۱۱ مارچ ۷۸۹۱ء کو قائد اعظم کے سیکریٹری اور صدر آزاد جموں کشمیر اس جہان فانی سے رخصت ہوئے۔ ان جیسے کردار اور اعلیٰ اوصاف کا حامل کوئی اور سیاستدان نظر نہیں آتا۔ کے ایچ خورشید صاحب سے میری پہلی ملاقات ۴۸۹۱ء میں لاہور ہائی کورٹ کے عقب میں ٹرنر روڈ پر ان کے دفتر میں میرے بڑے بھائی طارق محمود چوہدری کے ہمراہ ہوئی۔کے ایچ خورشید سے ملنے کا اشتیاق اس وجہ سے تھا کہ اُس شخصیت سے ملوں گا جنہوں نے قائد اعظم کے ساتھ مل کر تحریک پاکستان کے فیصلہ کن دور میں شب و روز کام کیا اور اپنی آنکھوں سے پاکستان بننے دیکھا تھا۔جاتے وقت میں یہی سوچ رہا تھا کہ انہوں نے بر صغیر کے اہم رہنماؤں گاندھی، نہرو، پٹیل اور آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت کو بڑی قربت سے دیکھا ہوگا اور وہ اُن کے بارے میں وہ کچھ بتا سکتے تھے جو عموماََ پڑھنے کو نہیں ملتا۔ پرائیویٹ سیکریٹری ہونے کے ناطے وہ قائد اعظم کے ساتھ خلوت اور جلوت میں رہے اس طرح قائد کی شخصیت اور افکار کے بارے میں کوئی شخص اُن سے بہتر نہیں بتا سکتا تھا۔ پھر وہ تحریک آزادی کشمیر کے بھی چشم دید گواہ تھے اور اُن حقائق کوبڑی اچھی طرح جانتے تھے۔ آزادجموں کشمیر میں جمہوریت کی داغ بیل انہوں نے ہی ڈالی اور پھر مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے آزاد جموں کشمیر کی حکومت کو تسلیم کرنے کا مطا لبہ کیا جس سے بہتر حکمت عملی پر کسی اور نہیں غور نہیں کیا اس طرح انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بہترین روڈ میپ دیا۔ انہی سوچوں میں مگن جب ہم اُن کے دفتر میں پہنچے تو انہوں نے خوش خلقی اوربڑی شفقت کے ساتھ ہمیں خوش آمدید کہا اور گفتگو کی ایک تفصیلی نشست ہوئی۔
مجھے بہت سے رہنماؤں کو ملنے کا موقع ملا ہے اور ملنے سے قبل اُن کی شخصیت کا ایک بہتر تصور ذہن میں ہوتا ہے لیکن اکثر کو ملنے کے بعد وہ تصور کا وہ تاج محل زمین بوس ہوجاتا ہے لیکن خورشید صاحب اس کے برعکس تھے ا اور ملاقات کے بعد میں ان کی شخصیت کا اور بھی معترف ہوگیا۔ مجھے وہ بہت متاثر کن،خوش لباس، پروقار، اور متوازن شخصیت نظر آئے۔اُن کی شخصیت، خوش گفتار اور شفقت بھرے انداز گفتگو نے مجھے اُن کا گرویدہ بنا دیا۔ بڑے قد کاٹھ کے سیاسی رہنماؤں میں جو رعونت اور احساس برتری عام سی بات ہے، خورشید صاحب اس سے کوسوں دور تھے۔ ہماری ملاقات کافی تفصیلی ہوئی۔ میں نے اُن سے بہت سے چھبتے ہوئے سوالات بھی میں نے کیے لیکن انہوں نے بڑے مشفقانہ انداز میں جوابات دیئے اور کسی بات کا بُرا نہیں منایا۔ اس طرح وہ مجھے حلم اور متانت کا پیکر نظر آئے۔ انہوں نے اس تصور کر رد کیا کہ قائد اعظم آمرانہ شخصیت کے مالک تھے۔ خورشید صاحب کا کہنا تھا کہ قائد اعظم کے بعد اگرحسین شہید سہروردی کو اُن کا جانشنین بنایا دیا جاتا تو پاکستان دو لخت نہ ہوتا اور آج پاکستان کے حالات بہت بہتر ہوتے۔ ریاست آزاد جموں کشمیر میں جمہوریت کے آغاز، تعمیر و ترقی اور مسئلہ کشمیر کو نئی جہت دینے کے لیے اپنی جماعت جموں کشمیر لبریشن لیگ قائم کی تھی۔
خورشید حسن خورشید ریاست جموں کشمیرکی تمام اکائیوں یعنی وادی کشمیر، صوبہ جموں، آزادکشمیر، گلگت بلتستان اور مہاجرین جموں کشمیر میں یکساں مقبول تھے اورسب کے مابین ایک رابطہ تھے یہ امتیاز کسی اور کشمیری رہنماء کے حصہ نہیں آیا۔کے ایچ خورشید بہت اچھی یاداشت کے مالک تھے اور اپنے کارکنوں کے نام تک انہیں یاد تھے۔ عام لوگوں سے بھی بہت اچھی طرح ملتے تھے اور ان سے مل کر کسی کو بھی کم مائیگی کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور اور زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ان کی موجودگی میں مجھے تقاریر کرنے کا موقع ملا جو میرے لیے ایک اعزاز ہے۔اُن کی وفات سے کچھ ہی عرصہ قبل ان کا پنجاب یونیورسٹی لاہور میں مسئلہ کشمیر کے حوالے اہم خطاب سُنا اور بعد میں اُن سے ملاقات بھی ہوئی جو شائد آخری ملاقات ثابت ہوئی۔ ۵۸۹۱ ء میں جب میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں کشمیری طلباء کی تنظیم جموں کشمیر سٹوڈنٹس آرگنائیزیشن کا جنرل سیکریٹری تھا تویونیورسٹی میں مسئلہ کشمیر پر ایک سیمنار منعقد کیا جس میں کے ایچ خورشید کو مہمان خصوصی کی حیثیت مدعو کیا۔ خورشید صاحب نے کہا کہ جب مخلص سیاستدان زندہ ہوتے ہیں انہیں کوئی اہمیت نہیں دی جاتی لیکن جب وہی دنیا سے چلے جاتے ہیں تو قوم ان کی خدمات کا اعتراف کرنا شروع کردیتی ہے۔ خورشید صاحب کا موقف تھا کہ سیاسی اور سفارتی جدوجہد سے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا چاہیے اورآزادکشمیر حکومت کو پاکستان بھی تسلیم کرے اور دنیا کے دیگر ممالک سے بھی یہ مطالبہ کیا جائے اور اس طرح آزادکشمیر حکومت خود بین الاقوامی سطح پر اپنی آزادی کی بات خود کرے۔ میرے ذاتی مشاہدہ کے مطابق بھی انہوں نے درست راستہ کی نشاندہی کی تھی۔جب ہم کشمیر کمیٹی سویڈن کے پلیٹ فارم سے سویڈن میں مسئلہ کشمیر کی لابنگ کے لیے جاتے ہی تو اس کا واقعی احساس ہوتا ہے۔
۷۸۹۱ء میں وہ آزاد کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تھے۔ میرے برادر محترم طارق محمود چوہدری کے اُن کے دیرینہ تعلقات تھے۔ ہمارے انکل چوہدری محمد شفیع جنہوں نے ہمیں اپنی اولاد کی طرح پالا تھا وہ گورنمنٹ پائلٹ ہائی سکول بھمبر میں سنیئر مدرس تھے اور انہوں نے ایک طویل مدت تک اس علاقہ میں علم کی شمع روشن کئے رکھی۔ اُن کا انتقال خورشید صاحب سے پورے ایک سال قبل ۱۱ مارچ ۷۸۹۱ء میں ہوا۔ ہم نے ان کی یاد میں محمد شفیع چوہدری میموریل سوسائٹی قائم کی تاکہ بھمبر کے ذہین طلباء کی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔ اس سلسلہ کے پہلے پروگرام میں ہم نے خورشید صاحب کو مہمان خصوصی کے طور پر بلایا۔ خورشید صاحب نے میٹرک اور پی ٹی سی کے امتحان میں اول دوم اور سوم آنے والے طلباء میں میڈل اور اسناد تقسیم کیں۔ اس موقع پر انہوں تعلیم کے حوالے سے بہت اہم خطاب کیا اور بتایا کہ اُن کے والد سکول میں صدر معلم تھے۔ تقریب کے بعد وہ ہمارے گھر تشریف لائے اور اس طرح ان سے ایک اور یادگار ملاقات ہوئی۔انہوں اپنی زندگی کا آخری خطاب وکلاء کنوینشن میرپو ر میں ۰۱مارچ ۸۸۹۱ء کو کیا۔ انہوں نے وہ تاریخ ساز پیغام دیا جو آج بھی سب کے لیے مشعل راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسان آتے جاتے رہتے ہیں مگر اُن کے اصول ہمیشہ زندہ رہتے ہیں اور جو لوگ اصولوں کی خاطر زندہ رہتے ہیں وہ ہمیشہ کے لیے امر ہوجاتے ہیں۔ انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کی خاطر جدوجہد کرنے والے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ بلاشبہ انہوں نے بالکل درست کہا تھا۔ وہ آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں اور اُن کے لیے جو احترام اور عزت ہے وہ شائد کسی اور کو نصیب نہیں ہوا۔ اُن کے مخالفین بھی اُن کا نام عزت و احترام سے لیتے ہیں۔ ان دامن ہر طرح کی کرپشن، لالچ اور مالی بد دیانتی سے پاک رہا جو آج کل کے سیاستدانوں کا طرہ امتیاز ہے۔ قائد اعظم کے سیکریٹری، آزادکشمیر کے صدر اور قائد حزب اختلاف رہنے کے باوجود بیرسٹر کے ایچ خورشید وہ پوری عمر کرائے کے مکان میں رہے، وفات پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرتے ہوئے ہوئی ا ور مرتے وقت جیب سے صرف ۷۳ روپے نکلے۔ کیا آج پورے پاکستان اور آزادجموں کشمیر میں قومی سطحکا ایک بھی رہنما ہے جو اُن جیسا ہو۔
خدا رحمت کنند ایں عاشقان پاک طینت را۔