76

کراچی جو ایک شہر تھا!

کہا جاتا ہے کہ دنیا کے تمام شہروں کی ابتدا چھوٹی بستیوں سے ہوئی جو ضرورت کے تحت بڑھتے بڑھتے بڑے شہروں میں تبدیل ہوگئے. ابتداً یہ بستیاں تجارت کے مراکز ہوتے تھے یا پھر مذہبی عبادت گاہیں جو مختلف ہنرمندوں اور عقیدت مندوں کے آس پاس بسنے کی بدولت بستیوں، دیہاتوں، قصبوں سے ہوتے ہوئے بڑے شہر بن گئے. ہمارے پاکستان کے بھی تمام بڑے شہر کراچی، لاہور، پشاور اور ملتان وغیرہ بھی اسی نہج پر چل کر بستیوں سے شہروں میں ڈھلے. ہم جانتے ہیں کہ فقط دوسو سال پہلے کراچی مچھیروں کی ایک چھوٹی سی بستی تھی اور آج سترہ ملین سے زائد آبادی والا پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور تجارتی مرکز ہے. مگر افسوس کہ ملکی ضروریات کا 75 فیصد تنہا پورا کرنے والے پاکستان کے اس کماؤ پوت سے حاصل تو بہت کچھ کیا جاتا ہے مگر اسے دینے کے لیے ہر حکومت کے ہاتھ چھوٹے پڑ جاتے ہیں. باقی کی بات تو چھوڑ ہی دیجئے اس شہر کو شہری تقاضوں کے مطابق ڈھالنے اور اس پر قائم رکھنے کی جو لازمی ضرورت تھی اسے ہی کبھی خاطر میں نہیں لایا گیا.
اہلیان کراچی برسوں سے اپنے حکمرانوں کی نظر کرم کے منتظر ہیں لیکن پچھلے دس بارہ سالوں میں شہر جس قدر بے توجہی کا شکار رہا ہے اسے دیکھ کر یہ گمان ہوتا ہے کہ یہاں کے حکمران شاید کراچی کے حوالے سے یہ ریکارڈ قائم کرنا چاہتے ہیں کہ یہاں کے لوگوں کو بڑے شہر میں رہتے ہوئے ابتدائی بستیوں جیسا مزہ چکھایا جائے یا پھر یہ کہ اس امکان کو تقویت دی جائے کہ کراچی وادی سندھ کے دراوڑیوں کا بسایا ہوا موہنجودڑو کے زمانے کا کوئی شہر ہے. حالانکہ اکیسویں صدی سے کجا پیچھے2500 قبل مسیح میں وادی سندھ کے شہروں خصوصاً موہنجودڑو کی منصوبہ بندی آج کے زمانے سے بھی اعلیٰ تھی. کاش کہ ہمارے حکمرانوں نے ان ہی سے کچھ سیکھ لیا ہوتا.
آج جبکہ دنیا کے بیشتر ممالک کرونا وائرس کی وبا کے دنوں میں اپنی عوام کو ہر ممکنہ سہولیات پہچانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ایسے میں کراچی والوں کی بدنصیبی ہے کہ وہ زندگی کی بنیادی ضروریات بجلی، پانی اور گیس کی قلت اور عدم دستیابی کے جنجال سے ہی نہیں نکل پائے تھے کہ مون سون کی بارشوں نے کراچی میں برس کر مرے پر سو دُروں کا کام کردیا. نکاسی آب کے بدترین نظام کی وجہ سے بارش کا پانی کہیں سڑکوں اور گلیوں میں فراٹے بھرتا رہا تو کہیں کوڑے کرکٹ اور گٹر کی غلاظت کو ساتھ لیتا ہوا اندھا دھند گھروں میں داخل ہوکر شہریوں کو کوفت میں مبتلا کرتا رہا مگر جناب حسب دستور شہری انتظامیہ کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی اور وہ اب بھی اسی بے حسی اور ڈھٹائی پر ثابت قدم ہیں جس کا سامنا اہلیان کراچی برسوں سے کررہے ہیں.
شاید حکومت سندھ کی دور رس نگاہیں وہ دیکھ رہی ہیں جو کراچی کی بیچاری عوام نہ دیکھ سکتی ہے اور نہ سمجھ سکتی ہے. اب یہی دیکھئے کہ کراچی کی مشکلات سے یہاں کے لوگوں کو ہر روز جو شدید کوفت اٹھانی پڑتی ہے اس کے نتیجے میں صبرو تحمل اور برداشت کی عادت کراچی والوں کے مزاج کا حصہ بنتی جا رہی ہے لہذا ہمارے حکمرانوں کی عظیم کامیابی یہی ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں صابرین و شاکرین کی تعداد دن بہ دن اس تیزی سے بڑھ رہی ہے کہ اب کراچی کو روشنیوں کے شہر کے بجائے صابرین و شاکرین کا شہر پکارا جائے تو بے جا نہ ہوگا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں