گاڑی رکی اور میں بچوں اور سامان کے ساتھ اتر نے لگی، بچوں کا ساتھ اوراو پر سے سامان۔۔ میری مشکل کو دیکھ کر ایک نو جوان نے مجھے آفر کی اور سامان اتار کر پلیٹ فارم پر رکھ دیا اور چلتا بنا ۔
پلیٹ فارم پر مارٹن کے پاپا اور ممی ہمیں جلد ہی نظر آگئے اور دونوں بچے، ڈینس اور ٹوم اپنے دادا اور دادی کو دیکھ کر بھاگتے ان کے پاس پہنچے گئے۔ ہم سب گلے ملے۔ ابھی میں سوچ ہی رہی تھی کہ مارٹن کو آج بھی ہمیں لینے آنے کی فرصت نہ ہوئی۔۔ ممی پا پا کی بڑی مہر بانی کہ وہ ہمیں لینے آگئے۔ ویسے تو میں خود بھی ٹیکسی پکڑ کر گھر آجاتی۔ ممی پاپا بڑے جوش و خروش سے مل رہے تھے اور مجھے حیرانی ہو رہی تھی۔ ان کے رویے پر۔۔۔ ورنہ تو۔۔ اچانک سیڑھیوں کے پیچھے سے مارٹن نمودار ہوا۔۔ "ارے۔۔ ہیلو۔۔” میں نے کہا اور ہم دونوں نے رسمی بوسے لیے۔ دونوں بچے مارٹن کے پاؤں سے جالپٹے۔ مارٹن نے ڈینس کو گود میں اٹھا لیا۔ ٹوم بھی کسی نہ کسی طرح مارٹن کی گود تک پہنچ ہی گیا کچھ دادی نے اس کی مدد کی۔
بچوں کی مارٹن سے محبت واقعی بہت زیادہ تھی۔ وہ بھی بچوں پر جان چھڑکتا تھا، بھینچ بھینچ کر بچوں کو پیار کر رہا تھا اور بچے بے تکان کچھ کی کچھ اسے بتا تے جا رہے تھے۔ پاپا تم بہت یاد آئے، تم نے ہمیں کیوں اکیلے بھیجا وغیرہ وغیرہ۔۔۔ ان تینوں کو ایک ساتھ مد غم، پیار میں الجھے ہوئے دیکھ کر میں مسکرا رہی تھی۔ اور مارٹن سے قریب لگی کھڑی تھی۔ پھر سامان وغیرہ اٹھا کر ہم گا ڑی تک آئے اور ہم سب سوار ہو گئے۔ کار چل پڑی۔ اسٹیشن سے ہمیں قریب گھنٹے بھرمزید سفر کر نا تھا۔ میں ایک بار پھر سوچ میں ڈوب گئی۔ بچے واقعی مارٹن کو بہت چاہتے تھے۔ حالانکہ ان کی محبت کسی نہ کسی حد تک خود غرضانہ ہی تو تھی۔ ماں یا باپ یا دونوں ہی بچوں کی ضرورت ہوتے ہیں۔ جب تک یہ چھوٹے ہو تے ہیں انہیں سب کچھ حتیٰ کہ تحفظ بھی ماں باپ سے ہی ملتا ہے اور وہ اسی لیے اپنی بے تحا شہ محبت کا اظہار بھی کھل کر تے ہیں۔ لیکن یہی بچے جب بڑے ہو جا تے ہیں تو ان کی اسی محبت کے طوفان کا رخ کسی اور طرف ہو جا تا ہے۔ جذبات کی برکھا رت ان کی کسی دوست پر برس رہی ہوتی ہے۔ لیکن یہ بچے پھر بھی اپنی محبت میں سچے ہو تے ہیں۔ ہاں شاید ہم سب ہی جب تک ہم ایک خاص عمر تک نہ پہنچ جائیں۔
مارٹن اور میری شادی کو تقریباٌ آٹھ سال ہوگئے تھے۔ آٹھ سال پہلے ہم بھی بہت گرمجوشی سے ایک دوسرے ملتے تھے۔ اور سچی محبت کر تے تھے۔ رفتہ رفتہ مارٹن کے رویے میں دھیما پن آگیا۔ اس کی پیشہ وارانہ زندگی میں بہت زیادہ تلا طم آگیا تھا۔ وہ ہر وقت آگے بڑھنے اور ترقی کر نے کی سوچتا تھا۔ اور یوں اس کاکام دن بدن بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ جتنا وقت وہ پہلے میرے ساتھ اور بچوں کے ساتھ گذارتا تھا۔ اب وہ سارے اوقات دفتر میں گذارتا تھا۔ ٹوم جب تک اکیلا تھا مارٹن پھر بھی کافی وقت گھر پر گذارتا تھا۔ ڈینس کے پیدا ہونے کے بعد اس کا کام یکدم اور بڑھ گیا میں سمجھی اب اسکا دل مجھ سے بھر گیا ہے۔ یا کوئی لڑکی دفتر میں اُس کے رکنے کا باعث بن گئی ہے۔ وہ کام سے آتا تو تھکا ہارا ہوتا۔ کھانا کھاتا کبھی کھا کر ہی آتا،ٹی وی دیکھتا اور سوجاتا رفتہ رفتہ یہ سرد مہری ہماری عادت بن گئی۔ اور زندگی اپنے ڈھنگ پر چلنے لگی۔
جب بہت بوریت ہونے لگی تو میں نے بھی دوسرا راستہ ڈھونڈلیا۔ میں اپنی دوستوں کے ساتھ گھومتی پھرتی رہتی۔ ساری تفریحات کا محور میری دوست تھیں۔ جس پر مارٹن کے والدین بھی خوش نہ تھے۔ پھر میں نے گر می کی چھٹیوں میں ایک ماہ کے لیے بچوں کے ساتھ۔۔ مارٹن کے بغیر ہی مشرقی ساحل پر چھٹیاں گذارنے کا پروگرام بناڈالا۔
” مارٹن تمہارے پاس تو وقت نہ ہو گا۔ میں بچوں کو لیکر اکیلے ہی چلی جا تی ہوں۔ ہم سب بہت بور ہوگئے ہیں۔’ ”
"ہاں ٹھیک ہے۔ میں تو چھٹی نہیں کر سکتا۔ بہت سارے کنٹریکٹ مکمل کر نے ہیں۔ ویسے تم لوگ مجھے مس تو بہت کروگے نا۔ ہم اگلے سال ضرور اکھٹے ہندوستان کی سیر کا پروگرام بنائیں گے۔”
”ہاں ضرور۔“میں نے خوش ہو کر کہا تمہیں ہم ہر لمحے یاد کریں گے۔“میں نے ایک بوسہ مارٹن کو جڑ دیا۔ اگلے ہی لمحے مجھ پر یاسیت طاری ہوگئی۔ مارٹن ایسے وعدے کئی سالوں سے کر رہا تھا۔
اور پھر میں مشرقی ساحل پر آ گیء۔ ایک مہینہ خاصا طویل عرصہ ہوتا ہے۔ خاص کر جب دن بھر صرف ساحل سمندر پر دھوپ تاپنا ہو۔
چار پانچ دن لگا تار ساحل پر گذارنے کے بعد وہ میری نظروں میں آگیا اور وہ شاید مجھے پہلے ہی دن سے تاڑ رہا تھا۔
شام کو وہ کھانے پر ہماری میز پر آبیٹھا۔ رسمی سا تعارف ہوا۔ وہ بے تکلفی سے اپنا تعارف کرارہا تھا۔”مجھے مارٹن کہتے ہیں۔“ وہ بولا۔ ۔۔”ہائیں۔“ میں نے چونک کر کہا۔ بچے یکدم شور مچانے لگے۔ ”مارٹن تو ہمارے پاپا کا نام ہے۔۔تم مارٹن کیسے ہو سکتے ہو؟۔“
”خاموش۔“ میں نے بچوں کو ڈانٹا۔”کوئی اور بھی تو مارٹن کہلا سکتا ہے، اگر یہ تمہارے پاپا کا نام ہے تو اس سے کیا ہوا۔ ان کا دوسرا نام یقیناکچھ اور ہوگا۔“ اور اس نے مارٹن زے ہوف کہتے ہوئے اپنا ہاتھ بڑھا دیا۔ میں نے آدھے ہاتھ سے۔۔۔صرف انگلیوں ہی سے مصافحہ کر نے پر اکتفا کیا۔۔۔۔ اچھا خیر میں پھر بچوں سے مخاظب ہوئی۔
”چلو اب تم دونوں چل کر سوجاؤ۔“میں اٹھ کھڑی ہوئی۔بچے ساتھ ہو لیے۔
”میں یہاں ا نتظار کرونگا آپ بچوں کو سلا کر آجائیں۔” میں چلنے لگی تو وہ سر اٹھا کر ایسے بولا جیسے کوئی اجنبی نہ ہو بلکہ ہماری برسوں کی جان پہچان ہو۔ اور وہ بدستور بیٹھا کھا تا رہا۔
اس کے بعد ہر شام یہی ہوتا۔ وہ ہمارے ساتھ کھا نا کھا تا۔ میں بچوں کو سلا کر نیچے آ جاتی۔ بال روم میں ہم لوگ دیر تک گپ کر تے کبھی ڈانس کر تے اور پھر تھک تھکا کر اپنے کمرے کو ہولیتے۔ دن میں بھی وہ کبھی کبھار سمندر پر آجا تا۔ اور بچوں کے ساتھ کھیلتا رہتا۔ ایک دن وہ زیادہ ہی فری ہونے لگا تو میں نے سر زنش کی۔
””دیکھوابھی میں نے اپنے شوہر سے علیحدگی نہیں اختیار کی ہے اور نہ ہی اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ کیا ہے۔ تم بچوں کے سامنے ایسی ویسی حرکت نہ کر نا کہ مجھے اپنے شوہر کے سامنے شرمندگی ہو۔“ میں بولتی رہی۔”اچھا جب بچے نہ ہوں تب۔۔“ وہ سر گو شی سے بو لا اور میں اسے گھور کر دیکھتی ہی رہ گئی۔
یہاں آئے ہمیں دس دن ہو گئے تھے۔ بچے بہت خوش تھے۔ سارا سار دن سمندر کے کنارے چمکیلی دھوپ میں ریت کے گھروندے بناتے۔۔نہاتے اور شام کا کھا نا کھا کر ایسے مدہوش سوتے کہ ان کو صبح تک کسی کا ہوش نہ ہو تا۔ مارٹن کا فی قریب آ چکا تھا۔ بچوں کے اور میرے بھی۔
ایک دن اسکا چ کی چسکی لگا لیتے ہو ئے بو لا۔”آؤ آج تمہیں اپنا کمرہ دکھاؤں۔“
”صرف کمرہ دکھاؤ گے۔۔؟“ میری آواز میں شوخی تھی۔
”میں تمہارے بارے میں سنجیدہ ہوں۔“وہ گھمبیر آواز میں بو لا۔
”تمہارے بچے بھی مجھے منظور ہیں۔“
”اچھا۔۔!“ میں نے اسے ڈانٹتے ہو ئے کہا۔ ان بچوں کا باپ انہیں بہت چاہتا ہے۔ اسے تمہا رے ارادے کا پتہ چل گیا تو تمہا رے اوپر بچوں کے اغوا کا کیس بنا کر تمہیں عدالت سے پابند کروا د ے گااور تم ان بچوں کے قریب بھی نہ آسکو گے۔“
”اچھا اچھا۔۔ یہ تم ہر وقت ایسی سنجیدہ باتیں کیوں کر تی ہو۔ میرا مطلب ہے کہ اگر تم اپنے شوہر سے علیحدگی چاہو تو تم مجھے اپنا منتظر پاؤ گی۔“
”لیکن۔۔۔“ میں نے اس کی بات کا ٹی
”میں تو تم کو جا نتی تک نہیں ہوں۔ ذرا جا ن پہچان تو ہوجائے۔۔“میرا جملہ نہایت ذو معنی اور شوخ تھا۔ اس نے مجھے کمر سے پکڑ تے ہو ئے کہا ۔
”چلو تمہیں اپنا کمرہ دیکھا دوں۔۔۔“
”ارے بھئی اب اترو بھی۔۔“ مارٹن نے مجھے ٹہوکا دیا۔” گھر آگیا ہے۔ کیا سوچ رہی ہو؟ کیا اپنا فلرٹ یاد آرہا ہے مشرقی ساحل کا۔۔؟“ اس کا آخری جملہ خاصہ چبھتا ہوا تھا۔ میں خاموشی سے بچوں کو اتار نے لگی۔
دن یونہی گذر گیا۔ رات کو جب مارٹن خوابگاہ آیا تو میں لیٹ چکی تھی۔ اس کی آہٹ سنکر میں سوتی بن گئی۔ دراصل میں نہ صرف سفر کی تھکان اتارنا چاہتی تھی، بلکہ چھٹیوں میں بیتے ہر لمحے کو یاد کر کے اس سے مزید لطف اندوز ہو نا چاہتی تھی۔ ایک ایک بیتے لمحے کو پکڑ کر رکھنا چاہتی تھی۔ ایسے میں مارٹن کی قربت مجھے ذرا بھی نہ بھا رہی تھی اور وہ تھا کہ مجھ میں گھسا جا رہا تھا۔ ایک ماہ کی جدائی میں اس کی محبت مجھ پربرس پڑنے کے لئے تڑپ رہی تھی۔ عموماً وہ مجھے سوتے میں زیادہ تنگ نہیں کر تا تھا مگر آج تو وہ ساری احتیاط بالائے طاق رکھ کر۔۔ میری ناراضگی کی پرواہ کیے بغیر مجھ پر زبر دستی پر اتر آیا تھا۔ ایک طرف تو میرا دل بالکل نہیں چاہ رہا تھا۔
مارٹن کے ساتھ سونے کااور دوسری جانب مجھے اس کی بے تابی پر مزہ بھی آرہا تھا۔ اور خوشی بھی ہو رہی تھی۔ یقیناوہ اب بھی صرف اور صرف میرا ہے۔ اور میری غیر حاضری میں اس نے اپنی کسی پرانی دوست سے پینگیں نہ بڑھا ئیں تھیں۔
کا فی دیر تک جب وہ مجھے گد گداتا رہا اور مجھ سے کھیلتا رہا تو میں نے بھی ہار مان لی۔ لیکن یہ کیسی لطا فت تھی مجھے مارٹن کے ہاتھوں کا لمس ایک بار پھر سے مشرقی ساحل پر لے جا رہی تھی۔ بال ڈانس کر تے ہوئے میں مارٹن کے کندھوں سے لگی تھی۔ میرا سینہ دھونکی کی طرح چل رہا تھا اور اس کے زیر و بم مارٹن کو صاف صاف پتہ دے رہے تھے۔ میرے دل کے بے قابو ہونے کا۔۔
مارٹن میرے شوہر اور میرے درمیان عرصہ ہوا کبھی اتنی شدت سے پیار ہوا ہو۔ ایسا کہ ہم نے ایک دوسرے میں ڈوب کر ایسی لذت سے اپنی پیاس بجھا ئی ہو۔ مارٹن تمام باتوں اور جذباتی چپقلش سے نا آشنا بہت خوش تھا۔ اور سوچ رہا تھا کہ مشرقی ساحل کی تعطیلات نے ہم دونوں کو ایکدفعہ پھر سے پہلی سی محبت میں جکڑ دیا ہے۔ جبکہ اصل حقیقت اس کے برعکس تھی۔ صبح اس کاموڈ بہت اچھا تھا اور گھر جلدی آنے کا وعدہ کر کے وہ دفتر چلا گیا۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ دفتر کی مصروفیات میں چند گھنٹوں بعد ہی شب بسری کو بھلا دے گا۔
اس کے جا نے کے بعد میرے پاس پھر سے وقت ہی وقت تھا۔ دوپہر تک میں گھر کو ٹھیک ٹھاک کر نے، میلے کپڑوں کو مشین میں ڈالنے وغیرہ میں لگی رہی۔ اور پھر مجھ پر یاسیت طاری ہو گئی۔ ایک طرف مشرقی ساحل پر گزرے واقعات میرے سامنے کسی پردہ سیمیں پر چلنے والی فلم کی طرح دکھائی دینے لگے، تو دوسری طرف مجھے حد رجہ افسوس ہو رہا تھا کہ سب کچھ خواب کی مانند گذر گیا۔ میرے شوہر کا کیا تھا وہ تو بس دو ایک دن وہ بھی صرف سوتے وقت اپنی محبت جتائے گا اور پھر اپنےکام میں ایسا الجھے گاکہ اسے کسی کا ہوش نہ رہے گا اور میں کب تک اس کے انتظار میں اپنی جوانی کی شمع جلا ئے بیٹھی رہونگی۔۔۔
اس میٹھی میٹھی لذت جس کاچسکا مجھے مارٹن نے مشرقی ساحل پر لگا دیا تھا، سے مغلوب ہو کر میں نے بالآخر موبائل فون اٹھایا اور مارٹن کو کال کر ڈالی۔
”ہائے کیسی ہو۔۔؟“ مارٹن نے ہمیشہ کی طرح چہکتے ہوئے کہا۔
بالکل ویسی جیسا تم نے مجھے کردیا ہے۔۔“
”اس کا مطلب ہے تم بھی خاصی ’سریس‘ہو۔؟“اس نے کہا۔
”ہاں عورت تو ہمیشہ ہی ’سریس‘ ہو تی ہے۔ جس سے محبت کر تی بس اسی کی ہو رہتی ہے مگر تم مردوں کا کچھ بھرو سہ نہیں آج اس کے کل کسی اور کے۔۔ یا پھر کام اور بزنس ہی تم لوگوں کا دین ایما ن بن جا تا ہے۔“
”سارے مر د ایسے تھوڑی ہو تے ہیں۔“مارٹن نے بڑے پیار بھرے لہجے میں کہا۔
”تم مجھے ساری زندگی اچھی لگو گی اور کام۔۔۔ تم کہو تو میں اپنا نام بے روزگاروں کی فہرست میں درج کروانے کو تیار ہوں۔۔۔ بس پھر ہر وقت۔۔۔ تمہارے ساتھ۔۔۔۔!!“
”اچھا چپ رہو۔۔“میں نے اسے ڈانٹا۔
”میرا شوہر بھی کبھی ایسی باتیں کر تا تھا۔ اب دیکھو کام کام بس ہر وقت ہی اس کے سر پر کام سوار رہتا ہے۔ جیسے بیوی بچوں کے لئے شایداس نے کوئی اور رکھ چھوڑا ہوجو ان کی دیکھ بھال کر لیا کرے۔ خیر اب اس کی یہی لا پرواہی ہماری علیحدگی کا با عث بن چکی ہے۔ اچھا تم یہ بتاؤ تم کب آرہے۔۔۔؟“میں نے بات کو ختم کر تے ہوئے پوچھا۔
”ا رے جب تم کہو!“ وہ فوراً بو لا۔
’اچھاتو پھر تیا ری کر لو۔“ میں نے کہا اور پھر خدا حا فظ کہہ کر فو ن رکھ دیا۔ دوسرے دن میں نے اپنے شوہر مارٹن کو یہ کہہ کر حیران کر دیا کہ میں علیحدگی چاہتی ہوں۔
مارٹن میر ے توقع سے کہیں زیادہ پریشان ہو گیا۔”تمہیں کیا تکلیف ہے؟“اس نے نہایت تاسف سے پو چھا۔
”یہی تو مسئلہ ہے کہ تم از خود نہیں جانتے تمہارے بیوی بچوں کو کیا چاہیے۔ مارٹن ہمارا خیال ہے کہ تم ہم سب کو بھلا چکے ہو۔ تمہیں کام اور صرف کام ہی یاد رہ گیا ہے۔ ہمیں صرف تمہارے پیسے نہیں چاہیں۔ہم تمہارا ساتھ چاہتے ہیں ایسے مصروف ترین آدمی کو کوئی حق نہیں کہ بال بچوں کا جھنجھٹ پالے۔ تم اپنے والدین کے
ساتھ ہم سے زیادہ خوش رہو گے۔ تمہارے پاس صرف دولت ہے جو ہم لوگوں کے لئے کافی نہیں۔ میں جھگڑا نہیں چاہتی۔۔ہم مل کر طے کر لیتے ہیں۔ اور بجائے عدالتوں کے چکر لگا نے کے ہم آپس میں بچوں کی رہائش اور ملاقات کے معاملات طے کر کے بچوں کو تمام پریشانیوں سے بچا لیتے ہیں۔“
میری لمبی تقریر سنکر مارٹن بالکل ہی خاموش ہو گیا وہ جان چکا تھا کہ اب پانی سر سے کافی اونچا ہو چکا ہے۔ اس نے بات بڑ ھانے کی بجائے معاملات کو دوسرے وقت پر اٹھا رکھا۔ مارٹن کی ہمیشہ سے یہی عادت تھی۔ جب اس سے کوئی گتھی نہ سلجھتی تو وہ کہتا اچھا دیکھا جائے گا۔ لیکن اتنی اہم بات پر بھی وہ حسب عادت خاموش ہو جائے گا اس کی مجھے امید نہ تھی۔ اس نے صرف اتناکہا ”اچھا جب تک ہم تما م باتوں سے متفق نہ ہو جائیں تب تک بچوں اور ماما پاپا کو کچھ بتا نے کی ضرورت نہیں۔“
”لیکن اس طرح تو تم صرف مسائل کو ٹال رہے۔ اس سے کو ئی حل نہ نکلے گا اور ہو گا یہ کہ کچھ بھی طے کیے بغیر میں بچوں کو لیکر چل دونگی۔“ ٌ میں نے خاصے بر ہم لہجے میں کہا۔
”اچھا سب کچھ طے ہو جائیگا۔“ مارٹن کا لہجہ بدستو ر ہی دھیما تھا۔
اتوا ر کو میں نے مارٹن۔۔۔مشرقی ساحل والے مارٹن کو اپنے گھر مدعو کیا تھا۔ اس کے لئے میں نے اپنے شوہر مارٹن سے اجازت لے لی تھی۔ اتوار سے پہلے پہلے میں بچوں کے معاملات طے کر لینا چاہتی تھی۔ میں سمجھ رہی تھی کہ مارٹن بس صرف معاملات ٹالنا ہی جانتا ہے اس لئے کوئی بات طے ہوئے بغیر ہی ہماری علیحدگی بھی دوسرے بہت سے جوڑوں کی طرح ہی ہوگی۔ لیکن مارٹن نے اس کے برعکس اس دن کے بعد سے نہایت دلچسپی سے تمام معاملات کی گتھی کو سلجھا نا شروع کر دیا۔ ہمارے دن رات مذاکرات چلتے رہے۔ نت نئی تجویز پیش اور رد ہو تی رہی۔ کئی باتوں پر ہما را اتفاق بھی ہوا۔ اور آخر کار وہ دن بھی آگیا جب مارٹن کو میں نے مدعو کیا تھا۔ میں نے بچوں کو بتا دیا تھا۔ ساحل والا مارٹن آرہا تھا۔ اور بچے بہت خوش تھے۔ وہ ان کے ساتھ کھیلتا جو خوب تھا۔
دروازے کی گھنٹی بجی تو میرے شوہر مارٹن نے خود جا کر دروازہ کھو لا۔
”ہیلو۔۔ میں مارٹن ہو ں۔“اس نے خوش اخلاقی سے مہمان سے تعارف کراتے ہوئے کہا ”ہاں مجھے
قسط نمبر 2
مارٹن
معلوم ہے۔ ٹینا نے مجھے بتا یا تھا۔“مہمان نے جواباًکہا۔
”مگر ٹینا تو کہہ رہی تھی کہ آپ مصروف ہونگے۔“
”ہاں ہاں دراصل میرا پروگرام اچانک بد ل گیا۔میں۔۔ میں مداخلت تو نہیں کر رہا۔۔“میرے شوہر نے پھر کہا۔ ”نہیں جنا ب یہ آپ کا گھر ہے۔“ مارٹن بولا۔
کھانا وغیرہ چلتا رہا بچے ادھر ادھر ہو گئے۔ مشرقی ساحل سے آئے ہوئے مہمان۔۔ مارٹن کو بڑی حیرت ہو رہی تھی۔ کہ نہ میں نے اور نہ ہی مارٹن نے کسی قسم کی کوئی بات کی۔ ہمارے روّیے سے بھی کسی کو ایسا نہ لگ رہا تھا کہ ہم علیحدگی اختیار کر نے والے ہیں۔
چلتے وقت دروازے پر رخصت کر تے ہوئے میرے شوہر نے مارٹن سے صرف اتنا کہا۔
”مارٹن آپ کا شکریہ۔آپکے آنے کا بھی اور ہم میاں بیوی کے تعلق کو ایک بار پھر سے نہایت مستحکم بنا نے کا بھی۔ آپ کی وجہ سے مجھے معلوم ہو سکا کہ میں کس قدر اپنے بچوں اور بیوی کی طرف سے لاپرواہی برتتا رہا ہوں۔ اس لئے اب میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اپنے گھر کو زیادہ سے زیادہ وقت دونگا۔ میر ی بیوی نے مجھے سب بتا دیا ہے۔ اوکے خدا حافظ۔۔۔۔“
خدا حافظ کہہ کر مارٹن چلا گیا۔