں بھی کرسکیں آپ کے سامنے”.پھر سنجیدگی سے بولے. ویسے ایک دو اچھے رشتے بھی ہیں ہماری نظر میں پیاری کے لئے …لیکن… خیر ابھی پڑھنے دیجئے ہماری بیٹی کو …یہ قصہ بعد کے لئے اٹھا رکھتے ہیں”.
“بیٹی کے لئے داماد اور بیٹے کے لئے بہو، میں دونوں ہی خوب چھان پھٹک کر ڈھونڈوں گی”. بیگم رضی مسکرا کے بولیں.
نواب رضی احمد بیوی کا دل رکھتے ہوئے بولے . “ہاں ہاں کیوں نہیں، آپ کے بغیر کوئی فیصلہ تھوڑی ہوسکتا ہے ہمارے بچوں کا”. پھر فکرمندی سے بیوی سے بولے. “ہمیں اختر کی فکر زیادہ لگی رہتی ہے”.
”اختر کی کیا بات کی آپ نے؟ ان کی کیا فکر؟ کوئی بات ہوئی ہے کیا جو ہمارے علم میں نہیں”؟ بیگم رضی گھبرا کے شوہر سے بولیں.
” نہیں نہیں، اللہ نہ کرے …ایسی کوئی بات نہیں … بھئی جوان جہان ہیں اس لئے ان کے مستقبل کی فکر دامن گیر رہتی ہے…مستقبل میں گھر کی سربراہی انہی کو کرنی ہے…ہم نے چاہا تھا کہ اعلیٰ تعلیم کے لئے لندن بھیج دیں مگر انہیں شوق نہیں”. نواب رضی احمد بولے.
” کوئی بات نہیں …ہمیں بھی اپنے اکلوتے بیٹے کو اتنی دور پردیس بھیجنا گوارا نہیں…ہمارے پاس اللہ کا دیا اتنا ہے کہ ہمارے بچوں کی نسلیں سکون سے بیٹھ کر کھا سکتی ہیں”. بیگم رضی غرور سے بولیں.
“بات آپ کی درست ہے بیگم…خدا کا بہت کرم شامل ہے مگر فکر کی بات یہ بھی ہے کہ نوابوں کے بچوں کو بگڑتے دیر نہیں لگتی…اپنی زمین جائیداد کی دیکھ بھال خود کرنی ہوتی ہے…نوکروں چاکروں پر نہیں چھوڑا جاسکتا ورنہ سب برباد ہوجاتا ہے…ہم اختر میاں کو زیادہ کچھ نہیں بولتے کہ کہیں ان کے دل میں یہ خیال نہ پیدا ہو کہ ہم ان کے سگے باپ نہیں ہیں اس لئے ڈانٹ ڈپٹ کررہے ہیں…حالانکہ ہمارا خدا گواہ ہے کہ ہم نے انہیں اپنی اولاد سے زیادہ ہی سمجھا ہے ہمیشہ”. نواب رضی احمد دلگرفتگی سے بولے.
بیگم رضی شوہر کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر انہیں دلاسہ دیتے ہوئے بولیں. “آپ کی اختر سے محبت پر کسے شک ہے …اور ویسے بھی سوتیلے باپ سے پہلے آپ ان کے سگے چچا ہیں…ایک ہی خون دوڑ رہا ہے آپ دونوں کے اندر…پریشان مت ہوا کیجئے، میں بات کرتی ہوں اختر سے اور سمجھاتی ہوں انہیں کہ زمین جائیداد کی دیکھ بھال میں دلچسپی لیں…آگے بھی انہیں ہی سنبھالنا ہے انشاءاللہ سب ٹھیک ہوگا”.
پھر کچھ یاد آنے پر شوہر سےکہنے لگیں. “ارے ہاں دیکھئے یاد آیا! اس دن قیصر حسین صاحب تشریف لائےتھے، سب خیریت تو ہے؟ آپ نے ذکر بھی نہیں کیا ان کی آمد کا”؟
” ذکر کیا کرتے …وہ پیاری کے لئے نواب مختار الملک کے بیٹے اظفر الملک کا رشتہ لیکر آئے تھے”.نواب رضی احمد ناگواری سے ماتھے پر بل ڈال کر بولے.
بیگم رضی حیران ہوکر شوہر کا منہ تکتے ہوئے غصے سے بولیں. ” کیا کہہ رہے ہیں آپ؟ ان کی تو دو بیویاں پہلے فوت ہوچکی ہیں اور چار بچوں کے باپ بھی ہیں وہ…عمر بھی چالیس کے لگ بھگ ہے ان کی اور پیاری کی بات کررہے ہیں؟ وہ ابھی فقط سولہ سال کی ہے…ان کی بڑی بیٹی انجم آرا سے چند سال ہی بڑی ہوگی…حد ہے بھئی! صاف صاف انکار کردیجئے اور کہہ دیجئے کہ ایسی بات سوچیں بھی نہیں… ہماری نازوں پلی بیٹی کے لئے کیا رشتوں کی کال پڑگئی ہے جو ہم ان سے بیاہ دیں اُسے”.
” فکر نہ کیجئے ، ہم پہلے ہی انکار کرچکے ہیں اور چھوڑیئے اس بات کو… ہماری لڑکی کے لئے اس کے ننھیال ددھیال دونوں میں بہت سے لوگ امیدیں لگائے بیٹھے ہیں… وقت آنے پر دیکھا جائے گا کہ کس کا انتخاب کریں”. نواب رضی احمد نے بات ختم کرتے ہوئے کہا.
چھٹی کا دن تھا. پیاری کے ماموں ممانی اور ان کی دو بیٹیاں، فہمیدہ اور عذرا، ان کے یہاں آئے ہوئے تھے. بڑوں سے سلام دعا کے بعد تینوں لڑکیاں پیاری کے کمرے میں بیٹھی تھیں. فہمیدہ ، پیاری کی ہم عمر تھی جبکہ عذرا اس سے تین سال چھوٹی تھی.
عذرا پیاری کے گلے لگتے ہوئے بولی. “پیاری باجی ،کتنے مہینوں کے بعد آپ کی شکل دیکھنے کو ملی ہے ہمیں”.
“ہاں بہت دنوں کے بعد ملاقات ہورہی ہے تم لوگوں سے… پچھلی بار جب میں گھر آئی تھی تو تم لوگ لاہور گئے ہوئے تھے، ماموں کے کسی دوست کی بیٹی کی شادی میں”. پیاری بولی.
“جی ! ابا جان کے دوست ہیں نا وہ لاہور والے، زمیندارحمید اللہ صاحب، ان کی بیٹی کی شادی تھی. ان کا بڑا اصرار تھا کہ ہم سب گھر والے شادی میں آئیں …دراصل ان کے لڑکے مجید اللہ کی آپاسے نسبت کی بات بھی چل رہی ہےمگر ابھی آپ کسی کو مت بتائیے گاورنہ بڑوں سے ڈانٹ پڑے گی…اماں پھوپھی جان کو بتانے ہی آئی ہیں”. عذرا جلدی جلدی ساری تفصیل بتاتے ہوئے بولی.
“یہ تو بہت اچھی خبر ہے…فہمیدہ تم کو بہت مبارک ہو…شادی کب ہوگی”؟. پیاری خوش ہوکر بولی.
” فی الحال تاریخ طے تو نہیں کی ہےمگر شاید سال کے آخر میں”. فہمیدہ شرما کر بولی.
” پیاری باجی! آپ کو پتہ ہے، آپا کے سسرال والے سب مسلم لیگی ہیں اور پاکستان کے حامی بھی”. عذرا جوش سے بولی. پھر بستر کے سرہانے تپائی پر رکھی کتابوں کو دیکھ کر پوچھنے لگی. “آپ کی پڑھائی کب ختم ہوگی پیاری باجی”.
” بس دو تین مہینے ہیں امتحان میں، اس کے بعد ختم “. پیاری نے مسکرا کر کہا.
” اس کے بعد آپ استانی بن جائیں گی اور بچوں کو پڑھائیں گی”؟ عذرا حیرت سے بولی.
” ہاں استانی تو بن جائیں گے مگر پڑھانے کی اجازت شاید نہ ملے”. پیاری افسردگی سے بولی.
” میں بھی آپ کی طرح ہاسٹل میں رہ کر پڑھوں گی اور استانی بنوں گی…پھر اپنا اسکول کھولوں گی لڑکیوں کے لئے”. عذرا جوش سے بولی ہی رہی تھی کہ فہمیدہ بہن کے سر پر پیار سے چپت لگاتے ہوئے اسے ٹوک کر بولی.”خیالوں کی دنیا سے نکل آؤ بی بی…تمہیں بڑی اجازت ملے گی پڑھنے کی اور اسکول کھولنے کی…ہمارے اماں ابا، پھوپھی جان اور پھوپھاجان کی طرح روشن خیال نہیں ہیں…بھول جاؤ سب، سلائی کڑھائی اور گھرداری سیکھو بس”.
فہمیدہ کی بات پر عذرا کو منہ بسورتے دیکھ کر پیاری عذرا سے کہنے لگی. “بھئی اگر تمہیں اس قدر شوق ہے پڑھنے کا تو میں امی سے کہوں گی کہ وہ ماموں ممانی سے بات کریں”.
” مگر پیاری باجی آپ تو جانتی ہیں کہ ابا جان سخت خلاف ہیں لڑکیوں کی زیادہ تعلیم کے”. عذرا اُداسی سے بولی.
” تم بالکل فکر نہ کرو میری بہن…امی ان کو قائل کرلیں گی “. پیاری عذرا کی ڈھارس بندھاتے ہوئے بولی.
” ویسے پھوپھی جان نے تم کو پڑھانے کا بہادرانہ فیصلہ کرکے خاندان کی بہت سی لڑکیوں کے دل میں امید کی شمع جلادی ہے”.فہمیدہ پیار سے بولی.
” میری امی ہمیشہ سے فیصلہ کرنے میں بہت بہادر ہیں …وہ کبھی زمانے سے نہیں ڈرتیں…تم لوگ دیکھنا، وہ دن دور نہیں جب ہمارے خاندان کی لڑکیاں بھی بلاروک ٹوک اعلیٰ تعلیم حاصل کریں گی”. پیاری نے یقین سے کہا.
” اچھا اب چھوڑو نا یہ انقلابی باتیں”.فہمیدہ پلنگ سے اٹھتے ہوئے بولی.پھر عذرا سے کہنے لگی.”اب تم جاؤ یہاں سے ہمیں اپنی باتیں کرنی ہیں”. عذرا منہ بناکر کمرے سے چلی گئی.اس کے جانے کے بعد فہمیدہ نے کمرے کا دروازہ بند کیا اور پیاری سے کہنے لگی. “پیاری اختر بھیا کے معاملے کا پتہ چلا تمہیں”؟
” نہیں ، کیسا معاملہ”؟ پیاری سوالیہ نگاہوں سے فہمیدہ کو دیکھتے ہوئے بولی.
” ارے پچھلے دنوں بڑا قضیہ ہوا ہے یہاں”. فہمیدہ پیاری کے قریب آتے ہوئے بولی.
” قضیہ ، کیسا قضیہ؟ کیا بولے جارہی ہو، کھل کے بتاؤ بھئی”. پیاری نے گھبرا کر کہا.
” اپنے اختر بھیا کا اور کس کا؟ تم کو ابھی تک نہیں پتہ؟” فہمیدہ حیرت سے بولی.
” نہیں ! پرسوں شام ہی تو میں واپس آئی ہوں …کسی نے کچھ ذکر بھی نہیں کیا”. پیاری پریشانی سے بولی.
” ارے اتنی پریشان نہ ہو … بات یہ ہے کہ اختر بھیا کو اظفر الملک کی بڑی بیٹی انجم آرا پسند آگئی ہیں اور وہ بضد ہیں کہ شادی کریں گے تو صرف انہی سے ورنہ جان دےدیں گے ان کی محبت میں”.فہمیدہ ہنستے ہوئے بتانے لگی.
” اللہ نہ کرے جو ہمارے بھیا کو کچھ ہو…خدا ان کو سلامت رکھے”. پیاری جلدی سے بولی اور پھر فہمیدہ سے پوچھنے لگی. ” مگر فہمیدہ ، بھیا نے انجم آرا کو کہاں دیکھا؟ وہ تو پردے کی سخت پابند ہیں”.
” آمنہ کی شادی پر چاروں بہنیں آئی تھیں. .. سنا ہے ، وہیں دیکھا اور بس دیکھتے رہ گئے”. فہمیدہ شرارت سے بولی.
” چپ کرو بے شرم…کسی نے سن لیا تو کیا کہے گا”. پیاری بولی اور پھر دونوں ہی منہ دبا کر ہنسنے لگیں.
مہمانوں کے جانے کے بعد رات کو سونے سے قبل جب سلمیٰ بوا ہر روز کی طرح پیاری کے لئے گرم دودھ کی پیالی لے کر آئیں تو پیاری نے جو ان کے انتظار میں بیٹھی تھی، جھٹ ان کے ہاتھ سے پیالی لے کر پڑھائی کی میز پر رکھ دی اور ان کو کرسی پر بٹھاتے ہوئےبولی. “اسے چھوڑیئے … مجھے آپ سے کچھ پوچھنا ہے…گھر میں اتنا بڑا معاملہ ہوگیا اور مجھے کسی نے اب تک کچھ بتایا ہی نہیں”. سلمیٰ بوا، پیاری کے شکوے پر برجستہ بولیں. ” یہ کس نے خبر دی آپ کو “؟ پھر خود ہی بولیں. “یقیناً فہمیدہ بی بی نے بتایا ہوگا. ..بڑی پیٹ کی ہلکی ہوگئیں ہیں آج کل کی لڑکیاں… بھلا کنواری لڑکیوں کےکرنے کی باتیں ہیں یہ،ا ستغفراللہ”.
“اب میری سمجھ میں آیا کہ مجھے دو دن ہوگئے گھر واپس آئے ہوئے اور بھیا مجھ سے ملنے تک نہیں آئے. پریشان جو ہیں بیچارے “. پیاری سوچ میں پڑتے ہوئے بڑبڑائی اور پھر سلمیٰ بوا سے بولی. “ویسے سلمیٰ خالہ ! انجم آرا مجھے تو بہت اچھی لگتی ہیں…شکل و صورت کی بھی بہت اچھی ہیں.. . بھیا کے ساتھ ان کی جوڑی اچھی ہوگی” .
” ارے ارے ٹہریئے بٹیا، ذرا اپنے ہوائی گھوڑے کو لگام دیجئے”. سلمیٰ بوا نے پیاری کو ٹوکتے ہوئے کہا اور پھر بولیں . ” اب سنیے ہم سے… انجم آرا کے گھر پیغام گیا تھا اختر میاں کا یہاں سے مگر ان کے ابا نے انکار کردیا. ..وجہ بھی کوئی نہیں بتائی بس یہ کہہ دیا کہ انہیں اپنی لڑکی کے لئے نوابزادے پسند نہیں”.
” یہ کیا بات ہوئی . ..خود وہ بھی تو نواب خاندان سے ہیں “. پیاری نے سوالیہ نگاہوں سے سلمیٰ بوا سے پوچھا.
” ہاں ہاں خود بھی اور ان کی دونوں مرحومہ بیویوں کا تعلق بھی آپ کے ننھیال سے ہے”. سلمیٰ بوا بولیں.
” مجھے یاد ہے راحت باجی کی اظفر الملک سے شادی… میں نے اور فہمیدہ نے دولہا بھائی سے نیگ بھی لیا تھا”. پیاری یاد کرتے ہوئے بولی.
” اب بیگم صاب سے نہ پوچھ بیٹھئے گا کچھ … انہیں پہلے ہی افسوس ہے اس بات کا” … سلمیٰ بوا دودھ کی پیالی اٹھا کر پیاری کی طرف بڑھاتے ہوئے بولیں.
جب سے اظفر الملک کی طرف سے انکار ہوا تھا گھر میں سناٹا سا چھایا رہتا تھا.اختر احمد بھی گم صم ، چپ چاپ اپنے کمرے میں پڑے رہتے تھے. نہ کھانے کا ہوش رہتا نہ لباس بدلنے کا دھیان رہتا. کئی کئی دن گھر والوں کے سامنے بھی نہ آتے. ماں باپ سمجھا سمجھا کے تھک گئے مگر ایک ہی ضد سوار تھی ان کو. انجم آرا سے شادی نہ ہوئی تو یوں ہی اپنی زندگی ختم کرلیں گے . ماں باپ سے اکلوتے بیٹے کی یہ حالت دیکھی نہ جاتی تھی بالآخر خاندان والوں سے صلاح مشورے کے بعد دوبارہ اظفرالملک سے رشتے کی بات کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور ساتھ یہ بھی کہلوایاگیا کہ اگر وہ اپنی لڑکی کے لئے حق مہر میں کوئی زمین جائیداد کی شرط رکھنا چاہیں تو وہ بھی منظور ہے.
بھائی کو رنجیدہ دیکھ دیکھ کر خود پیاری بھی اداس رہنے لگی تھی.کسی بھی کام میں اس کا دل نہیں لگتا تھا. یہاں تک کہ کتابیں پڑھنے کا بھی دل نہیں چاہتا تھا جو کہ اس کا محبوب ترین مشغلہ تھا.کئی کتابیں اور رسالے آئے رکھے تھے مگر اس نے کھول کے دیکھے تک نہیں تھے. جس دن اختر احمد کا دوبارہ رشتہ لے کر جایا جارہا تھا ، اس دن پیاری بھی بہت خوش تھی اور دعائیں مانگ رہی تھی کہ لڑکی والوں کے یہاں سے اقرار ہوجائے. مغرب کی نماز پڑھ کر وہ مصلے پر بیٹھی دعائیں مانگ رہی تھی کہ اس کے کمرے کا دروازہ کھلا اور بیگم رضی اندر داخل ہوئیں.پیاری ماں کو کھوجتی نظروں سے دیکھتی ہوئی سلام پھیر کر اٹھ کھڑی ہوئی اور بولی. “امی کیا ہوا؟ آپ خوش نہیں لگ رہی ہیں؟ خدانخواستہ پھر انکار تو نہیں کردیا ان لوگوں نے” ؟
” نہیں اس مرتبہ انکار تو نہیں کیا مگر بڑی کڑی شرط رکھ دی ہے انہوں نے”.بیگم رضی سامنے رکھی کرسی پر بیٹھتے ہوئے آہستہ سے بولیں.
” شرط؟ کیسی شرط .جائیداد وغیرہ کی”؟. پیاری بولی.
” زمین جائیداد مانگتے تو ہم چوں چرا کیے بغیر ان کی بات مان لیتے. بیٹی انہوں نے بدلے میں تمہارا ہاتھ مانگا ہے اپنے لئے”. بیگم رضی غمگین لہجے میں بولیں.
ماں کے منہ سے یہ بات سن کر پیاری کی حالت یوں ہوئی کہ کاٹو تو لہو نہیں بدن میں. وہ لڑکھڑا کر پلنگ پر بیٹھ گئی . بیگم رضی نے اٹھ کر اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا اور بولیں. “اطمینان رکھو ، تمہارے باوا ہرگز راضی نہیں ہونگے اس بات پر … میں بہت تھک گئی ہوں… سونے جارہی ہوں … صبح بات ہوگی… شب بخیر”.
دن پر دن گزرتے رہے. پیاری بھی پڑھائی سے فارغ ہوچکی تھی. نواب رضی احمد اب اس کی شادی کے فرض سے سبکدوش ہونا چاہتے تھے مگر اختر احمد کی پریشانی میں کچھ فیصلہ نہیں کرپارہے تھے.اختر احمد نے انجم آرا کے فراق میں اپنا حال اور بھی برا کرلیا تھا.ماں باپ ہر طرح سے سمجھا سمجھا کے تھک چکے تھے مگر سب بے سود جارہا تھا.
بیگم رضی بیٹے کو اس حالت میں دیکھ کر خود بھی ادھ موئی رہنے لگی تھیں.ان سے اپنے اکلوتے بیٹے کی یہ حالت دیکھی نہ جاتی تھی . تب ہی ایک دن وہ کچھ سوچ کر پیاری کے پاس آئیں اور کہنے لگیں. ” پیاری مجھ سے تمہارے بھیا کی یہ حالت دیکھی نہیں جاتی اب … تمہارے ابا تو پتھر دل ہوکر رہ گئے ہیں اختر کے معاملے میں لیکن اختر میری بڑی اولاد ہیں …میں انہیں کھونے کا حوصلہ نہیں پاتی اپنے اندر. ..اگر انہوں نے ایسا ویسا کچھ کرلیا تو میں بھی زندہ نہیں رہ سکوں گی”. پھر پیاری کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہنے لگیں . ” اب سب کچھ تمہارے ہاتھ میں ہے بیٹی. ..تم اگر چاہو تو سب ٹھیک ہوسکتا ہے”.
پیاری حیرت سے ماں کا منہ تکتے ہوئے بولی. ” آپ کا مطلب ہے کہ میں اظفرالمک صاحب سے شادی کے لئے ہاں کردوں”؟
” ہاں بیٹی.. .اب یہی ایک حل ہے”. بیگم رضی امید سے بیٹی کو دیکھتے ہوئے بولیں.
” مگر امی میں نے تو سنا ہے کہ ابھی سال بھر پہلے ہی ان کی تیسری شادی ہوئی ہے اور حال ہی میں بیٹا بھی ہوا ہے. ..وہ چوتھی شادی کیوں کرنا چاہ رہے ہیں؟ یہ تو ظلم ہوگا ان کی تیسری بیوی پر” . پیاری حیرانی اور افسوس سے بولی .
” وہ کہتے ہیں کہ ان کو اختر احمد پر بھروسہ نہیں … اس ادلے بدلے کی شادی سے ان کی بیٹی کا مستقبل محفوظ ہوگا. ..بیٹی ! ہم نے پہلے تم سے اس بات کا تذکرہ نہیں کیا تھا کہ دو سال پہلے بھی اظفرالملک نے تمہارا ہاتھ مانگا تھا ہم سے … اس وقت اختر اور انجم آرا کا معاملہ نہیں تھا … تب ہم نے انہیں صاف انکار کردیا تھا مگر اب بات اور ہے … تمہارے بھیا کی زندگی کا معاملہ ہے . ..تم سمجھ رہی ہو نا پیاری”. یہ کہہ کر بیگم رضی لمحے بھر کو خاموش ہوئیں اور پھر لمبی سانس بھر کر دوبارہ بولیں. “بیٹی میں نے بہت سوچ سمجھ کر تمہارے لئے اظفرالملک کے رشتے کو قبول کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے … گو کہ تمہارے ابا ہرگز راضی نہیں ہونگے مگر یہی حل ہے… بیٹی تم اپنے دل میں یہ خیال نہ لانا کہ میں نے بیٹے کو تم پر فوقیت دی … مجھے تم دونوں عزیز ہو مگر میں اختر احمد کے لئے یہ فیصلہ لینے پر مجبور ہوں … تم مجھے معاف کردینا بیٹی. ..مجھے یقین ہے کہ اظفرالملک تمہیں خوش رکھیں گے . ..وہ تمہارے پہلے بھی خواہشمند تھے اور جہاں تک ان کی تیسری بیوی کا تعلق ہے ان کو کوئی اعتراض ہوتا تو اظفرالملک تمہارا ہاتھ کیوں مانگتے ؟ یوں بھی تمہاری قدر کچھ اور ہوگی. ..تم نہ صرف نواب خاندان سے تعلق رکھتی ہو بلکہ اچھی خاصی جائیداد کی مالکہ بھی ہو “.
بیگم رضی اپنی بات کہہ کرخاموش ہوئیں تو پیاری ماں کے ہاتھ تھامتے ہوئے پرسکون لہجے میں بولی. ” امی اگر آپ فیصلہ کرچکی ہیں تو مجھے اپنا تابعدار ہی پائیں گی. ..میں جانتی ہوں کہ آپ مجھ سے بہت محبت کرتی ہیں اور میرے لئے آپ نے بہت زحمتیں اٹھائی ہیں. ..میری کیا مجال جو آپ کی بات سے انکار کرکے آپ کو شرمندہ کروں … آپ جو بہتر سمجھتی ہیں وہ کیجئے”.بیگم رضی نے آگے بڑھ کر بیٹی کو گلے سے لگا لیا.
نواب رضی احمد کو جب یہ خبر ملی کہ پیاری نے شادی کے لئے ہاں کردی ہے تو ان کو اپنے کانوں پر یقین نہ آیا کہ ان کی اتنی سمجھدار بیٹی نے ایسی بات کیوں مان لی اور یہی جاننے کے لئے وہ پیاری کے پاس خود آئے . پیاری کے کمرے کے دروازے کو کھٹکھٹاتے ہوئے وہ بولے. “بیٹی! کیا میں اندر آجاؤں”؟
” جی آجائیے اباجان…آداب “. پیاری نے سر پر آنچل رکھتے ہوئے کہا.
” جیتی رہو، خوش رہو”. نواب رضی احمد بیٹی کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھ کر بولے اور پھر خود کرسی پر بیٹھتے ہوئے اسے بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا.چند لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ گلا کھنکھارتے ہوئے بولے. “بیٹی کیا یہ درست ہے کہ آپ نے اپنی ماں کے فیصلے کو تسلیم کرلیا ہے”؟
” جی اباجان”. پیاری نے دھیمے سے کہا.
” میرے خیال میں یہ صحیح فیصلہ نہیں ہے… آپ کی ماں بیٹے کی محبت میں یہ سب کررہی ہیں مگر آپ سمجھدار ہیں ، پڑھی لکھی ہیں ، یہ رشتہ ہرگز مناسب نہیں ہے آپ کے لئے …اختر میاں ابھی جذباتی ہورہے ہیں مگر کچھ عرصہ لگے گا بھول بھال جائیں گے.. . آپ کو اپنی زندگی داؤ پر لگانے کی ضرورت نہیں ہے بیٹی” .نواب رضی احمد پیاری کو سمجھاتے ہوئے بولے . پھر قریب آکر اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے دوبارہ بولے. “اگر آپ کی ماں آپ کے ساتھ زبردستی کررہی ہیں تو میں کھڑا ہوں آپ کے ساتھ… آپ نہیں چاہیں گی تو کوئی یہ شادی نہیں کراسکتا”.
پیاری نے باپ کو محبت سے دیکھا اور بولی. ” نہیں، امی نے کوئی زبردستی مجھ سے نہیں کی ہے . ..انہوں نے ہمیشہ ہمارا بھلا ہی سوچا ہے… وہ میرے لئے کچھ برا نہیں چاہیں گی… میں ان کی بات ماننے سے انکار نہیں کرسکتی . ..وہ اگر ایسا چاہتی ہیں تو میری بھی یہی مرضی ہے اور شاید خدا کو بھی یہی منظور ہے”.
بیٹی کے بعد نواب رضی احمد نے بیوی کو بھی بہت سمجھانے کی بہت کوشش کی مگر وہ کامیاب نہ ہوسکے. بالآخر انہوں نے آخری حربہ آزمایا اور بیوی سے صاف صاف کہہ دیا کہ اگر پیاری کی شادی اظفرالملک سے کی تو وہ اس شادی میں شریک نہیں ہونگے. لیکن یہاں بھی ان کی ایک نہ چلی اور بیگم رضی نے باپ کی موجودگی کے بغیر ہی بیٹی کو رخصت کرنے کا مصمم ارادہ کرلیا.
پیاری کی شادی والے دن ، جب سب بارات کے آنے کا انتظار کررہے تھے، عصمت اور فہمیدہ ، پیاری کے ساتھ اس کے کمرے میں بیٹھی تھیں . فہمیدہ ، پیاری کا ٹیکہ درست کرتے ہوئے اداسی سے اسے دیکھ کر بولی. ” پیاری کاش تم نے پھوپھا جان کی بات مان لی ہوتی اور اس شادی سے انکار کردیتی”.
عصمت بھی آنکھوں میں آنسو لئے بولی. ” تو نے خود کے ساتھ یہ اچھا نہیں کیا پیاری.. .کوئی یوں بھی خود کو قربانی کا بکرا بناتا ہے… میں تو خالہ اماں کو بڑی روشن خیال عورت سمجھتی تھی مگر وہ تو وہی روایتی مشرقی عورت نکلیں …بیٹوں کو بیٹیوں پر ترجیح دینے والی”.
پیاری جو سر سے پاؤں تک سونے میں سجی، دلہن بنی خاموش بیٹھی دوںوں کی باتیں سن رہی تھی، اپنے ہاتھوں پر لگی مہندی کے رنگ کو دیکھتے ہوئے بولی. ” مجھے کوئی دکھ نہیں ہے …اگر کوئی غم ہے تو صرف اس بات کا کہ میرے ابا جان میری شادی میں شریک نہیں. ..خدارا تم لوگ میری امی کو الزام نہ دو … انہوں نے کوئی زبردستی نہیں کی میرے ساتھ . ..میں نے ان کے فیصلے کو خود تسلیم کیا ہے”.
“ہاں اپنے بھیا اور امی کو خوش کرنے کے لئے تم نے ان کا فیصلہ مان لیا …بہت غلط کیا ہے پیار ی …تم پچھتاؤ گی”. فہمیدہ سسک کر بولی.
پیاری اپنے ہاتھوں سے فہمیدہ کے آنسو پونچھتے ہوئے بولی. “ارے نہیں پگلی! میں نے یہ فیصلہ کسی کو خوش کرنے کے لئے نہیں کیا ہے … بلکہ اپنے خاندان کی ان تمام لڑکیوں کے لئے کیا ہے جو پڑھنا چاہتی ہیں …ذرا سوچو! اگر میں انکار کردیتی ماں کی بات ماننے سے تو سب میری امی کو کیا کہتے؟ انہوں نے سب کی مخالفت کے باوجود اپنی لڑکی کو پڑھایا تھا…سب یہی کہتے ، دیکھ لیا لڑکیوں کو پڑھانے کا انجام … لڑکیاں پڑھ لکھ کر خودسر ہوجاتی ہیں…اور پھر عذرا، نصرت، شمیم،ندرت سب خاندان کی لڑکیوں پر تعلیم کے دروازے بند کردیئے جاتے… میں ہمیشہ کے لئے اس معاشرے میں ایک بری مثال بن جاتی…مگر اب نہیں … مجھے یقین ہے کہ یہ لوگ اب اپنی لڑکیوں کو فخر سے پڑھائیں گے “. پھر آنکھ سے ٹپکنے والے آنسوؤں کو سرخ آنچل سے پونچھتے ہوئے مسکرا کر بولی. “ہم میں سے کسی کو تو پہلی اینٹ رکھنی تھی سو میں نے رکھ دی”.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں