91

مائی برادر بائے فاطمہ جناح

مائی برادر کتاب فاطمہ جناح نے قائد اعظم کے متعلق لکھی ہے اور جو قائداعظم کی سوانح حیات ہے۔ جس کی اصل کاپی تو انگریزی میں ہے جو آپ نے ایک انگریز پپلیشر کے کہنے پر لکھی مگر وہ اسے اس قدر مقبولیت نا دلا سکا بعد ازاں قائداعظم لائبریری نے 1987 میں یہ کتاب دوبارہ شائع کی جس نے بہت مقبولیت حاصل کی ، میرے بھائی کے نام سے اس کا اردو ترجمہ بھی موجود ہے اور انٹرنیٹ پر دونوں زبانوں میں کتاب موجود ہیں یہ کتاب آپ کے محسن کی پوری زندگی کو کھول کر بیان کرتی ہے، ان کے پچپن سے لے کر انکی رحلت تک کہ تمام واقعات کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے جو جگہ جگہ ہمیں سبق دیتی ہے اور کئی حد تک ہماری کوتاہیوں کےلیے شرم سار بھی کرتی ہے ان کے پچپن کے ایک واقعہ سے ہمیں سیکھنے کو ملتا ہے کہ کسی کا یقین آپ کی زندگی میں بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے، خاص کر آپ کے والدین کا اور یہ یقین آپ کو کچھ بھی بنا سکتا ہے، کامیاب لوگوں کے پیچھے کسی نا کسی کا یقین ضرور ہوتا ہے ۔وہ اکثر اپنی والدہ کی اس پیش گوئی کا ذکر کرتے تھے کہ وہ ایک دن بڑے آدمی بن کر رہیں گے مگر ایک گمنام نوجوان ہونے کے ناتے انھیں اکثر حیرت ہوتی کہ کیا یہ پیش گوئی کبھی پوری ہو پائے گی ۔قائد جب تعلیم مکمل کر کے گھریلو پریشانیوں کو کم کرنے کی خاطر وطن واپس تشریف لائے تو اس وقت ان کا مستقبل ایسے تاریک تھا جیسے گہرا سمندر مگر انہوں نے ہار نہیں مانی، حتی کہ ہندوستان کا یہ بیسٹ بیرسٹر مہینوں ایک روپیہ کمائے بغیر گھر لوٹ آتا ہے مگر انہوں نے مہینوں کیا ، سالوں سخت محنت جاری رکھی اور آخر ان کی کوشش رنگ لے آئی۔ سب سے پہلے انہوں نے ایک انگریز بیرسٹر کے ساتھ کام کیا اور پھر خود مقدمات لڑنے لگے اور چھا گئے مگر یہ سب قطعا آسان نہیں تھا بلکے مشکل سے بھرپور تھا مگر قائد نے ہمت نہیں ہاری، قائد کی شخصیت میں کچھ چیزیں نمایاں تھیں ۔ وہ بہت نفیس انسان تھے، صاف ستھرا رہتے، اچھا بولتے ،اچھے لوگوں میں اٹھتے بیٹھتے اور وہ بہت ملنسار تھے، نئے نئے لوگوں سے ملنا انہیں پسند تھا، سماجی سرگرمیوں میں شریک رہتے ۔ آج کا نوجوان قائد سے اس تناظر بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ چالیس سال تک وہ گمنام تھے مگر وہ اپنی ذات کو اس قابل بنا رہے تھے کہ عنقریب انکا بہت نام ہوگا۔ اسی طرح آپ اچانک ایک دن اٹھ کر کچھ نہیں بن جاتے بلکے پس پردہ انتھک محنت ہوتی ہے جو آنے والے دنوں میں آپ کی منزل کا تعین کرتی ہے ۔ آخری ایام کئی بار وہ بستر سے سیدھا اٹھ کر جلسوں میں شرکت کرنے چلے جاتے تھے اگرچے کتنی ہی تکلیف ہ کیوں نہ ہوتی اور یہ بات فاطمہ جناح کے سوا کسی کو معلوم نہ ہوتی تھی۔ وہ اپنے چہرے سے کبھی یہ ظاہر ہی نہیں ہونے دیتے تھے کہ وہ کتنی تکلیف میں ہیں۔جب بھی فاطمہ انہیں کچھ کہتیں وہ کہتے فاطمہ میری قوم کو میری ضرورت ہے۔ وہ اصولوں کے پکے آدمی تھے جو کمٹمنٹ کی ہوتی اسے پھر ہر صورت پورا کرتے، کھانا، پینا، آرام کرنا بھول جاتے مگر وعدہ پورا کرتے اور آخر ان کی اور مسلمانوں کی انتھک کوششوں سے پاکستان بن جاتا ہے ۔قائد نے یقین ، کوشش اور مسلسل کوشش کا دامن کبھی نہیں چھوڑا اور یہ یقین اور کوشش ہماری زندگی میں بھی انقلاب لا سکتی ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں