Embed HTML not available.

سرسراہٹ، مینا جی

آج دل ٹوٹا ٹوٹا
آج دل پریشاں پریشاں
قسمت خفا خفا
ہمدم جدا جدا
ہے کوئی الجھن الجھن
لگے کوئی اوجھل اوجھل
سانس بھی ہلکی ہلکی
رات بھی ڈھلکی ڈھلکی
قیامت کا سماں سماں
جذبات بہکے بہکے
بات بھی چلتی چلتی
نظریں جھکی جھکیں
اظہار دبا دبا
اقرار کھلا کھلا
آنکھیں بھیکی بھیکی
چال بھی ڈھیلی ڈھیلی
زندگی سوئی سوئی
محبت روئی روئی
رنگ نشیلہ نشیلہ
ساز سریلا سریلا
آنچل ڈھلتا ڈھلتا
آنکھ میں شرم شرم
ماحول نرم نرم
مگر……
پردے میں سرسراہٹ تو ہوا سے تھی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں