لفظ جب نفاس ہوتے ہیں
خیال بے لباس ہوتے ہیں
سکوت کے جزیروں میں
ان گنت احساس ہوتے ہیں
کون دیکھتا ہے

غریب شہر ملال میں ہے
امیر شہر جلال میں ہے
اسی شہر کے دامن میں
جھونپڑی بھی جلتی ہیں
کارواں بھی لٹتے ہیں
اور پاسبان شہر
ہمیشہ آس پاس ہوتے ہیں

قلم کی سیاسی میں
ذرا سا فرق آجائے
یا پھر لکھاری خودنما بن جائے
تو……!!
کتاب کی عبارت میں
لکھے ہوئے ہزاروں حرف!
محض پھر قیاس ہوتے ہیں
۔
جب بے قرار چہروں پہ
فکر کی ملاوٹ ہو
زندگی کی راہ میں
زندگی رکاوٹ ہو
رہبروں کی آڑ میں
راہ زنوں سے پالا ہو
تو۔۔۔
بستیاں ہی نہیں پھر
شہر بھی اداس ہوتے ہیں۔