پھر وقت کا ابراہا
اٹھ ہوا ہے کھڑا
کعبے کو ڈھانے
اور اس کے
حواری چھوٹے چھوٹے
لشکر لیے ہورہے ہیں جمع
اپنی اپنی راہ میں حائل
طنابیں کاٹ رہے ہیں
خیمے اکھاڑ رہے ہیں
ابھی تو ابراہا نے
ہاتھ بڑھایا ہے دوستی کا
اور کعبے کے متولی کو
نوید یہ سنا رہا ہے
ہم تمہارے دشمنوں سے
تمہیں بچا رہے ہیں
مگر کینہ پرور
دل میں یہی چاہ رہا ہے
کہ جب متولی کعبے کے
سب دوست مرجائیں
ساری ابابیلیں تھک جائیں
تو وہ اپنا لشکر لے کر
پھر سے کعبے پر چڑھائی کردے
وہ ہند کو پرامید نظروں سے
دیکھ رہا ہے
وہ فارس کو عرب سے لڑارہاہے
غزنی میں شرپھیلارہاہے
نذارت و شلم میں پنجے جمارہا ہے
اے لوگو
کچھ سمجھو
وقت یہ بتارہا ہے
بازی گر
پھر تماشہ لگا رہا ہے