دن کے بارہ بج رہے تھے اور سورج سوا نیزے پر تھا. میں اپنے کسی ذاتی کام کے سلسلے میں قریبی بنک جارہاتھا.لیکن ٹہریئے! اس سے پہلے کہ میں اپنی کہانی شروع کروں پہلے اپنا تعارف کرادوں.
میرا نام فراست علی خان ہے اور میں چند سال قبل ہی محکمہ پولیس کی کرائم برانچ سے سبکدوش ہوا ہوں. میری موجودہ رہائش کراچی میں ہے مگر اپنی نوکری کا لمبا عرصہ میں نے اندرون سندھ میں گزارا ہے.
ہاں تو میں بتارہا تھا کہ میں اپنے کسی کام کے سلسلے میں بنک جارہاتھا. سڑک پار کرکے میں بنک کی جانب بڑھا. باہر بیٹھے محافظ نے سلام کیا اور آگے بڑھ کر میرے لیے دروازہ کھولا. اندر داخل ہوکر میں استقبالیہ کاؤنٹر کی جانب بڑھا اور وہاں بیٹھے عارف ترمذی صا حب سے منیجر سے ملاقات کا کہا. انہوں نے فون ملایا اور بات کرنے کے بعد مجھے جانے کا اشارہ کیا اور ساتھ ہی بتایا کہ پرانے منیجر طاہر جیلانی صاحب کا تبادلہ ہوگیا ہے اور ان کی جگہ نئی منیجر خاتون آئی ہیں مسز امتیاز. میں سر ہلا کر آگے بڑھا. اندر کمرے میں میز کے پیچھے ایک درمیانی عمر کی عورت سر جھکائے کام میں مصروف تھی. میں نے بلند آواز سے سلام کیا ہی تھا کہ اُس نے وعلیکم اسلام کہہ کر سر اٹھا کر مجھے دیکھااور بیٹھنے کا اشارہ کیا. پھر کہنے لگی!
میرا نام نیلم امتیاز ہے، کہیے میں آپ کی کیا خدمت کرسکتی ہوں؟
مگر میری حالت تو اس کو دیکھتے ہی ایسی ہوگئی کہ ” کاٹو تو لہو نہیں بدن میں” منہ کھلا کا کھلا رہ گیا. کمرے میں اے سی کی خنکی کے باوجود میں اپنے ماتھے پر پسینے کے قطرے صاف محسوس کررہا تھا. دماغ میں ایک ہی سوال گردش کر رہا تھا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ ہو بہو وہی سحرانگیز بڑی بڑی سیاہ آنکھیں اور وہی نام، نیلم….
میری حالت دیکھ کروہ مجھے تعجب سے دیکھ رہی تھی. میں نے جلدی سے خود کو سنبھالا اور شکریہ کہہ کر سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گیا.
اپنے کام سے متعلق گفتگو کے دوران میں مسلسل یہ سوچ رہا تھا کہ اس سے وہ بات کیسے پوچھوں جس نے مجھے حد درجہ پریشان کردیا ہے. بالاخر مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں پوچھ ہی بیٹھا کہ کیا ان کی کوئی عزیزہ نوے 90 کی دھائی میں قنبر شہداد کوٹ میں رہتی تھیں؟ میرا سوال سن کر وہ دھیمے سے مسکرائی اور بولی!
جی نہیں! مگر آپ یہ کیوں پوچھ رہے ہیں؟
میں نے بتایا کہ ایک خاتون سے بہت سال پہلے وہاں میری ملاقات ہوئی تھی. آپ کو دیکھ کر ان کا خیال آگیا. دراصل آپ کی آنکھیں ان کی آنکھوں سے حد درجہ مشابہت رکھتی ہیں اورآپ دونوں کے نام بھی ایک سے ہیں. ان کا نام نیلم خاتون تھا.
وہ بولی! دلچسپ بات ہے مگر کوئی غیر معمولی نہیں. دو انجان لوگوں میں بعض اوقات خاصی مشابہت پائی جاتی ہے. یہ معاملہ بھی ایسا ہی لگتا ہے. یوں بھی میرا تعلق تو صوبہ پنجاب سے ہے اور جہاں تک مجھے یاد ہے، میں یا میرا کوئی قریبی عزیز اندرون سندھ میں کبھی نہیں رہا.
گھر آکر بھی نیلم امتیاز کی آنکھیں میرے حواس پر سوار رہیں. میں اہل ہنود کے دوسرے جنم کے تصور کا قائل تونہیں مگر یہ بات مجھے بے انتہا حیران ضرور کررہی تھی کہ کسی کی آنکھیں اور نام کسی اجنبی سے اس قدر مشابہہ ہوں کہ ان پر ایک ہی کا گماں ہو. سوچ کے پردے پر مناظر ایک ایک کرکے جھلکنے لگے.
یہ انیس سو بیانوے کی بات ہے جب میری نئی نئی تعیناتی کراچی سے تعلقہ میرو خان ڈسٹرکٹ قنبر شہداد کوٹ میں ہوئی تھی. یہاں کی آبادی اُس وقت چند ہزار پر مشتمل تھی. بنیادی طور پر یہاں کے لوگ سیدھے سادھے اور پرامن تھے. تھانے میں چھوٹی موٹی چوریاں اور گھریلو جھگڑوں کی شکایات ہی درج ہوتی رہتی تھیں. قتل و غارت گری جیسا کوئی سنگین جرم یہاں کے کھاتے میں اُس واقعے سے قبل درج نہیں تھا جس کا حال میں آپ کو سنانے والا ہوں.
یہ ابتدائی نومبر کی بات ہے کہ میں ایک روز معمول کے مطابق دفتر پہنچا ہی تھا کہ سب انسپکٹر نورزمان نے بتایا کہ قریبی بستی رتو گڑھی کے ایک گھر سے میاں بیوی کی لاشیں ملی ہیں. اہل محلہ کے مطابق شوہر محبوب نے اپنی بیوی رانی کو قتل کرکے خود چھت سے لٹک کر خودکشی کرلی ہے. صبح سات بجے کے قریب دودھ والے نے گھر کا دروازہ کھلا پایا تو اندر جھانکنے پر اس نے دو لاشیں دیکھ کر محلے والوں کو بتایا. جنھوں نے تھانے میں رپورٹ کرائی.
میں چند سپاہیوں کے ساتھ فوراً وہاں پہنچا. بیرونی دروازے پر اردگرد کے کافی لوگ جمع تھے. ہمیں دیکھ کر وہ سب پیچھے ہٹ گئے. یہ گلی کے کونے میں بنا ایک تین کمروں کا مکان تھا. جس میں ایک خواب گاہ اور ایک مہمان خانہ تھا جبکہ تیسرا کمرہ گھر کے کاٹھ کباڑ سے بھرا تھا. مہمان خانے کے فرش پر ایک عورت کی لاش اوندھے منہ پڑی تھی. اس سے کچھ فاصلے پرایک مرد کی لاش چھت سے لٹک رہی تھی. پاس ہی فرش پر ایک اسٹول لڑکھا پڑا تھا جو غالباً مرد نے پھانسی کے لیے استعمال کیا تھا.
میں دونوں لاشوں کا معائنہ کرنے لگا. عورت کو پشت پر قریب سے چاقو مارا گیا تھا. کیونکہ چاقو دستے تک اندر دھنسا تھا. وہ ایک اچھی شکل و صورت کی بیس بائیس سالہ جوان عورت تھی جبکہ مرد کی عمر تیس سال کے لگ بھگ تھی. بظاہر دیکھنے میں یہی لگتا تھا کہ بیوی کو قتل کرکے شوہر نے خودکشی کرلی مگر جس بات نے مجھے چونکایا وہ یہ تھی کہ خودکشی کرنے والے مرد کی آنکھیں بند تھیں جبکہ پھندا لگا کر خودکشی کرنے والوں کی آنکھیں عموماً کھلی رہتی ہیں. باریک بینی سے مزید جانچ کے لیے دونوں لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا کر میں محلے کے چند ذمہ دار لوگوں سے ملا. جن سے پتہ چلا کہ محبوب اور رانی اس مکان میں چھ ماہ پہلے ہی آئے تھے مگر یہ لوگ محلے والوں سے زیادہ میل ملاپ پسند نہیں کرتے تھے البتہ نیلم خاتون نامی ایک عورت سے ان کا ملنا جلنا تھا جو تھوڑے فاصلے پر ہی کہیں رہتی تھی. میں نے اسی وقت نیلم خاتون سے ملنے کا فیصلہ کیا اور محلے کے ایک لڑکے کی رہنمائی میں ان کے گھر پہنچا. کئی بار گھنٹی بجانے کے بعد ایک اٹھارہ انیس سال کے لڑکے نے دروازہ کھولا. پولیس کو دیکھ کر ایک لمحے کو وہ ٹھٹکا اور پھر خود اعتمادی سے کہنے لگا!
جی فرمائیے، کس سے ملنا ہے آپ کو؟
میں نے کہا! نیلم خاتون سے. کیا ان سے ملاقات ہوسکتی ہے؟
اس نے بتایا کہ وہ اس وقت گھر پر نہیں ہے. میرے پوچھنے پر کہ کب تک آجائیں گی؟ وہ کہنے لگا!
مجھے پتہ نہیں مگر کس سلسلے میں ملنا ہے آپ کو؟ کوئی کام ہے ان سے آپ کو؟
میں نے جواب دینے کے بجائے اس سے پوچھا کہ وہ کون ہے؟ اس نے بتایا کہ اس کا نام رحیم ہے اور وہ نیلم خاتون کا عزیز ہے جو ان کے ساتھ ہی رہتا ہے. میرے پوچھنے پر کہ محبوب اور رانی کو جانتے ہو تم؟ وہ سوچ میں پڑتے ہوئے بولا! وہ جو رتو گڑھی میں رہتے ہیں.
میں اسے غور سے دیکھتے ہوئے بولا! ہاں وہی کیا تم لوگوں کو علم ہے کہ محبوب نے رانی کو قتل کرکے خودکشی کرلی ہے.
وہ حیرت سے مجھے دیکھتے ہوئے بولا!
جی نہیں مجھے تو ایسی کوئی خبر نہیں ملی. باجی بھی سویرے نکل گئی تھیں انہیں بھی خبر نہیں ہوگی اس بات کی.
اس سے پہلے کہ میں کچھ اور پوچھتا وہ جلدی سے بولا!
ویسے ہماری ان سے زیادہ جان پہچان نہیں تھی. بس چند بار ہی ملاقات ہوئی ہے ان سے.
میں نے سر ہلایا اور دوبارہ آنے کا کہہ کر وہاں سے چلا آیا.
نور زمان سے پتہ چلا کہ کل دن میں کسی وقت پوسٹ مارٹم کی رپورٹ آجائے گی. میں نورزمان کے ساتھ اس دودھ والے کے پاس پہنچا جس نے سب سے پہلے دونوں لاشوں کو دیکھا تھا. بظاہر تو وہ ایک بھولا بھالا گوالا تھا جس سے کوئی خاطر خواہ بات پتہ نہیں چلی سوائے اس کے کہ گھر کا دروازہ چوپٹ کھلا تھا. تجسس میں اس نے اندر جھانکا تو اسے کمرے میں یہ دونوں لاشیں نظر آئیں. وہ گھبرا کر باہر نکل آیا اور پاس پڑوس میں رہنے والوں کو بتایا.
وہاں سے فارغ ہوکر ہم محبوب اور رانی کے گھر کی تلاشی لینے پہنچے. ابھی ہم تالا کھول کر اندر داخل ہونے بھی نہ پائے تھے کہ اندر سے کسی کے بھاگنے کی آواز سنائی دی. نور زمان دوڑ کے اس طرف گیا مگر وہ جو کوئی بھی تھا، پچھلی دیوار کود کر بھاگ چکا تھا. اندر کمروں کی تتر بتر حالت بتا رہی تھی کہ اسے کسی چیز کی تلاش تھی تاہم ہمیں یہ نہیں پتہ تھا کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوا یا نہیں.
ابھی میں مہمان خانے کا جائزہ لے ہی رہا تھا کہ نورزمان کی جوش سے بھری آواز سنائی دی!
سر جی جلدی آئیں، یہ دیکھیں کیا ملا ہے!
وہ باورچی خانے میں سیمنٹ کے بنے ایک طاق کے پاس کھڑا تھا. جہاں طاق کے نچلے حصے کی زمین میں آٹے چاول کے کنستروں کے پیچھے ایک چھوٹا سا گڑھا نظر آرہا تھا. جسے اینٹ لگا کر بند کیا ہوا تھا. گڑھے میں ایک مٹی کی ہنڈیا رکھی تھی جس کا منہ زرد رنگ کے کپڑے سے بندھا ہوا تھا. ہنڈیا کے اندر چھوٹی بڑی کچھ ہڈیاں اور چند مٹی کی بنی تختیاں رکھی تھیں. تختیوں پر کسی نامعلوم زبان میں کچھ لکھا ہوا تھا.
ان چیزوں کو دیکھ کر یہ واضح ہورہا تھا کہ ہمیں دیکھ کر بھاگنے والے کو یقیناً اسی کی تلاش تھی. اب معلوم یہ کرنا تھا کہ اس کی کسے تلاش تھی اور کیوں؟ اس ساری بھاگ دوڑ میں شام ہوچلی تھی. ہانڈی اور اس میں رکھی چیزوں کو جانچ کے لیے پہلے لیبارٹری بھجوانے اور پھر اسے محکمہ آثار قدیمہ کے حوالے کردینے کا کہہ کر میں گھر چلا آیا.
اگلے دن دفتر میں کچھ کام نمٹا کر میں پوسٹ مارٹم کا نتیجہ جاننے کے لیے پیتھالوجسٹ ڈاکٹررحمان احمد کے پاس پہنچا. انہوں نے بتایا کہ محبوب کی موت رانی سے تقریباً ایک گھنٹہ پہلے ہوئی تھی. اس کی گردن پر پھانسی کی رسی کا نشان واضح تھا مگر اس کی موت حرکت قلب بند ہونے سے ہوئی. ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ رانی کو مارنے والے چاقو پر محبوب کی انگلیوں کے نشانات موجود ہیں مگر محبوب کے جسم پر کسی قسم کے نشانات تو نہیں ملے البتہ اس کی آنتوں سے معمولی مقدار میں ایسا زہریلا مواد ملا ہے جو صحرائی علاقوں میں پائے جانے والے خاص قسم کے سانپ کے زہر میں ہوتا ہے. یہ زہر دل پر اثر کرتا ہے اور حرکت قلب کو فوری روک دیتا ہے.
معاملات کچھ الجھے الجھے سے تھے. میں نے نیلم خاتون سے ملنے کا ارادہ کیا اور دوبارہ ان کے گھر پہنچا. اب کے بار پہلی گھنٹی پر ہی دروازہ کھل گیا. سامنے رحیم کھڑا تھا. وہ مجھے اندر لے آیا. اندر گھر پر طائرانہ نظر ڈالتے ہوئے اندازہ ہوا کہ گھر کافی کشادہ تھا. بیرونی دروازے سے داخل ہوتے ہی کچا صحن تھا. جس کے درمیان میں ایک بڑا سا پھیلا ہوا برگد کا پیڑ لگا ہوا تھا. صحن سے گزر کر ہم ایک راہداری میں آئے جہاں کئی کمرے بنے ہوئے تھے. ان میں سے ایک میں ہم داخل ہوئے جو مہمان خانے کے طرز پر سجا ہوا تھا. کمرے میں داخل ہوتے ہی میری نظر سیدھی سامنے دیوار پر لگی ایک قدآور تصویر پر ٹہر گئی. جس میں ایک عورت قدیم طرز کا شاہی لباس پہنے پتھر کی بنی اونچی کرسی پر بیٹھی تھی. اس کا چہرہ نقاب سے چھپا ہوا تھا صرف آنکھیں نظر آرہی تھیں بڑی بڑی سیاہ مگر پراسرار آنکھیں. ان آنکھوں میں اتنی زندگی تھی کہ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ میرے آر پار دیکھ رہی ہوں. میں ابھی تصویر کے سحر میں کھویا ہوا تھا کہ ایک دبلی پتلی جوان عمر عورت کمرے میں داخل ہوئی. اس نے اپنا تعارف نیلم کہہ کر کرایا. سامنے دیوار پر لگی تصویر اور اس میں ذرا بھی فرق نہیں تھا سوائے لباس کے.
میں نے اس سے رانی اور محبوب کے بارے میں پوچھا تو اس نے اُن کی دردناک موت پر افسوس کا اظہار کیا اور کہنے لگی!
اسے ان کی دردناک موت کا افسوس ہے مگر وہ ان دونوں کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جانتی. کچھ عرصہ پہلے ہی ان سے جان پہچان ہوئی تھی. آنا جانا بھی چند بار ہی ہوا تھا.
میں نے اسے کھوجتی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا کہ!
چند ملاقاتوں میں اتنا اندازتو ہوا ہوگا کہ دونوں میاں بیوی کے آپس کے تعلقات کیسے تھے؟یا ان کی کسی سے دشمنی تو نہیں تھی؟
وہ میری طرف دیکھتے ہوئے مسکرائی اور بولی!
میں نے آپ سے کہا نا کہ ہماری اُن سے اتنی بے تکلفی نہیں تھی کہ اس طرح کے اندازے لگاتے. ہاں چند بار ہماری ملاقات ضرور ہوئی تھی مگر ہمیں ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں کچھ نہیں پتہ. میں آپ کی اس سلسلے میں کوئی مدد نہیں کرسکتی.
میں نے چند لمحے خاموشی کے بعد اس سے پوچھا کہ وہ کل صبح سویرے کہاں گئی تھی؟ اس نے ایک اچٹتی سی نظر رحیم پر ڈالی جو ایک کونے میں کھڑا تھا اور بولی!
میری ایک عزیزہ کافی بیمار ہیں جن کی عیادت کے لیے نوری آباد گئی تھی. سوا گھنٹے کا رستہ ہے اس لیے میں سویرے ہی نکل گئی تھی تاکہ واپسی میں دیر نہ ہو.
میں نے اس سے وہاں کا پورا پتہ پوچھا تو اس کی بجائے رحیم جلدی سے بولا!
نوری آباد، محلہ ملوک، مکان نمبر تریسٹھ..
میں ضرورت پڑنے پر دوبارہ آنے کا عندیہ دیکر وہاں سے اٹھ گیا.
دو دن مصروفیت میں گزر گئے. تیسرے دن میں دفتر آیا تو رانی اور محبوب کے گھر سے ملنے والی پراسرار ہانڈی کی فرانزک جانچ کی رپورٹ میز پر رکھی تھی. جس کے مطابق ہانڈی میں ملنے والی ہڈیاں کسی عورت کی تھیں اوریہ آٹھ ہزار سال پرانی تھیں.
اس بارے میں مزید معلومات کے لیے میں محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر نسیم سومرو سے ملا تو انہوں نے بتایا کہ جہاں تک ان ہڈیوں کا تعلق ہے ہمیں آج تک یہاں سے اتنی پرانی انسانی باقیات نہیں ملیں ہیں. ہمارے پاس جو ریکارڈ ہے وہ پانچ ہزار سال پرانا ہے. یہ ایک نئی دریافت ہے جو کافی حیران کن ہے. مٹی کی تختیوں کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ یہ یہاں کی قدیم تہذیب کی زبان ہے جو بدقسمتی سے ابھی تک پڑھی نہیں جاسکی ہے. میوزیم میں اس جیسے اور بھی نمونے موجود ہیں جو ہمیں دفن کیے ہوئے اور جلے ہوئے انسانی ڈھانچوں کے ساتھ ملے ہیں. اس سے یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ موت کی رسموں میں استعمال کی جاتی ہوں گی. پھر وہ دکھ بھرے لہجے میں کہنے لگے!
افسوس کہ کچھ لوگ ان قیمتی باقیات کو چوری چھپے حاصل کرکے چند پیسوں کے عوض بیچ دیتے ہیں. یقیناً ان کے سہولت کار محکمہ آثار کے ملازمین میں سے ہی ہونگے. جن کی مدد کے بغیر یہ کام مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے.
بظاہر کوئی سرا ہاتھ نہیں آرہا تھا مگر دماغ اشارہ دے رہا تھا کہ اس دہرے قتل کے تانے بانے کہیں نہ کہیں نیلم خاتون سے ضرور ملتے ہیں. یہی سوچ کر ایک نہایت ہوشیار سپاہی ارشد علی کو ہر آنے جانے والے پر نظر رکھنے کی ہدایت دیکر نیلم خاتون کے گھر کی خفیہ نگرانی پر لگا دیا.
دو چار دن تک کوئی خاص بات نہیں ہوئی. پھر ایک روز ارشد علی نے اطلاع دی کہ عشاء کے بعد ایک برقعہ پوش عورت اور ایک لڑکا گھر سےنکلے. لڑکے کے ہاتھوں میں دو تھیلے تھے. جن کو وہ بڑی احتیاط سے اٹھائے ہوئے تھا. وہ دونوں خاموشی سے چلتے ہوئے آبادی سے دور قدیم کھنڈرات کی جانب گئے. ارشد علی تھوڑے فاصلے سے ان کا پیچھا کررہاتھا مگر کھنڈرات کے قریب موجود ٹیلوں میں سے ایک ٹیلے کے پاس جاکر وہ دوںوں کہیں غائب ہوگئے. اندھیرا زیادہ ہونے اور زہریلے سانپوں کی موجودگی کے خوف سے ارشد علی ٹیلے کے زیادہ قریب نہیں گیا اور کچھ دیر انتظار کر کے واپس آگیا.
اب تو نیلم خاتون کے حوالے سے میرا شک یقین میں بدلنے لگا تھا. میں فوری وہاں جاکر ان کو چونکنا نہیں کرنا چاہتا تھا لہذا میں نے اندھیرا ہونے کے بعد وہاں جانے کا فیصلہ کیا تاکہ ان کے غائب ہونے کا راز معلوم ہوسکے. ارشد علی بدستور گھر کی نگرانی پر مامور تھا. گھر آکر کھانے اور نماز سے فارغ ہوکر میں تیاری کرنے لگا. نور زمان کو بھی اسلحے سے لیس چند سپاہیوں کے ساتھ خاموشی سے کھنڈرات کے پاس پہنچنے کا کہہ دیا تھا. گھڑی نے نو بجایا تو میں گھر سے نکلا. اتفاق سے آج پورے چاند کی رات تھی. جس کی وجہ سے گھپ اندھیرا نہیں تھا. مقررہ جگہ پر پہنچ کر میں نے مخصوص آواز نکالی تو کچھ سائے میری جانب بڑھے جو ارشد علی، نورزمان اور دوسرے سپاہی تھے. ارشد علی ہمیں وہاں موجود چھوٹے بڑے کئی ٹیلوں میں سے ایک ٹیلے کے پاس لے آیا جہاں برقعہ پوش عورت اور لڑکا غائب ہوگئے تھے. یہ جگہ عرصے سے ویران اور فراموش تھی. آسیب زدہ مشہور ہونے کے سبب کوئی اس طرف کا رخ بھی نہیں کرتا تھا. ٹیلے کے ارد گرد گھنی خود رو جھاڑیاں اگی ہوئی تھیں جن میں جھنجنہ سانپوں کے دم سے نکلنے والی آواز یہاں ان کی موجودگی کا پتہ بھی دے رہی تھی. ہم نہایت احتیاط سے جھاڑیوں کو ادھر اُدھر ہٹا کر آگے بڑھ رہے تھے کہ اچانک ٹیلے کے ایک جانب ہمیں ایک دہانہ سا نظر آیا. جو اتنا بڑا تھا کہ ایک وقت میں ایک آدمی جھک کر اندر داخل ہوسکتا تھا. دو سپاہیوں کو باہر پہرہ دینے کا کہہ کر ہم باقی تمام دبے قدموں آہستگی سے باری باری دہانے کے اندر داخل ہوگئے. ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ اندر ایک تنگ مگر صاف ستھری سرنگ تھی. سو، ڈیڑھ سو قدم چلنے کے بعد ہم سرنگ کے دوسرے سرے پرپہنچے جو ایک کشادہ غار سے جڑی تھی. غار میں ہر طرف موم بتیاں روشن تھیں. سامنے ایک چبوترہ نظر آرہا تھا. جس پر ایک قدآور مورتی رکھی تھی جو بالکل نیلم خاتون کے مہمان خانے میں دیوار پر لگی تصویر کی طرح تھی. مورتی کے قدموں میں ایک کمسن بچی رسیوں سے بندھی بیہوش پڑی تھی. چبوترے کے نیچے نیلم خاتون اوررحیم سمیت سات لوگ حلقہ باندھے کھڑے تھے اور کسی نامعلوم زبان میں کچھ پڑھ رہے تھے. پاس ہی آگ کا آلاؤ روشن تھا جو خوب دہک رہا تھا.
یہ منظر دیکھ کر میرے ہوش و حواس ہی اڑ گئے. صاف نظر آرہا تھا کہ یہاں کسی مقدس عمل کے نام پر کوئی کھیل کھیلا جارہا ہے. جس میں سامنے بندھی پڑی بچی کو قربان کرنے کی نیت سے لایا گیا ہے. ابھی ہم حیرت سے یہ منظر دیکھ ہی رہے تھے کہ رحیم بچی کو گود میں اٹھا کر آگ کے آلاؤ کی طرف بڑھا. میں نے اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا اور کود کر اندر داخل ہوا اور چیخ کر اسے رک جانے کو کہا. مجھے اور اسلحے سے لیس پولیس کو دیکھ کر وہاں موجود تمام لوگ ہکا بکا رہ گئے. اگلے ہی لمحے نیلم خاتون اپنی جگہ سے چیختے ہوئے رحیم سے بولی کہ وہ جلدی سے لڑکی کو آگ میں پھینک دے اور قربانی پوری کرے. اس سے پہلے کہ رحیم بچی کو آگ کے حوالے کرتا دلبر حسین نامی ایک سپاہی جھپٹ کر اس تک پہنچا اور بچی کو اس سے چھین لیا. نور زمان نے رحیم کو قابو میں لیکر اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال دی. میں نے وہاں موجود لوگوں کو مخاطب کرکے کہا کہ ان کا کھیل ختم ہوگیا ہے. جو بھاگنے کی کوشش کرے گا مارا جائے گا. نیلم خاتون میری بات سن کر غصے سے تنتناتے ہوئے بولی!
نہیں تم کچھ نہیں کرسکتے. تم ہمیں ہمارے مقصد سے نہیں ہٹا سکتے. پھر مڑ کر اپنے ساتھیوں سے کہنے لگی!
میرے پیاروں گھبرانا نہیں! ابھی رخصت کا وقت آگیا ہے مگر ہم پھر آئیں گے دوبارہ. جلد ہی ہماری ملاقات ہوگی. کیا تم لوگ تیار ہو. اس کے اتنا کہنے کی دیر تھی کہ آناً فاناً ان سب نے اپنی جیب سے کچھ نکالا اور منہ میں رکھ لیا. ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے وہ تمام زمین پر گر کر چند لمحے تڑپے اور پھر ساکت ہوگئے. نیلم خاتون سمیت وہ سارے ہمارے سامنے زمین پر پڑے تھے. ان سب نے کوئی تیز اثر زہر پی کر خودکشی کرلی تھی. رحیم ہتھکڑی لگی ہونے کی وجہ سے ایسا نہیں کر سکا. میں نے آگے بڑھ کر اس کی تلاشی لی تو اس کی جیب سے ایک چھوٹی سی شیشی نکلی. جس میں نیلے رنگ کا سیال بھرا تھا جو یقیناً زہریلا تھا.
اگلے کئی ہفتے رحیم سے تفتیش جاری رہی. قصہ مختصر یہ کہ اس نے تمام واقعات بتانے کے ساتھ ساتھ رانی اور محبوب کے قتل کا اعتراف بھی کیا. عدالت نے اسے دہرے قتل اور سنگین مجرمانہ سرگرمیوں کی بدولت سزائے موت سنائی مگر ایک روز خبر ملی کہ اس نے رات کو کسی وقت چادر کا پھندا لگا کر خودکشی کرلی.
رحیم کی زبانی جو ناقابل یقین باتیں ہمیں پتہ چلیں وہ کچھ یوں تھیں کہ
نیلم دراصل ہزاروں سال پہلے یہاں کی ملکہ تھی. کسی بددعا کے سبب اس کی سلطنت اس سے چھن گئی اور مرنے کے بعد اس کی روح کو نجات سے بھی محروم کردیا گیا تھا. جس کی وجہ سے اس کی روح بھٹک رہی تھی. اس لعنت سے نکلنے اور اپنی کھوئی ہوئی سلطنت حاصل کرنے کے لیے اسے دیویوں کے حضور سات کمسن لڑکیوں کی قربانی دینی تھی. اب تک اپنے ساتھیوں کی مدد سے وہ چھ لڑکیوں کو قربان کرچکی تھی اور ساتویں قربانی پوری ہونے ہی والی تھی کہ پولیس وہاں پہنچ گئی اور تمام کام خراب ہوگیا. نیلم نے اپنی سحر انگیزی سے اپنے ساتھیوں کو یہ یقین دلایا تھا کہ قربانی پوری ہونے پر وہ ان سب کی قسمت بدل دے گی. اس کے پاس قیمتی خزانے کا راز ہے جو وہ وقت آنے پر حاصل کرے گی. رانی اور محبوب بھی نیلم کے ساتھیوں میں سے تھے. جو قربان کرنے کے لیے دوردراز کے علاقوں سے غریب گھرانوں کی کمسن لڑکیاں اغوا کر کے لاتے تھے تاکہ کوئی پوچھ گچھ نہ ہوسکے. معاملات بالکل صحیح جارہے تھے اور کسی کو پتہ چلے بغیر عمل بھی پورا ہونے والا تھا کہ رانی اور محبوب نے لالچ میں آکر وہ ہانڈی چرالی جس میں خزانے کا نقشہ اورنیلم کے پہلے جنم کے جسم کی ہڈیاں رکھی ہوئی تھیں. اس دھوکہ دہی کی سزا انہیں موت کی صورت میں دی گئی. میں نے کہا کہ ہانڈی تو تمہیں پھر بھی نہیں ملی؟ کہنے لگا! ہاں لیکن ایک دفعہ عمل پورا ہوجاتا اور نیلم کو اس کی کھوئی ہوئی حیثیت مل جاتی تو ہانڈی حاصل کرنا مشکل نہیں تھا. میرے پوچھنے پر کہ رانی اور محبوب کو کیسے مارا؟ اس نے بتایا کہ اس نے محبوب کو ایک خاص قسم کے سانپ کے زہر سے مارا جو سیدھا دل پر اثر کرتا ہے اور حرکت قلب روک دیتا ہے. مگر فوری پتہ نہیں چلتا کہ موت سانپ کے زہر سے ہوئی ہے یا کسی اور طریقے سے. محبوب کو چھت سے لٹکانے کے بعد اس نے دستانہ پہن کر رانی کو چاقو سے مارااور پھر چاقو پر محبوب کی انگلیوں کے نشانات لگادیئے تاکہ ایسا لگے کہ محبوب نے اپنی بیوی کو مار کر خودکشی کرلی ہے. میں نے اسے بتایا کہ اس نے خاصی صفائی دکھائی تھی مگر قاتل کوئی نہ کوئی غلطی ضرور کرتا ہے. ہم بھی یہی سمجھتے کہ گھریلو ناچاقی کی وجہ سے محبوب نے اپنی بیوی کو قتل کرکے خودکشی کرلی اگر محبوب کی آنکھیں بند نہ ہوتیں. میں نے اس سے جب پوچھا کہ کیا وہ نیلم خاتون کی ان بے سروپا اور لغو باتوں پر یقین رکھتا ہے؟ جواب میں اس نے مجھے مسکرا کر دیکھا اور بولا ہاں وہ اس کی ہر بات پر یقین رکھتا ہے اور اس پر بھی اس کا مکمل یقین ہے کہ وہ دوبارہ ضرور واپس آئے گی.