79

نجات

“جج صاحب! اچانک کہاں کھو گئے۔؟” ارشد جو کہ جج صاحب کا قریبی دوست تھا ‘چائے کی چسکی لیتے ہوئےپوچھ بیٹھا۔
” کچھ نہیں دوست! سوچ رہا ہوں کہ جج کی نوکری سے استعفی دے دوں!!”
“ارے یار!! آج کل سرکاری نوکری ملتی کہاں ہے؟ارشد یہ غیرمتواقع بات سن کر بولا” اور آپ ایسی باعزت اور شان وشوکت والی نوکری کو چھوڑنے کی بات کررہے ہیں۔ آپ کے منصفانہ فیصلوں کے چرچے سارے شہر میں ہوتے رہتے ہیں۔ ”
“بس ارشد اب کوئی اور بات کریں۔ ” جج صاحب نے موضوع بدلنے کی کوشش کی۔
“نہیں ‘ایسے کیسے ہوسکتا ہے۔ ” ارشد اب سنجیدگی سے بول پڑا”آپ کی ایمانداری اور انصاف پسندی کے تو لوگ گیت گاتے ہیں۔۔۔ پھر ایسا سخت فیصلہ لینے کی کوئی خاص وجہ۔۔۔؟
“اب میں کیا بتاوں” جج صاحب مایوس لہجے میں سرد آہ بھرتے ہوئےبول پڑے”اسی ایمانداری اور انصاف کو سیاست نے اپنا غلام بنائے رکھا ہے۔ اور میں غلامی سے نجات چاہتا ہوں.۔۔۔ !!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں