185

کراچی میں اسٹیج ڈرامے کی واپسی

کراچی میں اسٹیج ڈرامے نے عروج کا وہ وقت بھی دیکھا ہے جب ایک ہی وقت میں شہر کے مختلف آڈیٹوریم میں مختلف ڈرامے ہاوس فل کے بورڈ کے ساتھ چل رہے ہوتے تھے اور ان میں بڑے بڑے نامی گرامی فنکار اپنے فن کا جلوہ دکھا رہے ہوتے تھے۔پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ لوگ نا صرف آڈیٹوریم میں جاکے ڈرامے دیکھتے تھے بلکہ بعد میں انکو ویڈیو کیسٹس پر بھی دیکھا جاتا تھا۔پھر آہستہ آہستہ یہ انڈسٹری بھی زوال کی طرف جانے لگی۔ بڑے بڑے آڈیٹوریم جن میں “ ریکس اور امبر آڈیٹوریم شامل ہیں بڑے بڑے شاپنگ مال میں تبدیل ہوگئے۔لیکن کچھ فنکاروں نےہمت نہیں ہاری اور اس خوبصورت اور تفریحی انڈسٹری کو زندہ رکھا ہوا ہے۔انہی میں سے ایک نام پرویز صدیقی اور انکے ساتھی فنکاروں ذاکر مستانہ اور شکیل شاہ کا بھی ہےجو ایک دفعہ پھر سے اس بات پر کمر بستہ ہوئے ہیں کہ کراچی کی عوام کو دوبارہ سے یہ تفریح فراہم کی جائے اور اسی سلسلے میں ۱۵،۱۶ اور ۱۷ مارچ کو کراچی آرٹس کونسل میں مزاحیہ ڈرامہ ” محلہ پونے آٹھ ریٹرن “ پیش کیا جارہا ہے۔ جسکو پرویز صدیقی نے خود لکھا ہے ۔ ملک یعقوب اسکے پروڈیوسر اور ہدایتکاری ایم جمیل راہی نے دی ہے۔ ڈرامے میں شامل تمام فنکار بہت پُرجوش ہیں کہ مزاحیہ ڈراموں کے شوقین افراد کو یہ بہت پسند آئے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں