ظہر کی نماز کا وقت تھا۔ مجھ سے اگلی صف میں موجود ایک صاحب اپنے دو ننھے منھے بچوں کے ہمراہ کھڑے تکبیر کا انتظار کر رہے تھے۔ ان بچوں کو دیکھ کر مجھے اپنا بچپن یاد آگیا۔ چہروں پر بےفکری نمایاں تھی۔ اسی دوران جلدی میں ایک ، صاحب آئے اور دونوں بچوں کو بازو سے پکڑ کر پچھلی صف کے ایک کونے میں کھڑا کردیا۔ ابھی یہ منظر مکمل ہی ہوا تھا کہ ایک صاحب نے آکر انہیں سب سے آخری صف پر دھکیل دیا۔ جماعت کھڑی ہوچکی تھی، مگر میں نماز شروع نہ کر پایا۔ میری نگاہ انھی معصوم چہروں پر ٹکی تھی۔ اس بظاہر معمولی واقعے سے میرے ذہن میں سوالات کا سیلاب امڈ آیا، کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کیا دے رہے ہیں ہیں۔ نماز سے فراغت کے بعد مجھے وہ واقعہ بھی یادآیا جب میں نے ایک چرچ کے باہر ایک عیسائی پیشوا کو بچوں میں چاکلیٹس اور ٹافیاں بانٹتے دیکھا۔
اگر ہم بچوں کو کچھ سکھانا چاہتے ہیں تو ہمیں ان کی تعلیم و تربیت کا جائزہ لینا ہوگا۔ اگر ہم اپنے معاشرے کا بغور جائزہ لیں، تو یہ حقیقت واضح ہوگی کہ یہاں بچے پل کر خودبخود بڑے ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس، ترقی یافتہ معاشروں میں ہر لحاظ سے بچوں کی تربیت کا خیال رکھا جاتا ہے۔ اس معاملے میں ہمیں اپنا انداز فکر بہتر بنانا ہوگا۔ والدین کو اپنے اور بچوں کے درمیان خلا کم کرنا ہوگا۔ بچے اپنے والدین سے بہت کچھ کہنا چاہتے ہیں، مگر کہنے سے ڈرتے ہیں، نہ جانے والدین کا ردعمل کیا ہوگا۔ اسکی ایک وجہ گھر میں دوستانہ ماحول کی کمی ہے۔ اگر ہم معاشرے کو باشعور بنانا چاہتے ہیں ، اس کام کا آغاز گھر سے کرنا ہوگا۔ ترقی یافتہ معاشرے ان باتوں کو سمجھ چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے افراد میں تحقیق کا جزبہ مسلسل پروان چڑھ رہا ہے۔ وہ اپنے معاشرے سے جمود کو ختم کر چکے ہیں۔ وہ قومیں اپنے معاشرے کی ہر اکائی کو مثبت طرز ِفکروعمل کا حامل بنانے کی کوشش کرتی ہیں، جہاں ایک دوسرے کی خوبیوں کی خوب قدر کی جاتی ہے۔ ہمارا معاملہ اس سے قدرے مختلف ہے۔
ہمیں اپنے معاشرے میں تبدیلی لانے کے لیے تعلیم کو اہمیت دینا ہوگی۔ یہ تعلیم کیسی ہو؟ یہ سوال اہم ہے۔ میرے خیال تعلیم ایسی ہونی چاہئیے جو ہمیں با شعور بنا دے۔ ایک باشعور شخص ہی معاشرے کے لیے نفع بخش کہلائے گا۔ ایسا شخص پر امن ہوگا، معاملات احسن انداز سے دیکھے گا اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئےکار لانے میں ذیادہ متحرک ہوگا۔ میں سمجھتا ہوں بنیادی طور پر تعلیم کے دوحصے ہیں، تعلیم کا پہلا وہ حصہ ، جو ہر شہری کو ملنی چاہئیے۔ وہ زندگی میں جو بھی کردار ِ ادا کرے، اسے ان چند اقدار کا علم ہو جو سماج کی اساس ہیں۔ اسے شعور معاشرت دیا جائے۔ اسے معلوم ہو کہ ایک اچھا اور مفید شہری بننے کے لیے کن باتوں کا خیال رکھنا چاہئیے۔ اسے مزہب، اخلاقیات یا شعور شہریت کسی بھی دائرہ میں لایا جاسکتا۔ تعلیم کا دوسرا حصہ وہ ہے، جس کا تعلق ہماری ضروریات سے ہے۔ ہر مکل اور سماج کی متعین ضروریات ہوا کرتی ہیں۔ مثال کے طور ہر صحت کے شعبے میں ہمیں سالانہ کتنے ڈاکٹرز کی ضرورت ہے، یا کسی دوسرے شعبے میں کتنے انجینئیرز درکار ہیں اور تعلیم کے میدان میں کتنے ساتذہ چاہئیں؟ یہ ضروریات دراصل تعین کریں گی کہ بالترتیب ہمیں صحت، تکنیکی اور تعلیمی شعبے میں کتنی توسیع کی ضرورت ہے۔ تعلیم کے ان دونوں حصوں میں توازن قائم کر کے، ہم ایک صحت مند فلاحی معاشرے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ہمیں تعلیم کو ہنگامی بنیادوں پر اپنی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا۔ اپنے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے انہیں چھلی صفوں سے اٹھا کر اگلی صفوں میں لانا ہوگا۔ اس عمل سے ترقی کا خواب ضرور شرمندہ تعبیر ہوگا۔