236

میری حقیقت بہت خوبصورت ہے

خیالوں کے اس شہر میں
دل کی اس پکڈنڈی پر
تیرا ننگے پاؤں یوں ٹہلنا
تیرے سفید دوپٹے کا کچھ یوں
کندھے سے لہراتے ہوئے
میرے احساسوں کو یوں چھو جانا
میرے بے جان جسم میں جان آگئی
نا امید آنکھوں میں چمک آگئی
تو آگے آگے چلتا رہا
تم کو پانے کی خاطر
میں پیچھے پیچھے لپکتا رہا
تو تیز ہوا کا چھونکا تھا
تو آنکھوں سے اوچھل ہوتا گیا
میں چلتے چلتے روتا گیا
آنکھ کھلی تو خواب نکلا
مڑ کر دیکھاپہلو میں
وہ محو تھا سہانے سپنوں میں
تبسم تھا اس کے ہونٹوں‌پر
جوانی پر عروج تھا خوب
خوشبو تھی جیسے پھول ہو وہ
یہ دیکھ کر مجھ سے رہا نہ گیا
خوشی سے اک آنسو ٹپکا
میرا خواب تو بس اک خواب نکلا
میری حقیقت بہت خوبصورت ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں