Dr. Hina Rizvi Story title 247

” پس پردہ “

” ارے تم لوگ ابھی تک سوئی نہیں اور یہ کھڑکی کے پاس کھڑے ہو کر کیوں ہنسا جا رہا ہے آدھی رات کو؟ ” ممانی جان نے ہم سب کو ہنستے دیکھ کر پوچھا۔
” کچھ نہیں امی! صدف اپنے اسکول کے بچوں کے واقعات سنارہی تھی، ہم اس پر ہنس رہے تھے۔ بس اب سونے ہی جارہے ہیں۔ کرن جلدی سے بولی۔
آج میری ماموں زاد بہن ذکیہ باجی کی منگنی کی تقریب تھی جس کی وجہ سے سب خاندان والے نانا کے گھر میں جمع تھے۔ رات کو ہلا گلا کرنے کی خاطر سب کزن یہیں رک گئے تھے جبکہ میں اور مہر کالج بند ہونے کی وجہ سے نانا کے گھر چھٹیاں گزارنے کے لئے پہلے ہی سےآئے ہوئے تھے۔
نانا جان نے حال ہی میں شہر سے باہر بنی ایک نئی رہائشی اسکیم میں یہ دو منزلہ مکان خریدا تھا جس کی نچلی منزل پر نانا نانی، بڑے ماموں اور ان کے بیوی بچے رہتے تھے اور اوپر کی منزل میں چھوٹے ماموں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہتے تھے۔ ذکیہ باجی کی منگنی والی رات ہم سب بیٹھے باتیں کررہے تھے کہ تزئین گھڑی پرنظر ڈالتے ہوئے بولی۔ ” وقت دیکھو ذرا ! پتہ ہی نہیں چلا اور ڈھائی بج گئے رات کے۔”
” ارے ہاں واقعی! کافی دیر ہوگئی ہے۔ چلو بھئی اب سویا جائے کل مجھے امی کے ساتھ بازار بھی جانا ہے۔” ہما فرش پر بچھے دبیز قالین پرپیر پھیلاتے ہوئے بولی۔
مگر ارم باجی اور صدف تو کہہ رہی تھیں کہ ہم کوئی ڈراونی فلم دیکھیں گے۔” شیراز نے ارم اور صدف کی طرف دیکھتے ہوئے کہا.
” ہاں کہا تو تھا مگر کسی اور دن دیکھ لیں گے۔ صدف تمہارا کیا خیال ہے؟ ” ارم صدف سے پوچھنے لگی۔
” مجھے خود بھی نیند آنے لگی ہے ہما کو لیٹتے دیکھ کر۔” صدف جمائی لیتے ہوئے بولی۔
” ٹھیک ہے بھئی آپ لوگ سو جائیں۔ میں بہروز اور یاور کے ساتھ دیکھ لونگا ۔” شیراز بولا اور پھر دونوں کو ڈھونڈنے چلا گیا۔
” مجھے تو چائے کی سخت طلب ہورہی ہے اور میں اپنے لئے بنانے جارہی ہوں کڑک دودھ پتی۔ کسی اور کو چاہئیے؟” مہر سب کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی۔
نہیں ! تم ہی پیو بے وقت کی چائے۔ ہم تو اب سونے جارہے ہیں۔ پہلے ہی بہت دیر ہوگئی ہے۔ صبح ناشتہ بنانے میں بھی امی اور چچی کی مدد کرنی ہوگی ، گھر میں اتنے سارے لوگ ہیں آخر ۔” صبوحی توشکوں پر چادریں بچھاتے ہوئے بولی۔
” یہ لوگ تو واقعی سونے کی تیاری کررہے ہیں۔ ایسا کرتے ہیں کہ ہم چھت پر چل کر تازی ہوا میں چائے پیتے ہیں۔” فرناز مجھ سے بولی۔
” ہاں یہ ٹھیک ہے ۔ تم دونوں چلو میں چائے لیکر آتی ہوں۔” مہر یہ کہہ کر باورچی خانے کی طرف بڑھ گئی اور ہم چھت کی سیڑھیوں کی طرف۔
گو کہ اوائلِ مارچ کے دن تھے مگر فضا میں ہلکی خنکی اب بھی باقی تھی۔ میں اور فرناز شالیں لپیٹے چھت پر آگئے اور پچھلی منڈیر کے ساتھ پڑے تخت پر بیٹھ گئے۔ بادلوں کی اوٹ میں ہونے کی وجہ سے چاند کی مدہم روشنی ماحول کو خاصہ پراسرار بنارہی تھی۔ ” بھئی مجھ سے اندھیرے میں نہیں بیٹھا جاتا” کہہ کر فرناز نے چھت کی دوسری سمت پر بنے ایک چھوٹے سے اسٹور نما کمرے کی بتی جلا دی جس کی روشنی بہت زیادہ تو نہیں مگر اتنی تھی کہ ہم ایک دوسرے کو اچھی طرح دیکھ سکتے تھے۔
اس دوران مہر بھی چائے لیکر آ گئی۔ چائے کی سینی کو تخت پر رکھ کروہ ارد گرد نظر دوڑاتے ہوئے بولی۔ ” اف کتنا سناٹا ہے یہاں۔ ہمارے یہاں تو پوری رات کہیں نہ کہیں سے آوازیں آتی رہتی ہیں۔ کبھی ٹی وی کی آواز تو کبھی گلی میں لوگوں کی باتیں کرنے کی اور کچھ نہیں تو کبھی رکشہ اور کبھی سائلنسر پھٹے موٹر سائیکل کی آواز ہی بے چین کیے رہتی ہے۔”
” ہاں! تمہارے علاقے میں تو واقعی بڑی رونق رہتی ہے۔ تم لوگ رہتے بھی تو شہر کے بیچوں بیچ ہو۔ یہ تو نیا علاقہ ہے شہر سے باہر اور ابھی پوری طرح آباد بھی نہیں ہوا ہے۔” فرناز بولی۔
” ہاں یہ تو ہے۔ یہاں تو مکانات بھی ایک دوسرے سے خاصے فاصلے پر بنے ہوئے ہیں۔ کئی پلاٹ تو بیچ میں خالی بھی نظر آرہے ہیں لیکن کم از کم کھلا علاقہ ہے۔ فضائی آلودگی سے پاک، تازی تازی ہوا ہے۔ بیچ شہر میں رہنے سے یہ سب نہیں ملتا۔” مہر لمبا سانس اندر کھینچ کر بولی۔
ہاں! صحیح کہہ رہی ہو۔ شہر میں تو اب آسمان پر تارے بھی مشکل سے نظر آتے ہیں۔ یہاں دیکھو آسمان بھرا ہوا ہے جگ مگ کرتے تاروں سے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ سیاہ کامدانی کا کوئی دوپٹہ تنا ہوا ہے سر پر۔” میں نے آسمان کی طرف سر اٹھا کر دیکھتے ہوئے کہا۔
آسمان کی طرف دیکھتے دیکھتے اچانک میری نظر نانا جان کے گھر کے بالکل پیچھے بنے ہوئے گھر کی طرف گئی تو میں نے متجسس لہجے میں فرناز سے پوچھا ! ” اس پیچھے والے گھر میں کوئی رہتا ہے یا خالی ہے؟”
” خالی ہی لگتا ہے۔ ہمیں تو کبھی کوئی نہیں دکھا ہے یہاں۔ کام والی ماسیوں نے بھی کبھی ذکر نہیں کیا۔ انہیں تو محلے کے ہر گھر کی خبر ہوتی ہے کہ کس کے یہاں دال لہسن سے بگھاری گئی اور کس کے یہاں پیاز سے۔ ” فرناز ہنستے ہوئے بولی۔
” لیکن دیکھو! ادھر برآمدے میں دروازے کے اوپر زیرو پاور بلب جل رہا ہے۔ خالی گھر میں بلب اور بھی زیرو پاور کیوں جلے گا بھئی؟” مہر سوچ میں پڑتے ہوئےبولی۔
“ہاں اور یہ بھی دیکھو کہ صحن کتنا صاف ستھرا ہے۔ خالی گھر میں تو کوڑا کرکٹ جمع ہوجاتا ہے۔” میں نے بھی لقمہ دیا۔
” افوہ! چھوڑو بھی ! کیا اس گھر کی باتیں کرنے بیٹھے ہیں ہم یہاں۔” فرناز جھنجلا کر بولی۔
مہر کچھ کہنے ہی جارہی تھی کہ مذکورہ گھر کا اندرونی دروازہ کھلتا دکھائی دیا۔ ہم تینوں بے اختیار اس طرف متوجہ ہوگئے۔ برآمدے میں لگے نیلے رنگ کے بلب کی مدہم روشنی میں ہمیں صاف نظر آرہا تھا کہ دو آدمی دروازہ کھول کے صحن میں آئے اور دبے قدموں صدر دروازے کی جانب بڑھے۔ ان میں سے ایک درمیانی عمر کا تھا اور ایک اس سے کم عمر ،جوان آدمی تھا . دونوں نے ہلکے رنگوں کے کرتے اور سفید شلواریں پہن رکھی تھیں۔ ایک کے ہاتھ میں کچھ پلاسٹک کے بڑے بڑے تھیلے تھے جبکہ دوسرے نے ایک بڑا سا چرمی بیگ اٹھا رکھا تھا جو دیکھنے میں خالی لگ رہا تھا۔ وہ دونوں، دس بارہ قدم چل کر صدر دروازے تک گئے۔ ان میں سے ایک نے دروازہ تھوڑا سا کھول کر باہر جھانکا اور پھر دونوں محتاط انداز سے دیکھتے ہوئے باہر چلے گئے۔ کچھ ہی لمحے گزرے کہ ہمیں کسی گاڑی کے چلنے کی آواز سنائی دی۔ شاید باہر کوئی ان کے انتظار میں گاڑی لیے کھڑا تھا۔ چھت کی منڈیر چھوٹی ہونے کی وجہ سے ہم بڑی آسانی سے یہ سارا منظر دیکھ رہے تھے مگر ان کے صحن میں ہماری چھت کی طرف آم کا پیڑ ہونے کی وجہ سے وہ ہمیں آسانی سے نہیں دیکھ سکتے تھے۔
میں نے فرناز کی طرف دیکھ کر کہا۔” یہاں کوئی نہیں رہتا تو یہ کون لوگ تھے؟ بڑا ہی پراسرار طریقہ تھا ان کے باہر جانے کا اور وہ بھی یوں آدھی رات کو؟”
” میں نے تو آج سے پہلے کسی کو نہیں دیکھا یہاں ،میں کیا کہہ سکتی ہوں۔” فرناز بولی۔
” مجھے تو کچھ گڑ بڑ والی بات لگ رہی ہے۔ خالی گھروں میں جنوں بھوتوں کا بسیرا ہوتا ہے۔ چلو بھئی نیچے چلتے ہیں۔” مہر گھبرا کر بولی۔
” ارے تمہیں یہ کہاں سے جن لگ رہے ہیں؟ تھوڑی دیر رکتے ہیں۔ ہوسکتا ہے وہ واپس آجائیں۔ بھئی مجھے تو دلچسپی ہورہی ہے کہ آدھی رات کو یہ لوگ کیوں سامان لیکر چوری چھپے نکلے ہیں۔” میں نے اِدھر اُدھر نظریں دوڑاتے ہوئے کہا۔
” کیا بات کررہی ہو! مہر صحیح کہہ رہی ہے۔ کوئی گڑ بڑ والی بات نہ ہو۔ مجھے بھی ڈر لگ رہا ہے۔ چلو بھئی چلیں یہاں سے۔” فرناز جلدی سے بولی۔
” جن ون نہ بھی ہوں تو آج کل ایک سے ایک بدمعاش لوگ ہوتے ہیں۔ جو بڑے بڑے گھروں میں آکر آباد ہوتے ہیں اوروہاں غیر قانونی کام کرتے ہیں۔ آئے دن ٹی وی پر ایسی خبریں سننے کو ملتی ہیں۔ یقیناً یہ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔ ہم خوامخواہ کسی مصیبت میں نہ پھنس جائیں۔” مہر سنجیدگی سے بولی۔
” انہیں تو ہماری خبر بھی نہیں ہوئی۔ ایک لمحے کو بھی انہوں نے ادھر نہیں دیکھا ؟ خواہ مخواہ مت ڈراو تم ۔ ویسے میرا خیال ہے یہ دو لوگ ہی تھے صرف اور کوئی نہیں ہے. اندر گھر میں تو مکمل سناٹا چھایا ہوا ہے۔” میں نے گردن نکال کر گھر میں جھانکتے ہوئے کہا۔
” لگ تو ایسا ہی رہا ہے کہ اور کوئی نہیں ہے یہاں۔ ہوسکتا ہے یہ دونوں چوکیدار ہوں یہاں کے اور۔۔۔؟” فرناز بولی۔
” لیکن یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ سچ مچ میں ہی بدمعاش ہوں اور انہوں نے کسی کو یہاں قید کرکے رکھا ہو اغوا برائے تاوان کے لئے۔ یاد ہے اقرار الحسن کا “سر عام” کا وہ پروگرام جس میں اس نے ایک ایسے گروہ کو پکڑوایا تھا جو لڑکیوں کو اغوا کرتے تھے؟” مہر، فرناز کی بات کاٹ کر بولی
” ارے ہاں صحیح ! بالکل ایسا ہوسکتا ہے۔ تب تو ہمیں نظر رکھنی چاہئیے اس گھر پر۔ کیا پتہ کسی کو ہماری مدد کی واقعی ضرورت ہو۔” میں نے جوش سے بھرے لہجے میں کہا ہی تھا کہ فرناز ڈپٹ کر بولی۔
” خدا کے لئے تم اپنی جاسوسی کی حس کو نہ جگاؤ بھئی۔ یہ کوئی مذاق کی بات نہیں ہے۔ لینے کے دینے بھی پڑ سکتے ہیں۔ لہذا چپ چاپ نیچے چلو۔ ویسے بھی تھوڑی دیر میں دادا جان نماز کے لئے جاگ جائیں گے۔ انہوں نے یوں ہمیں آدھی رات کو چھت پر دیکھا تو خفا ہونگے۔”
” اچھا بھئی چلو چلتے ہیں۔” میں نے بادل نخواستہ کہا اور چائے کی سینی اٹھا کرنیچے جانے کے لئے سیڑھیوں کی طرف قدم بڑھا دئیے۔
اگلے دن مہمانوں کے رخصت ہونے تک گو کہ خاصی مصروفیت رہی مگر میرا دھیان بار بار کل رات والے واقعے کی طرف ہی جارہا تھا۔ ہم میں سے کسی نے بھی اس بابت کسی اور سے کچھ نہیں کہا لیکن میری مہم جوئیانہ طبیعت کو کسی صورت قرار نہیں ملا اور میں سب سے نظر بچا کر ایک دو بار چھت پر جاکر اس گھر میں جھانک کر بھی آئی مگر کوئی بھی نظر نہیں آیا۔وہاں ہنوز سناٹا طاری تھا۔
تیسرے دن دوپہر کو کھانے کے لئے سلاد بنا کر فرج میں رکھتے ہوئے فرناز نے مجھے بتایا کہ گھنٹہ بھر پہلے وہ چچی کے ساتھ اچار دھوپ میں رکھنے چھت پر گئی تھی تو اُسے پیچھے والے گھر کی کھڑکی میں کوئی کھڑا نظر آیا تھالیکن مجھے متوجہ دیکھ کر فوراً ہی غائب ہوگیا۔ میں نے یہ سنتے ہی جلدی سے اس کا ہاتھ پکڑا اور چھت کی سیڑھیوں کی طرف یہ کہتی ہوئی بھاگی۔ ” جلدی چلو چل کے دیکھتے ہیں۔”
ہم اوپر چھت پرجا کرآم کے پیڑ کی آڑ میں بڑی دیر تک کھڑے دیکھتے رہے مگر کوئی بھی نظر نہیں آیا. نہ آدم نہ آدم زاد۔ بالآخر مایوس ہوکر واپس نیچے آگئے۔ پہلے پہل تو فرناز ڈر رہی تھی اور مجھے بھی باز آنے کی تنبیہ کررہی تھی مگر اب اسے خود بھی دلچسپی ہونے لگی تھی۔ ہم نے طئے کیا کہ آدھی رات کو چپکے سے اٹھ کر چھت پر جاکر دیکھیں گے شاید کوئی سراغ مل جائے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ لوگ صرف رات کے سناٹے میں ہی معاملات نپٹاتے ہوں۔
آج کل چھٹیاں ہونے کی وجہ سے ہم سب یوں بھی رات کو دیر تک جاگتے رہتے تھے۔ لیکن اس دن ہم دونوں شدت سے منتظر تھے کہ سب گھر والے سو جائیں تو ہم چھت پر جائیں۔ خدا خدا کر کے جب دو بجےکے قریب سب گھر والے اپنے اپنے کمروں میں سو نے چلے گئے تو ہم دونوں چپکے سے اٹھے اور دبے قدموں کمرے سے نکل کر چھت کی طرف بڑھے۔ ابھی پہلی سیڑھی پر قدم رکھا ہی تھا کہ پیچھے سے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ مڑ کر دیکھا تو کمر پر ہاتھ رکھے مہر کھڑی غصے سے ہمیں دیکھ رہی تھی۔ قریب آکر وہ کہنے لگی۔
” تم لوگوں کے ارادے کیا ہیں؟ میں دیکھ رہی تھی صبح سے کچھ کھسر پھسر کررہی ہو آپس میں اور مجھے کچھ بتایا ہی نہیں۔”
” اچھا اچھا! ناراض تو نہ ہو۔ ہمیں لگا کہ تم ڈر رہی ہو تو شاید ہمارے ساتھ شامل نہ ہو اور کہیں کسی کو کچھ بتا نہ دو۔ ” میں نے اسے پیار سے مناتے ہوئے کہا اور پھر ساری بات بتائی۔
” ویسے اطمینان رکھو! ہم ایسا کچھ بھی نہیں کریں گے جو ہمارے یا ہمارے گھر والوں کے لئے خطرے کا باعث بنے۔ ہم تو بس جاننا چاہتے ہیں کہ چکر کیا ہے! بس نگرانی کریں گے اور وہ بھی چپکے سے۔ ” فرناز بھی مہر کو اطمینان دلاتے ہوئے بولی۔
دھیمی آواز میں باتیں کرتے کرتے ہم تینوں چھت پر آگئے اور تخت پر بیٹھ کر پیچھے والے گھرپر نظریں جما کر دیکھنے لگے۔ اب اسے اتفاق کہیں یا کچھ اور، ابھی چند لمحے ہی گزرے تھے کہ ہم نے دیکھا کہ ایک عورت موبائل کان سے لگائے گھر کے اندر سے نکلی اور صدر دروازے تک گئی پھر دروازے کی جھّری میں سے جھانک کر باہر دیکھا اور جلدی سے دروازہ کھول کر باہر نکل گئی۔
ابھی ہم سوچ ہی رہے تھے کہ اب کیا کریں؟ نگرانی جاری رکھیں یا نیچے چلے جائیں کہ موبائل پر بات کرنے والی عورت گھر کے اندر آتی دکھائی دی۔ اندر آکر اس نے آہستگی سے صدر دروازے کو چوپٹ کھولا اور ایک طرف ہوگئی ۔ دروازے سے ایک سفید رنگ کی سوزوکی ہائی روف گاڑی اندر داخل ہوئی۔ گاڑی کے اندر آنے کے بعد عورت نے جلدی سے دروازہ بند کیا اور تیز تیز چلتے ہوئے گھر کے اندر چلی گئی۔
گاڑی سے وہی دو آدمی باہر نکلے جو پہلے دن ہمیں نظر آئے تھے۔ انہوں نے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا اور ایک بڑا سا گھٹر نما تھیلا نکالا اور اسے احتیاط سے اٹھائے اٹھائےچلتے ہوئے اندر چلے گئے۔ ان کے اندر جانے کے ساتھ ہی گھر کے برآمدے میں جلنے والا نیلا بلب بھی بجھ گیا اور گھر مکمل تاریکی میں ڈوب گیا۔
ہم تینوں حیرت زدہ تھے کہ ماجرا کیا ہے؟ ہمیں یقین ہوچلا تھا کہ یہاں کوئی نہ کوئی غلط کام ہورہا ہے۔ لیکن کیا؟ یہ ہمیں ابھی تک پتہ نہیں چل سکا تھا۔ ” مجھے تو پکا یقین ہے کہ اسمگلنگ ہورہی ہے یہاں۔ کبھی سامان لارہے ہیں کبھی لے جارہے ہیں۔” فرناز بولی۔
” ہاں لگ تو ایسا ہی رہا ہے۔ میں نے یو ٹیوب پر ایک ویڈیو دیکھی تھی ہیومن ٹریفکنگ پر۔ وہ لوگ اسی طرح سے عورتوں اور بچوں کی اسمگلنگ کرتے تھے۔ ” میں نے بھی اپنی رائے دی۔
” ہمیں بڑوں کو بتانا چاہیئے۔ یہ تو مجھے کوئی خطرناک گروہ لگ رہا ہے۔ بھائی جان کے دوست ہیں رضا بھائی پولیس میں ۔ وہ ان سے رابطہ کرسکتے ہیں۔ ” مہر نے ہم دونوں کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔
” ہاں تم ٹھیک کہہ رہی ہومہر! اس طرح ہمارے ذریعے سے کسی کی مدد ہوجائے شاید۔ صبح کو بڑے ماموں کو بتاتے ہیں چل کر۔” میں نے کہا
” نہیں صبح تو ابو جلدی دفتر کے لئے نکل جاتے ہیں۔ شام کو وہ جب گھر آجائیں گے تب بتانا بہتر ہوگا۔ چائے پینے کے بعد وہ مغرب کی نماز تک فارغ ہوتے ہیں اُس وقت وہ ہماری بات کو دھیان سے سنیں گے۔” فرناز بولی
” ٹھیک ہے پھرایسا ہی کرتے ہیں۔ ہم تینوں نے حامی بھری اور نیچے آکر اپنے بستروں میں گھس گئے۔
اگلے دن میری آنکھ ذرا دیر سے کھلی۔ میں جلدی سے منہ ہاتھ دھو کر ناشتہ کر کے اوپر چھوٹے ماموں کے یہاں چلی آئی۔ یہاں بیٹھک میں نانی کے ساتھ لوڈو چل رہا تھا۔ سب سے دلچسپ نظارہ یہ تھا کہ محمد اورعباس ویڈیو گیم کھیل رہے تھے اور علی حیدر اور ایان باادب بیٹھے ان دونوں کو کھیلتا دیکھ کر خوش ہورہے تھے۔ سب کسی نہ کسی شغل میں مگن تھے مگر میں بے چینی سے شام کا انتظار کررہی تھی۔ تھوڑی دیر کے بعد میں اور مہر، فرناز کے ساتھ اس کے کمرے میں آگئے۔ فرناز بستر پر بیٹھتے ہوئے گھڑی کی طرف دیکھ کربولی ! ” افوہ! ابھی تک ایک ہی بجا ہے۔ میں تو بے چینی سے شام کا انتظار کررہی ہوں ۔ سوچو! کتنا مزہ آئے گا جب گھر میں سب کو پتہ چلے گا کہ ہم تینوں نے اسمگلروں کے گروہ کا سراغ لگایا ہے۔ گھر والے شاید اجازت نہ دیں ورنہ اخبار میں ہماری تصویراورنام بھی شائع ہوسکتا ہے۔
” ہاں اور چینل والوں کو تو تم بھول ہی گئیں۔ پورا دن بریکنگ نیوز چلتی رہے گی ” تین نوجوان لڑکیوں کا عظیم کارنامہ “۔ واہ واہ! اور سنا ہے کہ ایسے گروہوں کی نشاندہی کرنے پر کبھی کبھی حکومت انعام بھی دیتی ہے۔” مہر اترا کر بولی۔
” واہ بھئی! شہرت بھی اور انعام بھی، کیا بات ہے۔ ویسے میرا شکریہ ادا کرو تم دونوں۔ تم لوگ تو بلاوجہ ہی ڈر رہی تھیں اگر میں نہ اکساتی تم لوگوں کو تو تم لوگ کبھی ہمت ہی نہ دکھاتیں۔” میں نے گردن اکڑا کر کہا
” ہاں ہاں مان لیا آپ ہی ہماری جاسوسی ٹیم کی سرغنہ ہیں ایکس ٹو صاحبہ۔” دونوں سر جھکاتے ہوئے بولیں اور ہم تینوں ہنسنے لگے۔
شام کو بڑے ماموں کے دفتر سے آنے اور چائے وائے سے فارغ ہونے کے بعد ہم سوچ ہی رہے تھے کہ جاکر ان کو پیچھے والے گھر کے متعلق بتائیں کہ کرن بڑے ماموں کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ” پڑوس سے کوئی صاحب آئے ہیں۔ ان کے ساتھ ایک خاتون بھی ہیں۔ کسی بڑے کا پوچھ رہے ہیں۔”
محلے سے کسی کے آنے کا سن کر ہمارے کان فوراً کھڑے ہو گئے۔ بڑے ماموں ” اچھا دیکھتا ہوں” کہہ کر باہر کی طرف بڑھ گئے۔ ہم دوڑ کر اوپر کی منزل کی طرف گئے اور بالکنی سے جھانکا تو کیا دیکھا کہ پہلی رات ہم نے جن دو لوگوں کو پراسرار طریقے سے گھر سے نکلتے دیکھا تھا ان میں سے درمیانی عمر کا مرد بڑے ماموں کے ساتھ مہمان خانے کی طرف جارہا تھا جبکہ اس کے ساتھ آنے والی عورت کو کرن اندر بیٹھک کی جانب لے جارہی تھی۔ عورت کے ہاتھ میں مٹھائی کا ڈبہ تھا۔ انہیں اندر آتا دیکھ کر ہماری تو سٹی گم ہوگئی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ انہوں نے ہمیں اپنے گھر کی جاسوسی کرتے ہوئے دیکھ لیا ہو اور اب یہاں بہانے سے ہم سب کو ڈرانے اور دھمکیاں دینے کے لئے آئے ہوں۔
فرناز جلدی سے عباس کے پاس گئی اور اسے کہا کہ وہ جاکر دیکھے کہ کون آیا ہے ابو سے ملنے۔ عباس کو فرناز کے اس طرح سے گھبرا کے بولنے سے حیرت ہوئی اور وہ کہنے لگا۔ ” کیا ہوگیا ہے تم کو؟ چچا جان سے ملنے تو لوگ آتے ہی رہتے ہیں۔ یہ کون سی بڑی بات ہے۔ تم لوگ کس خوشی میں جاسوسی کرتی پھر رہی ہو؟ بات کیا ہے بھئی؟”
” بات کیا ہوگی؟ ان صاحب کو پہلے کبھی نہیں دیکھا اس لئے پریشان ہورہی ہوں کہ پتہ نہیں کون ہے۔” فرناز نے جلدی سے بات بنائی ۔
” اچھا دیکھتا ہوں جاکر، کہہ کر عباس اٹھا ہی تھا کہ مہمان خانے سے بڑے ماموں باہر آئے اور چائے ناشتہ بھجوانے کا کہہ کر دوبارہ اندر چلے گئے ۔ ہم ” جی اچھا ” کہہ کر باورچی خانے کی طرف بڑھ گئے۔ مردانے میں چائے بھجوا کر ہم چائے کی ٹرالی سجائے بیٹھک میں آئے تو وہ مہمان خاتون نانی اور بڑی ممانی کو بتارہی تھیں کہ یہ پیچھے والا گھر انہوں نے حال ہی میں لیا ہے۔ اس سے پہلے وہ لوگ حیدرآباد میں رہتے تھے۔ وہاں ان کے شوہر کا کپڑوں کا کاروبار تھا۔ وہاں وہ لوگ بھتہ مافیا کے ہاتھوں سخت عاجز تھے۔ گرچہ ہر مہینے ایک موٹی رقم ان کو جاتی تھی مگر پھر بھی آئے دن چندہ مانگنے کے بہانے بڑی بڑی رقم مانگتے تھے۔ اگر کسی کے گھر شادی بیاہ کا پتہ چل جائے تو چار پانچ لاکھ روپے تک کا تقاضہ کرتے تھے۔ نہ کرنے کا تو کوئی سوال ہی نہیں تھا کہ پتہ نہیں کیا نقصان پہنچا دیں۔ زندگی بڑی اجیرن کی ہوئی تھی ان لوگوں نے۔ ہمارے گھر میں دو جوان بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے، کل کلاں کو ان کے لئے کوئی مسئلے کھڑے نہ کردیتے بس یہی سب سوچ کے اپنا قدیمی خاندانی گھر چھوڑ کے چپ چاپ یہاں کراچی آگئے ۔ وہاں کسی کو کان و کان خبر بھی نہیں لگنے دی کہ کہاں جارہے ہیں۔ بیٹیوں کو پہلے ہی اسلام آباد بھیج دیا تھا پھوپھی کے گھر۔ یہاں آکر بھی بڑی احتیاط کی۔ راتوں کو اندھیروں میں کئی کئی پھیرے کئے اوررفتہ رفتہ سامان پہنچایا تاکہ وہاں کسی کو شبہ نہ ہونے پائے کہ چھوڑ کر جارہے ہیں ۔بس شکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نجات دی ان بھتہ خوروں سے ہمیں۔ جمعرات کو بچیوں نے محفل میلاد کا اہتمام کیا ہے نئے گھر کے لئے۔ اسی کا بلاوا دینے کے لئے حاضر ہوئی تھی۔ آپ لوگ ضرور تشریف لائیے گا ۔ پھر ہم تینوں کی طرف دیکھ کر مسکرائیں اور بولیں! ” لڑکیوں! تم لوگ بھی ضرورآنا ۔ میری چھوٹی بیٹی فاطمہ تم لوگوں کی ہی ہم عمر ہے۔ چھت پر سے دیکھا ہو شاید تم لوگوں نے اُسے ۔”
ان کی باتیں سن کر ہم تینوں خفت سے ایک دوسرے کا منہ تکتے رہ گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں