87

پاکستانی آم اور کاروباری اخلاقیات

پھلوں کے بادشاہ آم سویڈن میں بھی اسٹال، دکانوں اور سُپر مارکیٹس کی ذینت بنے ہوئے ہیں۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ ایک ہی وزن اور کمپنی کے آم کئی مختلف قیمتوں میں مارکیٹ میں دستیاب ہیں – 2 کلو آم کی پیٹی کی قیمت اسٹاک ہوم میں 75کرون سے لے کر 150کرون لی جارہی ہے۔ سوشل میڈیا اور خاص طور پر فیس بک مارکیٹ پلیس پر بھی آم بیچے جارہے ہیں۔ چند ماہ پر محیط پاکستانی آم کے اس کاروبار میں ملوث چند افراد کو کاروباری اخلاقیات کا خیال نہیں رکھنا چاہیئے ؟ یہ ایک حقیقت ہے کہ رزق حاصل کرنے کے جتنے بھی ذرائع ہیں ان میں کاروبار سب سے بڑا اوراہم ذریعہ ہے ۔ کاروبار کی اس اہمیت کے پیش نظر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ترجمہ: ’’ایک دوسرے کا مال ناجائز ذریعے سے نہ کھاؤ بلکہ باہمی رضامندی کے ساتھ تجارت کی راہ سے نفع حاصل کرو۔‘‘ (النساء 29)
لیکن بے حد افسوس کہ چاہے ہماری اسلامی تعلیمات ہوں یا مغربی کاروباری اخلاقیات جسے بزنس ایتھکس کہا جاتا ہے، تھوڑے سے منافع کے لیے ہم سب بھول جاتے ہیں۔ جبکہ دنیا میں کاروبار اور انتظامی امور کی تعلیم دینے والے اداروں نے اس کو باقاعدہ نصاب میں شامل کرکے اس مضمون کو کافی وسعت دی ہے۔ بلکہ معاشی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ معاشرتی سرگرمیوں کے بہت سے پہلوؤں کو اس میں داخل کیا ہے۔جس کا مقصد بظاہر ایسے متوازن نظام کو قائم کرنا ہے جو بنی نوع انسان کے لیے زیادہ مفید ہو۔
گزشتہ کئی سال سے سویڈن میں پاکستانی سبزی اور فروٹ کے کاروبار میں افقی اور عمودی تنازعات کی بو محسوس کی جاسکتی ہے۔

عودی تنازعہ کی مثال اس طرح لی جاسکتی ہے کہ اگر ایک ڈسٹری بیوشن یا تھکوک کا کام کرنے والی کمپنی پاکستان سے اشیاء درآمد کرتی ہےاور اپنی اشیاء پرچون کی دکانوں اور اسٹالز پر سپلائی کرتی ہے ۔ اور دکاندار اس تھوک کی قیمت پر اپنا منافع رکھ کر صارفین کو سامان فروخت کرتا ہے۔ تنازعہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب ڈسٹریبوٹر پرچون پر سپلائی کی گئی اشیاء سے بھی کم قیمت پر خود ریٹیل کرنا شروع کر دیتا ہے۔
سویڈن کے کاروباری قوانین کی تفصیل میں جائے بغیر یہ جاننا ضروری ہے کہ یہاں ٹھیلا یا جیسے سویڈش میں تھوری کہتے ہیں اس پر بھی کیش مشین ہونا لازمی ہے اور خریدے ہوئے مال کی رسید دینا بھی لازمی ہے۔ وہاں کیسے ممکن ہے کہ اشیاء گودام سے فروخت کی جائیں۔ اسٹاک ہوم میں تو کچھ ہول سیلر ہوم ڈلیوری بھی کر رہے ہیں۔ خیر! اب ہمیں اس سے کیا ، ہمیں تو سستے آم گھر بیٹھے مل رہے ہیں۔
سویڈن میں آج بھی پاکستان سے تعلق رکھنے والی ایسی کئی کاروباردی شخصیات کار فرما ہیں جو اپنی کاروبار ی اخلاقیات کی وجہ سے مارکیٹ میں عزت ومقام رکھتے ہیں۔اگر ہم اپنے اخلاقی معیار گِرنے کے اسباب کا جائزہ لیں تو اس کا بنیادی سبب اللہ تعالیٰ کے آگے جواب دہی کا تصور نہ ہوناہے۔ ہمیں اپنے اندر تصور آخرت کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ ہمارا معیارِ اخلاقیات بلند تر ہو اور اس مقام پر پہنچ سکے جس میں لوگ ایک دوسرے کے ساتھ کاروباری معاملات کرتے وقت دوسرے کے حق کی ادائیگی کی زیادہ فکر کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں