63

ماریشس میں اردو کے فروغ کے لئے ایک نیا پلیٹ فارم

افریقی ملک ماریشس میں اردو کے فروغ کے لئے ایک نیا پلیٹ فارم بنایا گیا ہے اور اس سلسلے میں ایک تقریب بروز ہفتہ 25 ستمبر واکوا فینکس کے میونسپل قونصل میں منعقد کی گئی جس میں اس پلیٹ فارم “نئی امید” کے لوگو کا اجراء ہوا۔ اس تقریب میں سابق وزیراعظم و صدر جمہوریہ ماریشس عالی جناب انیرود جگناتھ (مرحوم) کی اہلیہ لیڈی سروجنی جگناتھ بطور مہمان خصوصی تشریف فرما تھیں۔دیگر مہمانوں میں ماریشس کے نیشنل اسمبلی کے نائب اسپیکر عالی جناب محمد زاہد نظر علی ، فیصل ادریس، محمد سلیم عباس محمد (نیشنل اسمبلی ممبر) ، جناب توفیق دمڑی (ٹیم لیڈر)، ڈاکٹر آصف علی محمد (مہاتما گاندھی انسٹیٹیوٹ کے سابق صدر شعبہ اردو), ڈاکٹر تاشیانہ شمالی(اردو ایڈوکیٹر)، ڈاکٹر نازیہ بیگم جافو خان(لیکچر شعبہ اردو ایم جی آئی)، جناب یوسف سبراتی (اردو ایڈوکیٹر)، محترمہ مبشرہ جومن (اردو ایڈوکیٹر) شامل تھے۔ انجمن فروغ اردو ماریشس کے اراکین جناب فاروق رجل اور جناب رشید نروان نے بھی اپنی حاضری سے اس پروگرام کی رونق میں اضافہ کیا۔ پروگرام کا آغاز نعت خوانی سے ہوا .
نئی امید کے ٹیم لیڈر توفیق دمڑی نے اس پلیٹ فارم کے اغراض و مقاصد پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئی ٹیم اردو کے فروغ اور ترقی کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑے گی اور امید ہے کہ ہمیں حکومت کی جانب سے پوری طرح تعاون حاصل ہوگا ۔پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے مختلف قسم کی سرگرمیاں بھی پیش کی گئی جن میں مہاتما گاندھی انسٹیٹیوٹ کے سابق طلباء نے نظم “اردو ہے میرا نام میں خسرو کی پہیلی”خوبصورت انداز میں پڑھ کر حاضرین سے داد وصول کی۔ بعد ازاں طالبات نے ڈرامائی اور مکالماتی انداز میں “اردو کے فروغ” کے موضوع پر ایک اسکیچ پیش کیا۔ اس کے بعد جناب قاسم علی محمد کی دو کتابوں شگوفے(ڈراموں کا مجموعہ) اور حسینہ (غزلوں کا مجموعہ) کی تقریب رونمائی ہوئی۔ ڈاکٹر آصف علی محمد نے اپنے والد صاحب کی دونوں کتابوں کی پذیرائی کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد کی رگوں میں اردو لہو بن کر دوڑتی ہے اور قابل ستائش بات ہے کہ 75 سال کی عمر میں بھی وہ اردو کی خدمت کے لئے سرگرم عمل ہیں اور اردو کے یہی DNA ان میں بھی موجزن ہے۔ آخر میں محترمہ شیرین موتالہ نے مہمانوں کی آمد کا شکریہ ادا کیا اور اس طرح یہ تقریب اختتام پذیر ہوئی۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں