پاکستان، دنیا میں اسلام کے نام پر قائم ہونے والا واحد ملک ہے۔ جس پر اللہ تعالیٰ کاخاص کرم ہے۔ پاکستان طرح طرح کی نعمتوں اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ پاکستان دنیا میں کپاس کی پیداوار کرنے والا چوتھا، دودھ کی پیدوار میں پانچھواں اور دنیا کی سب سے بڑی نمک کی کان کیوڑا کا مالک ہے۔ اس کے صوبہ بلوچستان میں بیشمار مادنیات اور سونے کے پہاڑ موجود ہیں۔ اس کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہوتا جہاں چاروں موسم کا لطف اُٹھایا جاسکتا ہے۔ پاکستان کے پاس دنیا کی تیرھویں طاقتور ترین فوج ہے اور یہ اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت ہے، یہاں قدرتی حسن اور گلیشیئرموجود ہیں۔ سب سے بڑھ کر پاکستان ایک زرعی ملک ہےجس کی تقریباً 60 فی صد آبادی زراعت سے وابسطہ ہے ، اس میں قدرتی دریا اور نہری نظام بھی موجود ہے۔

مگر بدقسمتی سے اس ملک میں مخلص قیادت کا فقدان رہا ہے، اسے بہت ہی کم ایسے حکمران نصیب ہوئے ہیں جنہوں نے نہ صرف ملک کو بنانے کا سوچا بلکہ آنے والی نسلوں کو بہتر مستقبل دینے کے لیے اپنی زندگی تک وقف کردی۔

گزشتہ چند دہائیوں سے اس ملک پر ایسابدعنوان طبقہ قابض ہے جس نے اقتدار میں آنے کے بعد ملک کے مستقبل کے بارے میں سوچنے یا ملک میں موجود ان قدرتی وسائل کو استعمال کرکے اسے دنیا کے چند ترقی پزیر ممالک کی فہرست میں لانے کی کوشش تک نہیں کی۔ بلکہ ان لوگوں نے اسے لوٹ کر غیر ممالک میں اپنی جائیدادیں بنائیں اور یہ ملک اندھیروں کا شکار ہوتا چلا گیا۔ جب کہ پاکستان میں پانی کے لیے قدرتی گلیشیئر موجود ہیں، جن کا پانی دریاؤں میں ہوتا ہوا سمندر میں جا گرتا ہے۔

صدر ایوب خان کے دورِ حکومت میں عالمی بینک (انڈس واٹر ٹریٹی ) کے تعاون سے 1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان دریائے سندھ اور دوسرے دریاوں کا پانی منصفانہ طور پر حصہ داری کا معاہدہ ہوا، جو سندھ طاس معاہدہ کہلاتا ہے ۔بارشوں کے باعث دریاؤں میں پانی کی سطح بڑھنے کا خطرہ رہتا ہے چوں کہ پاکستان میں دریاؤں کا پانی بھارت سے ہوتا ہوا آتا ہے تواس معاہدے میں یہ بھی طے پایا کہ اگر بھارت چاہے تو اضافی پانی اپنے نہری نظام میں استعما ل کر کے پاکستان کو سیلاب سے بچا سکتا ہے۔


صدر ایوب خان کے دور میں ہی منگلا ڈیم اور تربیلا ڈیم کی بنیاد رکھی گئی اور نہری نظام متعارف کروایا گیا۔ منگلا ڈیم کا شمار دنیا کے سب سے بڑے ڈیم میں ہوتا ہے اور وہ آج تک پاکستان کی زیادہ تر توانائی کی ضرورت پوری کر رہا ہے۔ لیکن جیسے جیسے آبادی میں اضافہ ہوتا گیا، ملک میں بجلی کی طلب اور ضرورت بھی بڑھتی گئی، جس سے نمٹنے کے لیے نہ تو کوئی اقدام کیا گیا اور نہ ہی پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے نئے ڈیم بنائے گئے۔ ملک میں سیلاب آتے رہے جس سے جانی اور مالی نقصان ہوتا رہا۔ مگر سیاستدانوں کے آپسی اختلافات میں کسی کو اتنی توفیق نہ ہوئی کہ وہ اس جانب توجہ دیتے۔

پاکستان دنیا کہ سب سے زیادہ پانی استعمال کرنے والے ممالک کی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے۔ ہماری توانائی کی ضروریات صرف دو بڑے ڈیم تک ہی محدود ہے۔ جبکہ بارشوں کی بھی شدید کمی ہو چکی ہے۔ دوسری طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلسل پاکستان کے حصے میں آنے والے دریاؤں پر غیر قانونی ڈیم بناکر اس کا پانی روک رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق بھارت، پاکستان کا 65 فی صد پانی غیر قانونی ڈیموں اور ذخیرہ کر کے روک چکا ہے۔لہٰذا پاکستان کو پانی کے بحراں اور خشک سالی کا سامنا ہے۔

حال ہی میں شائع ہونے والی عالمی ادارہ یونی سیف کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان 2025 تک مکمل خشک سالی کا شکار ہوجائے گا۔ اس کی زمین پانی کے بغیر بنجر ہو جائیں گی۔ جب کے پینے کے پانی کے لیے لوگ بوند بوند کو ترسیں گے۔


یہ رپورٹ ملک کے حکمرانوں کے لیے شائع کی گئی۔ جنہوں نے 2010 کے سیلاب میں 10 ملین کا نقصان برداشت کر لیا مگر بھارت کو بارشوں کا اضافی پانی پاکستان میں چھوڑنے پر اُف تک نہ کی۔ پاکستان کانسل آفیسرز ان واٹر سیورز کا بھی کہنا ہے کہ پاکستان کو 2025 تک شدید قلت کا سامنا ہوسکتا ہے، یہاں تک کے یہ ڈے 0 تک بھی جا سکتا ہے یعنی مکمل خشک سالی۔ کیونکہ پاکستان کے قدرتی چشموں، دریاؤں کاپانی ہر سال یوں ہی ضائع ہو جاتا ہے جس کو ذخیرہ کرنے کے لیے آج تک مزید ڈیم یا خشک سالی سے نمٹنے کے لیے کوئی منصوبہ نہیں بنایا گیا۔

بھارت نے 2009 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دورِحکومت میں کشن گنگا ڈیم کی تعمیر شروع کی اور پاکستان کے حصے کا پانی روک لیا۔ یہ معاملہ عالمی عدالت میں گیا اور 2 سال تک یونہی کیس چلتا رہا اور بلاآخر عالمی عدالت نے پاکستان کے تمام اعترازات مسترد کر تے ہوئے بھارت کے حق میں فیصلہ سنا دیا اور اسے پانی کا رخ موڑنے کی اجازت دے دی۔عالمی بینک نے بھی پاکستان کی شکایات اور شواہد کو ناکافی قرار دیتے ہوئے بھارت کے حق میں فیصلہ دیا۔
اس کے ساتھ ساتھ دریائے سندھ پر بنائے جانے والے متنازع بجلی کے منصوبے نیموبازگو کے خلاف سابق وزیرِ اعظم کے حکم پر پاکستان اس لیے عالمی عدالت میں نہیں گیا کہ اس کیس پر وقت ضائع ہوگا۔ اسی دوران بھارت نے چھوٹک نامی منصوبہ بھی مکمل کر لیا اور ہم دیکھتے رہ گئے ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کے پاکستان کے دریاؤں میں پانی کی شدید کمی ہونے لگی اور زراعت سے وابسطہ کسان طبقہ ٹیوب ویل لگانے پر مجبور ہو گیا جسے چلانے کا خرچہ کئی گنا زیادہ ہے۔ یوں فصلوں کی کاشت پر اچھا خاصہ فرق پڑ گیا جس کا سارا زور کسان طبقے پر پڑنے لگا۔

کشن گنگا ڈیم کی تعمیر کے بعد بھارت دریائے سندھ پر 14 چھوٹے اور دو بڑے غیر قانونی تعمیر کر چکا ہے، یہی وجہ ہے منگلا ڈیم اکتوبر 2017 سے خشک ہو چکا ہے۔ جبکہ تربیلا ڈیم بھی بارشوں کا منتظر ہے، جس کی حالیہ موسمی اثرات کو دیکھ کر کوئی امید نظر نہیں آتی۔

دو سال پہلے ہی بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ پاکستان کو پانی کی بوند بوند کے لیے مہتاج کر دیگا، جس کا عملی مظاہرہ آج ہمیں دیکھنے کو مل رہا ہے۔

دریائے چناب پر باغ لہار ڈیم بھارت اس وقت بنا چکا ہے اور دریائے جہلم پر ولر بیراج اور ربر ڈیم سمیت باون ڈیم مزید بنا رہا ہے۔ دریائے چناب پر بھی اس کی 24 مزید ڈیم کی تعمیر جاری ہے۔ یہ ہی نہیں مستقبل میں 190 ڈیم کی امکانیت رپورٹ لوک سباہ اورکابینہ کمیٹی میں زیرِ غور ہیں، جن پر کام کرنے کے لیے تیاریاں کی جارہی ہیں۔انڈیا کی یہ خلاف ورزیاں دھڑلے سے جاری ہیں۔
مگر ہمارے سیاستدان اور حکمران ایک دوسرے کی عز ت اچھالنے میں مصروف ہیں۔ کوئی نیا پاکستان بنانے کا نعرہ لگا رہا ہے تو کوئی ووٹ کو عزت دینے کا مطالبہ کر رہا ہے ۔ کوئی مذہب پر سیاست کررہا ہےتو کوئی صرف کرسی کے لیے پارلیمنٹ کا حصہ ہے۔ بھارت کا پاکستان کے پانیوں پر حق جتانا اور قبضہ کرنا پاکستان میں قلت کی وجہ ضرورہے۔ مگر اس سے بھی بڑی وجہ ہمارے حکمرانوں کی نا اہلی ہے۔ جو اپنے مفادات میں ملک کا مستقبل داؤ پر لگا چکے ہیں تب ہی تو کالا باغ ڈیم جیسے منصوبے کو سیاست کی نظر کر دیا گیاہے۔ ان تمام بدعنوان حکمرانوں کی جائیدادیں ملک سے باہر موجود ہیں ،کل خدا نہ خواستہ اگر پاکستان پر کوئی آنچ آتی ہے تو یہ ملک سے بھاگنے میں دیر نہیں کریں گے۔لیکن بطور پاکستانی عوام ہمیں ان موضوعات پر سوچنا چاہیے اور خاص طور پر ووٹ دینے سے پہلے ہمیں سوچنا چاہیے کہ جس کو ہم ووٹ دے رہے ہیں کیا یہ واقعی ملک کے مسائل کو حل کرنے کے لیے مخلص ہے؟

سپریم کورٹ نے 6جولائی 2018کو آبی ذخائر کی تعمیر کے لیے احکامات جاری کیے اور اس قومی کارِخیر میں پاکستانی عوام اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں بھرپور حصہ لے رہیں ۔ بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کے لیے فنڈز جمع کرنے کے لیے ایک اکاؤنٹ کھولا گیا ہے اور چند ہی دنوں میں جمع ہونے والی رقم ستائیس کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔اس اکاؤنٹ میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے۔ آپ بھی اس کارِ خیر میں حصہ لے سکتے ہیں، اکاؤنٹ کی تفصیل اس لنک کے ذریعے حاصل کی جاسکتی ہیں۔


سپریم کورٹ پاکستان فنڈ اکاؤنٹ
دیا میر بھاشہ ڈیم کے حوالے سے کچھ مشورے
واپڈا کی ویب سائٹ کے مطابق ڈیم کی لاگت 894 بلین اور اس کی تعمیر میں 10 سال کا عرصہ لگے گا۔ اس پراجیکٹ کے لیے 89.4بلین سلانہ فنڈ کی ضرورت ہے۔جس کے لیے پاکستانی عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ قومی تعمیر کے عظیم منصوبہ میں بھر پور حصہ لیں۔ 2017 کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی 200 ملین ہے۔ پچاس فی صد پاکستان کی آبادی کو غربت کی لکیر سے نیچے مان لیا جائے تو اگر 100 ملین پاکستانی ہر سال 500 روپے اس فنڈ میں ڈالتے ہیں تو یہ رقم 50 بلین سالانہ بنتی ہے۔
ویکی پیڈیا کے عدادوشمار کے مطابق 7.6 ملین پاکستانی بیرونِ ملک مقیم ہیں۔ اگر پچاس فی صد بیرون ملک مقیم پاکستانی سالانہ 100 ڈالر چندہ دیتے ہیں تو یہ 380 ملین ڈالر یعنی 48.6 بلین روپے سالانہ بنتے (1$=Rs 128)ہیں ۔
اس طرح پاکستانی قل 98.8 بلین سالانہ جمع کر سکتے ہیں۔ بلکہ 9 ملین اضافی رقم ہوگی ۔
لہٰذا تمام پاکستانیوں سے درخواست ہے کم سے کم 500 روپے سالانہ اس فنڈ میں ڈالیں اور بیرونِ ملک پاکستانیوں سے درخواست ہے کم سے کم 100 ڈالر سالانہ اس فنڈ میں دس سال تک جمع کرائیں۔اللہ پاک ہمارا حامی و ناصر ہو اور ہمیں کسی سے بھی قرضہ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔
ایک بار پھر آپ سب سے گزارش ہے دل کھول کر عطیہ دیں۔