nature deficit disorder 51

نیچر ڈیفسٹ ڈس آرڈر ایک سنجیدہ مسئلہ

کیا آپ نے کبھی نیچر ڈیفسٹ ڈس آرڈر کے بارے میں سنا ہے؟ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ نیچر ڈیفسٹ ڈس آرڈر کے نام سے بھی کوئی اصطلاح ہو سکتی ہے ۔ حیرت کی بات ہے کہ یہ حالت طبی طور پر موجود نہیں ہے، جبکہ ہمارے معاشرے میں یہ مسئلہ ضرور موجود ہے۔ نیچر ڈیفسٹ ڈس آرڈر ایک حقیقت ہے جو بدقسمتی سے مدافعتی نظام کو متاثر کرتی ہے اور یہ ایک بے حد سنجیدہ مسئلہ ہے۔
دورجدید میں ہم اپنی زندگی کا بیشر حصہ فطرت اور قدرتی ماحول سے دور مصنوعی ماحول میں گزارتے ہیں۔جس کی وجہ سے بچوں سمیت ہر عمر کے افراد کو نیچر ڈیفسٹ ڈس آرڈر کا سامنا ہے۔ موجودہ طرز زندگی ایک سماجی مسئلہ ہے جس پر ہمیں غور کرنے کے ساتھ ساتھ اس سے بچنے کی ضرورت بھی ہے۔تاکہ ہم ایک بھرپور زندگی سے لطف اندوز ہو سکیں۔
کیوں ہم شہر کے بچوں میں اے ڈی ایچ ڈی کے زیادہ کیسز دیکھتے ہیں؟ دراصل انہیں قدرتی ماحول میں وقت گزارنے کی ضروت ہوتی ہے نہ کہ ماہر نفسیات یا ادویات کی۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے فطرت سے لطف اندوز ہوں تو آپ کو انہیں اپنی زندگی میں فطرت کی اہمیت سمجھانے کی ضرورت ہے۔ اپنا موبائل اور نئی ٹیکنالوجی منقطع کریں اور باہر جائیں اور اپنے اردگرد کے قدرتی ماحول سے لطف اٹھائیں۔ بچے جب آپ کو کسی چیز کے لیے پرجوش دیکھیں گے تو وہ بھی پرجوش ہوں گے۔ لہذا ، اس طرز عمل کو زندگی کا حصہ بنائیں جو آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے تقلید کریں ، اور وہ کریں گے۔

فطرت سے محبت اور اس کا احترام کرنے پر حوصلہ افزائی آپ کے بچوں کے لیے بہترین تعلیم ہے۔ اس قدرتی ماحول اور فطرت میں بچوں کے لیے زندگی کے سبق موجود ہیں جو کہ ان کے لیے ایک بہترین درس گاہ بھی ہے۔ چاہے وہ گھانس پر لیٹے ہوئے بادلوں کی طرف دیکھ رہے ہوں، چرند، پرند اور کیڑے مکوڑوں اور دیگر مخلوقات کو دیکھ کر حیران ہو رہے ہوں یا میٹھی آواز میں چہچہاتے پرندوں کا گانا سن رہے ہوں۔قدرت ،خوشبو، آوازیں اور رنگوں کو دریافت کرنے کے بہت سارے مواقع فراہم کرتی ہے۔ کیسے ایک چھوٹا سا بیج ایک پودا اگا سکتا ہے ، جو اسے کھلاتا ہے۔ اس طرح وہ غذایت کے بارے میں سیکھیں گے اور مستقبل میں اپنی غذاء کے بارے میں بہتر انتخاب کریں گے۔
فطرت کے قریب ہونا ، غصہ ، خوف اور تناؤ کو کم کرتا ہے اور خوشگوار جذبات کو بڑھاتا ہے۔ فطرت کے قریب رہنے سے نہ صرف آپ جذباتی طور پر بہتر محسوس کرتے ہیں ، بلکہ یہ آپ کی جسمانی تندرستی ، بلڈ پریشر ، دل کی دھڑکن ، پٹھوں میں تناؤ ، اور تناؤ کے ہارمونز کی پیداوار میں بھی معاون ہے۔
بچے ، فطرت کی اہمیت کو سمجھنے کے بعد خدا کی تعمتوں کا شکر ادا کرنا سیکھتے ہیں۔ فطرت ہمارے بچوں کو مادہ پرستی سے دور کر سکتی ہے اور انہیں یہ احساس دلا سکتی ہے کہ خوشی حاصل کرنے کے لیے پیسے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ انسان فطرت کا ایک حصہ ہیں اور اس کا احترام ہم پر لازم ہے نہ کہ غلط مقاصد اور لالچ کی بنا پر تباہ کرنا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں