Embed HTML not available.

صرف ایک سگریٹ

تمباکو نوشی آج کل کے معاشرےمیں ایک عام سی بات ہو چکی ہے۔ سگریٹ پینا ایک عادت سے بڑھ کر سماجی حیثیت کی علامت بن چکا ہے۔اکثر لوگ تو یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ میں تو سارے دن میں ایک یا دو سگریٹ ہی پیتا ہوں، میں کوئی عادی تو نہیں ہوں ۔ امریکہ میں ہونے والی تحقیق کے مطابق چاہے آپ روزانہ ایک سگریٹ یا ایک سے زیادہ سگریٹ پیئں، آپ اس کے عادی ہی ہوجاتے ہیں اور آپ کا جسم نیکوٹین کا عادی ہو جاتا ہے۔سگریٹ کی تعداد جسم پر پڑنے والے اثرات اور اس کے نقصانات میں کمی یا بیشی کا باعث ہو سکتی ہے۔

تحقیقی سروے کے سربراہ ڈاکٹر جوناتھن فولڈز کا کہنا ہےکہ اکثر روزانہ دس سگریٹ پینے والے کو ہی عادی قرار دیتے ہیں لیکن یہ درست نہیں بلکہ کبھی کبھار یا روزانہ ایک سگریٹ پینے والے بھی اس لت میں گرفتار ہوجاتے ہیں اور یوں ایک وقت ایسا آتا ہے کہ سگریٹ کی تعداد بڑھتی جاتی ہے۔
ڈیوک یونیورسٹی کے ماہروں کا خیال ہے کہ کم سگریٹ پینے والوں سے ڈاکٹر زیادہ سوال نہیں کرتے لیکن اول تو اس کے بھی خطرات موجود ہوتے ہیں اور دوم یہ کہ وہ نکوٹٰین کے عادی ہی کہلائیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ روزانہ ایک سگریٹ پینے والے بھی اس عادت سے نکلنے میں مشکل کا شکار رہتے ہیں۔
اس تحقیق کے لیے صحت کے عوامی اداروں نے 6700 افراد کا بغور مطالعہ کیا جو کسی نہ کسی طرح کی تمباکو نوشی میں مبتلا ہیں۔ جب روزانہ ایک سے چار سگریٹ پینے والوں کا جائزہ لیا گیا تو 66 فیصد افراد سگریٹ کے عادی نکلے جو تمباکو نوشی کی لت کے لیے حاصل تمام معیار پر پورا اترتے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں