Notice: Undefined index: geoplugin_countryName in /customers/5/8/f/urduqasid.se/httpd.www/wp-content/plugins/stylo-core/stylo-core.php on line 96
89

مُلکی سیاسی بَساط کے دو پیادے

مُلکی صورت حال پر تبصرہ ،تجزیہ اور پھر نقطہ نظر کی وضاحت ایک ایسی گھتی ہے کہ جس پر سیرِ بحث تفصیل و توضیح اور اُس کی تشریح بڑے بڑے طویل اقتباسات میں ہوسکتی ہے۔ سرِ دست جس موضوع کو زینتِ قلم بخشنے کا ارادہ ہے وہ کوئی ڈھکا چھپا یا غیر مانوس عنوان نہیں، سدا بہار اور حالاتِ حاضرہ کا سرخیل ہے، یعنی مُلکی سیاست کہ جس پر جب جب قلم اُٹھائیں کوئی نہ کوئی پہلو آشکار ہو ہی جاتا ہے۔ اب یہی دیکھیں کہ موجودہ حکومت کے قیام کو بمشکل چار مہینے ہی ہوں گے،لیکن اُمیدیں ایسی باندھی جارہی ہیں کہ ملک کے طول و عرض میں دودھ کی نہریں بہنے لگیں(یہ جملہ بطور استعارہ استعمال کیا گیا ہے وگرنہ کس کی مجال کہ عملاً ایسا کوئی معجزہ کرکے دکھائے) ، ہر کوئی خواہشمند ہے کہ عمران خان ایسا کچھ کر دکھائے کہ مُلکی تاریخ کے پچھلے گناہان دُھل جائیں، بدعنوانی ختم ہو، باصلاحیت اور تیز دماغ افراد کو پذیرائی ملے۔ایک طرح سے یہ اُمیدیں عقل و منطق کے مطابق ہیں ، عوام کو توقع تھی اور اب بھی ہے کہ انہوں نے جس مقصد کے تحت عمران خان اور اُس کی جماعت کا اِنتخاب کیا ہے اُس کا تقاضا ہے کہ فی الواقع ایسا ہو۔ایسی صورت حال میں لوگوں کی اُمیدوں اور خواہشوں پر قدغن لگانے والا کوئی بھی عمل ناقابلِ قبول ہے۔ چہ جائیکہ عوام سے کئے گئے وعدوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہو۔بنظرِ غائر دیکھا جائے تو پاکستانی سیاسی منظر نامے میں اِس وقت دو نظرئیے معروف ہیں:
(1) ووٹ کو عزت دو ۔
(2) عمران خان کوکچھ کرگزرنے کا موقع دو۔
اوّل الذکرنظرئیے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ووٹ کی عزت و حُرمت دراصل عوام کی عزت ہے،منتخب وزیرِاعظم (نواز شریف)کی برطرفی عوامی احساسات و جذباتی کی توہین تھی۔ مسلم لیگ(ن) نے اس مُدعا کو لے کر عوامی اجتماعات کا رُخ کیا اور اس دوران عوامی طاقت کا مظاہرہ تو ہوا لیکن نواز لیگ کی منشاء کے مطابق پذیرائی نہیں ملی۔ بالآخر نواز شریف پانامہ لیکس کا شکار ہوئے اوروہ وزارتِ عُظمیٰ کی نشست سے محرومی سے لے کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے تک کا سفر طے کرچکے ہیں اور اس وقت ضمانت پر رہائی کے دو پل گزاررہے ہیں۔ میاں نوازشریف نے خیال ظاہر کیا کہ انہیں جان بوجھ کر پھنسا یا جارہا ہے اور بطور وزیرِاعظم جس حکومتی ذمہ داریوں کو وہ بخوبی نبھا رہے تھے وہ ایک مُقتدر حلقے کی نظر میں پسندیدہ نہیں تھیں، متعلقہ حلقے کےلئے نواز شریف نے ”خلائی مخلوق“ کی اِصطلاح بھی استعمال کی۔ ”ووٹ کو عزت دو“ جس کا دورانیہ ”پانامہ لیکس“ سے لے کر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے قیام تک ہے اور اب بھی گاہے بگاہے دبی دبی سے آواز میں یہ نعرہ زندہ ہے، جبکہ دوسرے نظرئیے کے حامی موقع کے طلب گار ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ عمران خان کو موقع دیا جائے تاکہ پاکستان اور عوام کےلئے کچھ کرسکیں اور ملکی بگڑی ہوئی تقدیر سنوار سکیں۔ دو پیادوں کےبیچ عوامی فکر و فہم ڈانو ڈول ہے ۔ایک حلقہ اِنتہائی حد تک نواز شریف کا وفادار ہے۔اُن کی نظر میں نواز شریف کا کوئی قصور نہیں تھا۔ بلا وجہ جیل کی سزا دی گئی اور اب جبکہ اُن کو رہائی ملی ہے تو یہ حلقہ فخر سے کہتا ہے کہ نواز شریف سازش کی بھینٹ چڑھ گئے۔ جبکہ دوسرا حلقہ عمران کے گن گائے نہیں تھکتا۔ ابھی اُن کی حکومت قائم ہوئے کچھ ہی عرصہ ہوا ہے، تحریک انصاف والے حد سے زیادہ اور غیر معقول توقع لئے بیٹھے ہیں۔ جبکہ عمران خان کے مخالفین بھی اُن مسائل کے حل کے متمنی ہیں جن کی طرف وہ اپنے دورِ حکومت میں کبھی متوجہ بھی نہیں ہوئے۔ صبر دونوں کی طرف نہیں ہے۔ عمران خان کے حمایتیوں کو اس بات کی توقع ہے کہ پاکستان بدلا ہے تو مسائل کے بدلاؤ میں بھی وقت لگے گا۔ جبکہ اُن کے مخالفین فی الفور ”تبدیلی“ کا مطالبہ کررہے ہیں اور للکار رہے ہیں کہ اگر دَم ہے تو عمران خان پاکستان کو ریاستِ مدینہ کی شکل میں لے آئیں۔ انصافیوں کو زعم ہے کہ خان صاحب پاکستان میں تبدیلی کے سب بڑے اور اوّل مُحرک ثابت ہوں گے۔ میرا خیال ہے کہ اگر سیاسی ”دُم چھلاؤں“ کو گود لینے کی رسم برقرار رہی تو پاکستان وہی کا وہی رہے گا لیکن عمران خان اور ان کی جماعت چلتا بنے گی اور یہ رسمِ حکومت کسی اور کے حقِ زحمت میں چلی جائے گی۔ سراج الحق کا فرمانِ شاہی بروزنِ مذہبی ہے کہ عمران پاکستان کو ریاستِ مدینہ جیسی بنائیں۔ کمال ہے کہ ستّر(۷۰)سال سے آپ سیاسی میدان کے کھلاڑی رہے،اسمبلیوں کے ہم رقاب بھی رہے لیکن مجال ہے کہ آپ کبھی پاکستان میں تبدیلی کا عملی نمونہ بنے ہوں۔ عوام نے آپ سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں کو بار بار موقع دیا لیکن ہر دفعہ وہی پُرانا پاکستان اگلے حکمرانوں کو تھمادیا۔ اب جبکہ عمران خان نئے نعرہ، نئے عزم اور نئی سوچ کے ساتھ حکومت کرنے چلیں ہیں تو یہ طنز و نشتر کی تُک بندی سمجھ میں نہیں آئی۔ ہم آپ کے ساتھ دلی ہمدردی ہی کرسکتے ہیں کہ آپ اس دفعہ اسمبلی کا حصہ نہیں ہیں۔ لیکن طنزیہ گفتگو کی ہم بالکل بھی حمایت نہیں کرسکتے کیونکہ آپ کو اپنے ہارنے سے زیادہ عمران خان کی کامیابی کا دُکھ ہے۔ اور ”یا“ مولانا فضل الرحمن کی گفتگو تو کمال کی ہے۔ وہ صاحب جب بھی جیتے صرف اور صرف حکومتی بینچوں کےلئے ہی جیتے اور پارلیمنٹ کے پُرتعیش فلیٹ میں رہائش اختیار کرنے کی وہ شدید خواہش تھی کہ الحفیظ الآمان۔وہ وقت کتنا دردناک اور اذیت ناک ہوگا جب مولانا کو بوریا بستر گول کرکے فلیٹ سے چلے جانے کا نوٹس ملا ہوگا۔ مولانا خاطر خواہ جمع رکھیں، اس دفعہ کشمیر کمیٹی کی سربراہی بھی ہاتھ سے گئی۔ دوبارہ جب جیتنے کی توفیق نصیب ہو تو اس بات کا وعدہ اور نیت ضرور کیجئے گا کہ آپ حکومتی بینچوں کےلئے نہیں بنے ہیں۔ کبھی کبھی اپوزیشن بھی کیا کریں۔ آپ جیسے بھاری بھر کم افراد ہی مخالفین کو چیت کرسکتے ہیں۔ اور ہاں وہ منظر کتنا خطرناک ہوگا جب آپ میدانِ پارلیمنٹ میں کسی سے دو بدو ہاتھا پائی کریں۔ اُف خدایا میں یہ سوچ کر وحشت زدہ ہورہا ہوں کہ اُس شخص کا کچومر ہی نکل جائے گا جس پر آپ کا ”ڈھائی کلو “ ہاتھ یکمُشت پڑ جائے گا۔ میرے ہم سیاسی نوابو، مولانو، امیرو، چھلاؤ (اور ایک گستاخی کے ساتھ) لوٹاؤ! صبر کیجئے اور انتظار کیجئے، عمران خان کو موقع ملا ہے پہلی بار۔اگر تبدیلی کو واقعی اپنے حق میں نہ کرسکے تو پھر اگلی باری آپ کی ہی ہے۔ پھر سے سیاسی بونیں بنیئے گا۔ چیخنے چلانے اور قبل از وقت گریہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں