80

نیا نقشہ پرانا موقف

حکومت پاکستان کی جانب سے 4 اگست 2020 کو جاری کئے گئے نقشہ کے حوالےسے کچھ لوگ اور میڈیا یہ تاثر دے رہا ہے ریاست جموں کشمیر کو پاکستان میں شامل کرلیا گیا ہے اور اسے پاکستان کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ بالکل لغو اور غلط ہے اور ایسا کچھ بھی نہیں۔پریس کانفرس کی ویڈٖیو میں، وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی یہ واضح کررہے ہیں کہ پوری ریاست جموں کشمیر متنازعہ ہے اور ابھی اس کا فیصلہ ہونا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وضاحت سے کہا ہے کہ ریاست جموں کشمیر کے تمام علاقے جن میں گلگت بلتستان، آزادکشمیر، مقبوضہ جموں کشمیر اور اکسائی چین شامل ہیں، سب کے سب متنازعہ ہیں اور ان کے مستقبل کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔حکومت پاکستان کا یہ موقف بالکل درست اور حقائق کے مطابق ہے اورقابل تحسین ہے۔ اس نقشہ کو اگرچہ نیا کہا جارہا ہے لیکن موقف وہی ہے جو روز اول سے پاکستان نے اپنایا ہوا ہے۔ ویسے یہ نقشہ بھی کوئی نیا نہیں، ہمارے دور کی درسی کتابوں اور سرکاری دفاتر میں ایسا نقشہ ہی ہوتا تھا۔ اس کی تصدیق سروے آف پاکستان کے نقشوں سے ہوسکتی ہے۔ میڈیا جو یہ تاثر دے رہا ہے کہ ریاست جموں کشمیر کو پاکستان میں شامل کرلیا گیا ہے وہ غلط اور گمراہ کن ہے۔ اگر وہ اس نقشہ کو کھلی آنکھ سے دیکھتے تو انہیں اس نقشہ میں جہاں ریاست جموں کشمیر ہے وہاں واضح طور پر سرخ روشنائی میں لکھا ہے DISPUTED TERRITORY. FINAL STATUS TO BE DECIDED IN LINE RELEVANT UNSC RESOLUTIONS ان لوگوں کو اسی نقشہ کے ساتھ سرخ رنگ میں نوٹ لکھا ہوا بھی نظر نہیں آیا جس میں لکھا ہے کہ The state of Jammu & Kashmir and its accession is yet to be decided through a plebiscite under the relevant United Nations Security Council Resolutions مزید یہ کہ پاکستان ایسا کر ہی نہیں سکتا، کیونکہ پاکستان کا موقف اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر مبنی ہے اور اقوام متحدہ کہ سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر 122 جو 24 جنوری 1957 کو منظور ہوئی اور پاکستان نے تسلیم کی اس قرار داد کے تحت پاکستان ایسا نہیں کرسکتا کیونکہ اس سے پہلے 1973 کے آئین کی شق 1 سب سیکشن 2 اور شق 257 میں ترمیم کرنا پڑے گی۔ پاکستان کا پہلے روز سے اور ہر حکومت کا اصولی موقف یہ ہے کہ ریاست جموں کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے عوام کریں گے اس لئے انہیں حق خود ارادیت دیا جائے۔اب اگر پاکستان ریاست جموں کشمیر کو اپنا حصہ قرار دے دیتا ہے تو نہ صرف اس کا سابقہ موقف ختم ہوجائے بلکہ مسئلہ کشمیر بھی ہمیشہ کے لئے دفن ہوجائے گا۔ جہاں تک جونا گڑھ کا تعلق ہے تو کچھ عرصہ سے پاکستان نے اپنے نقشہ میں جونا گڑھ اور مناور کو اپنا حصہ ظاہر کرنا بند کردیا تھا لیکن اب پھر سے اسے اپنا حصہ دکھایا ہے جو خوش آئند ہے۔اس بارے میں میں نے ماضی میں کئی کالموں میں توجہ دلائی تھی۔ بھارت سے مطالبات کرنے کی بجائے اور عالمی رائے عامہ سے تعاون کے لئے سفارت کاری اپنی جگہ لیکن حکومت پاکستان کو عملی اقدامات اٹھانے اور اپنی پالیسی کو حقیقت پسندانہ بنانے کی ضرورت ہے اس غرض سے 1۔ شملہ معائدہ سے علیحدگی اختیار کی جائے یا کم از کم جو شقیں جموں کشمیر سے متعلقہ ہیں ان سے علیحدگی کا اعلان کیا جائے اور لائن آف کنٹرول کا پھر سے سیز فائر لائن کا درجہ دیاجائے۔ 2۔ ریاست جموں کشمیر کے آزاد خطہ آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان پر مشتمل 222236 مربع کلو میٹر کی ریاست جموں کشمیر کی نمائندہ حکومت کے طور پر تشکیل دی جائے جو آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی دونوں اسمبلیاں کی بنیاد ہو جس میں مقبوضہ جموں کشمیر لداخ کو علامتی نمائندگی دی جائے۔۔ اس نمائندہ حکومت کو حکومت پاکستان خود بھی تسلیم کرے اور اپنے دوست ممالک سے تسلیم کروا ئے۔ مسئلہ کشمیر کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ذمہ داری حکومت آزادکشمیر و گلگت بلتستان کی ہونی چاہیے۔ 3۔ وزارت امور کشمیر، جموں کشمیر کونسل اور پارلیمانی کشمیر کمیٹی کا خاتمہ کیا جائے۔ حکومت پاکستان اور آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر کے درمیان تعلق کا تعین 15.08.1947 کے اسٹینڈ اسٹیل معاہدے اور یو این او کی قرارداد اور کے مطابق کیا جائے۔ 4۔ گلگت بلتستان میں قانون باشدہ ریاست Law State Subjectجسے1974ء میں منسوخ کردیا گیا تھا، پھر سے بحال کیا جائے۔ 5۔ ریاست جونا گڑھ اور مناور جس نے پاکستان سے الحاق کیا تھا، اسے بھارت سے حاصل کرنے جدوجہد بھی شروع کرنی چاہیے اور اپنی حکمت عملی کا اعلان کرنا چاہیے۔ سڑکوں کے نام رکھنے، بیانات دینے، مظاہرے کرنے، نعرے لگانے سے عوامی جذبات سے تو کھیلا جاسکتا ہے لیکن ان کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ ستر سال سے یہی کچھ ہورہا ہے۔ اسلام آباد سے مظفرآباد جانے والی سڑک کا نام سری نگررکھنے سے وہاں پہنچ نہیں جائیں گے۔ سیالکوٹ سے جموں والی شاہراہ ستر سال سے جموں روڈ کے نام سے موجود ہے۔ سیالکوٹ سے جموں کا فاصلہ صرف 40 کلومیٹر ہے جبکہ اسلام آباد سے سری نگر 170 کلومیٹر ہے۔ جب 40 کلومیٹر کا فاصلہ سترسال سے جموں روڈ رکھنے سے طے نہیں ہوا تو اب 170 کلومیٹر کا فاصلہ کیا محض شاہراہ سری نگر رکھنے سے طے ہوجائے گا؟ خدارا بچگانہ حرکتیں کرنے کی بجائے وہ عملی اقدامات اٹھائیں جن کی طرف توجہ اس کالم میں دلائی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں