96

پانچواں صوبہ

آج کل گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کی تجویز زیر بحث ہے اور مقتدر حلقے اس میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔گلگت بلتستان کو پانچواں صوبہ بنانا چاہیے یا نہیں ، اہل اقتدار کو یاد لانا چاہیں گے کہ وہ پہلے جنوبی پنجاب کو پاکستان کا صوبہ بنائیں جس کا مطالبہ وہاں کے عوام کررہے ہیں۔ حکومت اور حزب اختلاف دونوں اس میں متفق ہیں تو پھر جنوبی پنجاب کو پانچواں صوبہ بنانے میں کیا امر مانع ہے۔ کراچی کے عوام بھی الگ صوبےکا مطالبہ کررہے ہیں اور ان کا مطالبہ جائز بھی ہے کہ ایک کروڑ ساٹھ لاکھ آبادی والے اس شہر قائد کو الگ صوبہ ہوناچاہیے۔ اسی طرح ہزارہ صوبے کی تحریک موجود ہے اور وہاں کے لوگ بھی الگ صوبہ چاہتے ہیں۔ بہاولپور کے عوام بھی اپنی شناخت اور حقوق کے لئے الگ صوبے کا مطالبہ کرتے آئے ہیں ۔ اس لئے گلگت بلتستان کو پانچواں صوبہ بنانے سے قبل یہ صوبے بنانے اس لئے بھی ضروری ہیں کہ یہ علاقے آئینی اور قانونی طور پر پاکستان کا حصہ ہیں جبکہ گلگت بلتستان آئینی اور قانونی طور پر پاکستان میں شامل نہیں ہے۔ لہذا پہلے یہ صوبے بنا لیں پھر گلگت بلتستان کا سوچیں۔ ویسے بھی پاکستان کے صوبے دنیا بھر میں رقبہ اور آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے ہیں اور نئے صوبے بننا بہت ضروری ہیں جس سے عوام کی مشکلات کم ہوں گی۔ افغانستان، سری لنکا اور سویڈن کی آبادی اور رقبہ پاکستان سے بہت کم ہے لیکن ان میں بالترتیب چونتیس، نو اور پچیس صوبے ہیں۔عوامی مطالبوں اور انتظامی مسائل کے حل کے لئے پاکستان میں مزید صوبے بننے چاہیں۔
جہاں تک گلگت بلتستان کا تعلق ہے تو یہ علاقے ریاست جموں کشمیرکا آئینی، قانونی حصہ اور ان کی بین الاقوامی حیثیت ریاست کے دیگر علاقوں کی طرح متنازعہ ہے۔ کشمیر کے مسلمان حکمران سلطان شہاب الدین ( 1360-1387 ء) نے یہ علاقے جموں کشمیر کی سلطنت میں شامل کئے جوتقسیم ہندوستان کے وقت بھی ریاست جموں کشمیر کا حصہ تھے۔ریاست جموں کشمیر کے کل رقبے چوراسی ہزار پانچ سو مربع میل میں گلگت بلتستان کا رقبہ تقریباً اٹھائیس ہزار مربع میل شامل ہے جسے سروے آف پاکستان اور اقوامِ متحدہ نے آج تک تسلیم کیا ہوا ہے۔ 1937 اور 1941 کے ریاست جموں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں گلگت بلتستان سے پانچ ارکان شامل ہوتے تھے اور یہ سلسلہ 1947تک جاری رہا۔ برطانوی ہند کے دور میں شمال کی جانب سے روس کےاس علاقے پر چڑھائی کے خطرے کے پیشِ نظر برطانوی ہند کی حکومت نے کشمیر کے حکمران مہاراجہ رنبیر سنگھ سے معاہدہ گلگت کے تحت یہ علاقہ 1935میں سا ٹھ سال کے عرصہ تک کے لئے اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔ مگر معاہدے کی رو سے یہ تسلیم کیا گیا کہ یہ علاقے ریاست جموں کشمیر کا حصہ رہیں گے اور سرکاری عمارتوں پر ریاست کا پرچم لہرایا جائے گا۔ نیز کان کنی کے اختیارات بھی مہاراجہ کشمیر کے پاس ہونگے۔ وہاں کے سول ملازمین ریاست جموں کشمیر کے ماتحت تھے اور اب بھی بہت سے لوگ مقبوضہ کشمیر اور آزادکشمیر میں موجود ہیں جو خود یا ان کے والدین گلگت بلتستان میں ریاست جموں کشمیر کے ملازمین تھے۔تقسیم ہندوستان سے قبل ریاست جموں کشمیر کے تعلیمی اداروں میں جو جغرافیہ پڑھایا جاتا تھا اس میں گلگت صوبے طور پر شامل تھا اور مردم شماری میں ان علاقوں کی آبادی ریاست جموں کشمیر میں شامل تھی۔
انگریزوں نے ہندوستان چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو یکم اگست 1947 کو یہ علاقے مہاراجہ کشمیر کو لو ٹا دیئے گئے۔ مہاراجہ جموں کشمیر نے بریگیڈیئر گھنسارا سنگھ کو گلگت بلتستان کا گورنر بنا کر بھیج دیا۔ بعد ازاں حریت پسندوں نے ڈوگرہ فوج کو شکست د یکر اسے گرفتار کر لیا جسے بعد میں قائد اعظم کے سیکریرٹری کے ایچ خورشید (بعد میں صدر آزادکشمیر)کے ساتھ تبادلے میں رہا کیا گیا۔ 1947ءمیں قائم ہونے والی آزادکشمیر حکومت اپنے مسائل اور وسائل کی وجہ سے ان علاقوں کا انتظام خود نہیں سنبھال سکتی تھی اس لئے28 اپریل 1949 میں وزارتِ امورِ کشمیر حکومت پاکستان، حکومت آزاد کشمیر اور مسلم کانفرس کے درمیان معاہدہ کراچی کے تحت گلگت بلتستان عارضی طور پر انتظام کی غرض سے حکومتِ پاکستان کے حوالے کیا گیا. جس کے بعد حکومتِ پاکستان نے محمد عالم خان کو اس علاقے کا پولیٹیکل ایجنٹ بنا کریہاں بھیج دیا۔ پاکستان کے 1956، 1962اور 1973کے آئین میں کہیں بھی گلگت بلتستان کو پاکستان کا حصہ قرار نہیں دیا گیا۔ موجودہ 1973کے آئین کی دفعہ ایک کی ذیلی شق دو میں پاکستان کن علاقوں پرمشتمل ہے، کی تفصیل دی گئی ہے۔ ان میں گلگت بلتستان شامل نہیں ہے۔ پاکستان کے سپریم کورٹ کے فیصلوں میں بھی یہی تسلیم کیا گیا ہے۔ چونکہ گلگت بلتستان ، ریاست جموں کشمیر کا حصہ ہے اور یہ بھی پوری ریاست کی طرح ابھی تک متنازعہ ہے جس کا ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے اس لئے اس کا حتمی فیصلہ بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت ہی ہوگا اور کسی ایک جماعت، فرد یا کچھ لوگوں کے جانب سے از خود کئے گئے کسی بھی فیصلے کی کوئی حیثیت نہیں اور نہ ہی کسی کو اس کا اختیار حاصل ہے۔
مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی نے بخشی غلام محمد کے دور میں جب 15 فروری 1954ءکو بھارت کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا اور پھر 26جنوری 1957ءکو مقبوضہ کشمیر کے آئین میں کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیا جس پر پنڈت نہرو نے 29مارچ 1956ءمیں لوک سبھا میں کہا کہ کشمیر اب آئینی طور پر بھارت سے الحاق کر کے اس کا حصہ بن گیا ہے۔ اب رائے شماری کی باتیں فضول ہیں۔ جو لوگ اس بات پر مصر ہیں کہ گلگت بلتستان کا 16 نومبر 1947ءکو پاکستان کے ساتھ الحاق ہوگیا تھا انہیں مقبوضہ کشمیر کا بھارت سے الحاق بھی تسلیم کرلینا چاہیے۔ گلگت بلتستان کے الحاق کی نہ کوئی دستاویز ہے اور نہ ہی یہ کوئی قانونی طور پر کسی اسمبلی نے کیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے بھارت کے الحاق کو مسترد کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ نے 24جنوری 1957کو قرارداد نمبر 122منظور کی، جس میں اپنی سابقہ قراردادوں کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ کسی کو بھی ریاست کے کسی بھی حصے کے مستقبل کا فیصلہ اپنے طور پرکرنے کا اختیار نہیں اور نہ ہی اس کی کوئی حیثیت ہے۔ اس قرارداد کا اطلاق ریاست جموں کشمیر کے تمام علاقوں بشمول گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر پر بھی ہوتا ہے۔پاکستان کے وزراءخارجہ ظفراللہ خان اور ذوالفقار علی بھٹو نے بالترتیب 16جنوری 1948اور 16مارچ 1963کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے گلگت بلتستان کو ریاست جموں کشمیر کا حصہ قرار دیتے ہوئے متنازعہ علاقہ تسلیم کیا۔ حال ہی میں 5اگست 2020کو پاکستان کے نئے سیاسی نقشے میں گلگت بلتستان کو ریاست جموں کشمیر کا حصہ قرار دیتے ہوئے ایک ہی رنگ میں ظاہر کیاے اور پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرس میں اس کی وضاحت بھی کی۔
پاکستان کا مو قف ہی اقوام متحدہ کی قرارد اد یں ہیں جن کی بنیاد پر وہ پوری دنیا میں کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کو چیلینج کرتا ہے۔ ریاست جموں کشمیر میں تعینات اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین جو کنٹرول لائن پر موجود ہیں ان کے گلگت اور سکردو میں موجود دفاتر بھی اسی حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ علاقے ریاست جموں کشمیر کا حصہ ہیں۔ 1954ءتک گلگت بلتستان کے لوگ اپنا ڈومیسائل مظفر آباد، آزادکشمیر سے حاصل کرتے تھے۔ آزاد کشمیر کی ہائی کورٹ نے 1992میں اپنے ایک فیصلے میں گلگت بلتستان کو ریاست جموں کشمیر کا حصہ قرار دیا تھا جس کی بعد میں آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ نے توثیق کی تھی۔ذوالفقار علی بھٹونے اپنے دور حکومت میں آزادکشمیر کو پاکستان کا صوبہ بنانے کی پوری کوشش کی جو ناکام رہی۔ گلگت بلتستان کو بھی صوبہ بنانے کی تجویز پہلے بھی آتی رہی لیکن یہ ممکن نہیں ہوسکا اور نہ ہی یہ اب ممکن ہوگا۔ گلگت بلتستان کے عوام کو جمہوری حقوق اور اختیار ضرور ملنا چاہیے۔ اِن علاقوں کو آزادکشمیر کے ساتھ ملا کرایک بڑا انتظامی یونٹ بنانا چاہیے . دونوں علاقوں میں منتخب اسمبلیاں ہونی چاہیں جو ایک مشترکہ سینٹ کا انتخاب کریں جس سے صدر اور وزیر اعظم منتخب ہوں جن میں سے ایک کا تعلق لازمی طور پر گلگت بلتستان سے ہو۔ ان دونوں علاقوں کی مشترکہ سپریم کورٹ ہو۔ دفاع، امور خارجہ، خزانہ اور مواصلات ایک معاہدے کے تحت حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہوں ۔پاکستان کے ستر سال سے کشمیر پر اصولی مو قف کا تقاضا ہے کہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھایا جائے جو تقسیم کشمیر یا اصولی موقف کے منافی ہو۔ بھارت کی یہ شاطرانہ چال ہے کہ جس طرح اس نے لداخ کو مرکز کے تحت علاقہ قرار دیا ہے پاکستان بھی گلگت بلتستان کو اپنا صوبہ بنائے۔ اسلام آبا دکو اس کے مضمرات کا علم ہونا چاہیے اور ایسی تجاویز کو مسترد کردینا چاہیے کیونکہ ان سے کشمیری عوام میں بددلی اور مایوسی پھیلے گی ۔ اسلام آباد کو دہلی کے نقش قدم پر نہیں چلنا چاہیے بلکہ اپنے اصولی موقف پر قائم رہنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں