باصلاحیت نوجوانوں سے مالا مال پاکستانی قوم ، پاکستان کے پرچم کوعالمی سطح پہ بلند کرنے کا عظم رکھتی ہے۔ پاکستانی معاشرے میں خواتین کا کردار بھی بہت اہم ہے۔ دیگر معاشروں کی طرح پاکستانی حوصلہ مند خواتین زندگی کے ہر شعبے میں اپنا کردار ادا کرتی نظر آتی ہیں، اور بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کا نام روشن کر رہی ہیں ۔ آج ہم آپ کا تعارف ناروے میں مقیم پاکستانی کاروباری و سماجی شخصیت ہماء شریف سے کرا رہے ہیں۔

پاکستانی نژاد نارویجین خاتون ہماء شریف ایک کاسمیٹولوجسٹ ہیں ۔ ان کا اپنا کاسمیٹک مصنوعات کا برانڈہے ۔ ہماء اپنی مصنوعات کی سیل کا پچیس فی صد پاکستان کی فلاحی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن کو عطیہ کرتی ہیں۔ ہماء پروفیشنل فوٹوگرافر بھی ہیں ۔ یوں کہیئے کہ ہماء ایک باصلاحیت تخلیقی شخصیت اور انسانیت کا درد رکھنے والی خاتون ہیں۔

ہماری ملاقات ہماء سے چند روز قبل اسٹاک ہوم میں جاری ایک تقریب میں ہوئی۔ اور ان سے بات چیت کے دوران پتہ چلا کہ ان کو یہ تخلیقی و فنی صلاحیتیں اپنے والد سے وراثت میں ملی ہیں۔ ان کے والد ایک بہترین خطاط تھے۔ ہماء کے یوٹیوب چینل پر موجود ایک ویڈیو اردو قاصد کی توجہ کا مرکز بنی۔ جس میں انہوں نے پاکستانی فیشن کے 100 سال کی عکاسی کی ہے۔ انہوں نے 1910 سے 2018 تک فیشن میں ہونے والی تبدیلیوں کو بہت خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ پاکستان کے 100 سال نہیں بلکہ ہماری تہذیب ، ثقافت اور فیشن کے 100 سال پر مبنی ویڈیو ہے۔ جس میں 3 دہائیاں پاکستان کے تشکیل سے پہلے کا وقت دکھاتی ہیں ، اور باقی 8 پاکستان کے تشکیل کے بعد کا وقت دکھاتی ہیں۔

اردو قاصد سے خصوصی گفتگو کے دوران ان کا کہا تھا کہ خواتین اپنے اپنے شعبوں میں ترقی کی منازل طے کر رہی ہیں اور یہ ثابت کر رہی ہیں کہ پاکستان کی خواتین کو اگر مواقع میسر ہوں تو وہ کامیابیوں اور نئی جہتوں کی اعلیٰ مثالیں قائم کر سکتی ہیں۔

دن بہ دن بڑھتے اس ترقی کے دور میں ہمیں اپنے پرانے نظریات پر مشتمل ہمارے معاشرتی نظام کو بدلنا ہوگا جہاں لڑکیوں کے لیے کچھ شعبوں کو اچھا نہیں سمجھا جاتا ۔ جس طرح کوئی پرندہ ایک پر سے پرواز نہیں کرسکتا، اُسی طرح کوئی بھی معاشرہ عورت کو نظر انداز کرکے ترقی کی راہ پر آگے نہیں بڑھ سکتا، کیونکہ عورت معاشرے کے پرندے کا دوسرا پر ہے۔