74

” اگر میں مرد ہوتی “

اکثر خواتین مارچ کے مہینے کا آغاز ہوتے ہی نہ جانے کیوں ایک غیر معمولی طاقت اپنے ذہن و جسم میں محسوس کرنے لگتی ہیں کہ جیسے وہ اب زندگی میں بہت کچھ ایسے کام کر جائیں گی کہ جس کے لیے وہ مدت سے پلاننگ کر رہی ہیں ۔ یہ یقیناً آٹھ مارچ کا دن عالمی سطح پر تحریک آزادی نسواں کا کمال ہے کہ اس روز دنیا بھر کی عورتیں اپنے بہت سے ارادوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے متحرک ہوجاتی ہیں۔ کچھ خواب دیکھنے لگتی ہیں کہ اگر انہیں سماج میں مرد کے جیسی آزادی مل جائے تو زندگی کو کس انداز سے اور کیسے تبدیل کر دیں گی۔
آج ہم سے بھی کسی عقل مند عورت نے اسی آٹھ مارچ کے دن کی مناسبت سے ایک سوال کیا کہ” اگر آپ مرد ہوتی تو ؟ “
ہم نے اس احمقانہ سوال کا جواب دینے سے پہلے اس معصوم خواہش کے بارے میں سوچا جو ہمارے معاشرے کا ایک انسان اپنی صنف پر فخر کرنے کے بجائے صنف مخالف کی آزادی کو حسرت میں ڈھال کر کر رہا ہے تو افسوس بھی ہوا اور ہنسی بھی آئی کہ
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
میں نے کچھ دیر سوچنے کے بعد انہیں کہا کہ ۔۔۔”اگر میں مرد ہوتی تو ؟ ۔۔۔ لیکن ٹھہرئیے ! ۔۔۔۔ اس جملے پہ غور کرکے سوچا ایک بار آئینہ دیکھ لوں کہ کیا واقعی میں اس سوال کے جواب دینے کی مجاز ہوں ۔۔۔۔کیا میں نے خود کو اس معاشرے کےانسان کی درجہ بندی میں کہیں صنف نازک کے درجے سے باہر تو نہیں نکال پھینکا؟ کیونکہ میں بھی یہاں ان خواتین میں شمار کی جاتی ہوں جو پردیس میں آکر اپنی مشرقی عورتوں والی نسوانیت و نزاکت کو معاشرے کے مردانہ و زنانہ کمپارٹمنٹ سے نکال کر خود کواس مشین نما انسان میں بدل دیتی ہیں جو مرد و عورت کے صنف سے بے نیاز اپنے فرائض گھریلو یا دفتری سطح پر انجام دے رہا ہے ۔ وقت کے ساتھ لگائی اس دوڑ بھاگ میں یہاں کی مشرقی عورت بھول ہی جاتی ہے کہ وہ مرد نہیں ایک عورت ہے جسے خدا نے تصویر کائنات میں رنگ بھرنے کے لیے اُتارا ہے، لیکن ساتھ میں رنگ میں بھنگ ڈالنے کا انتظام بھی کسی حد تک اس معاشرے میں ایسے مردوں کی تخلیق سے پورا کر دیا ہے جو عورت کو مشین سمجھتے ہیں یا سرے سے کچھ سمجھتے ہی نہیں ہیں ۔۔۔لیکن میں پھر بھی اگر بطور مرد اس دنیا میں آتی تو اس دنیا میں عورت کے بغیر اپنی ذات کو ادھورا ہی سمجھتی لیکن اگر عورت ہونے کا تجربہ کرنے کے بعد مرد بنتی تو اپنے اندر کم از کم تین صفات پیدا کرنے کی کوشش کرتی ۔
پہلی صفت یعنی اپنے جیون ساتھی پر شک کے بجائے یقین کرنا سیکھتی ، دوسری مردانہ خصوصیت خود میں یہ چاہتی کہ میری نظروں اور دل میں اپنے گھر کی خواتین کی طرح کا عزت و احترام دنیا کی ہر عورت کے لیے پیدا ہوجائے اور تیسری اور اہم صفت بطور پاکستانی / ہندوستانی مرد میں اپنے اندر چاہتی کہ منہ میں پان دبائے سیاست و سگریٹ کو ایک حد تک اپنا مشغلہ بناؤں اور جگہ جگہ پان تھوکنا چھوڑ دوں ۔۔۔۔
اگر میں مرد ہوتی تو گلی کے نکڑ پر بیٹھ کر رات گئے تک شہر کی سیاست کی تازہ صورتحال پر ،گلی کے رہائشیوں کی نجی زندگی و خاندانی معاملات پر اور بھارت امریکہ و چین کی ملک کے خلاف سازشوں پر کچھڑی نہ پکاتی ، دال نہ بگھارتی اور اس پر تڑکہ نہ لگاتی بلکہ گلی کے سارے مردوں سے کہتی کہ رات کے اس پہر گھر جاؤ اور اپنی بیوی کے ساتھ وقت گزارو اور اپنے گھر کے کام میں اس کا ہاتھ بٹاؤ، والدین کی مدد کرو ۔۔۔اپنے اپنے بال بچوں کو سنبھالو ۔۔۔ یقیناً یہ کام گلی کے نکڑ کی مردانہ بیٹھک سے اہم کام ہیں۔
اگر میں مرد ہوتی تو بازار میں ہر اس دکان میں گھسنے کی کوشش کرتی جہاں مرد ہی دکانداری کر رہے ہیں اور باہر لکھا ہے کہ “ مردوں کا داخلہ ممنوع ہے “ میں اندر گھس کر اس مرد دکاندار کو گردن سے پکڑ باہر نکالتی اور تمام گاہک خواتین سے کہتی کہ آپ جب گاہک بن سکتی ہیں تو کاروبار بھی چلا سکتی ہیں ۔۔۔اور جب مردوں کا داخلہ بند ہے تو یہ حضرت یہاں کیوں؟ آپ ہی گدی سنبھالئے ۔۔۔ ویسے یہ جملہ میں ہر اس خواتین کی تنظیم کے مرد ناظمین کے لیے بھی کہتی جو عورتوں کے مشاعرے اور دیگر پروگرام میں خواتین کے درمیان بیٹھے پروگرام آرگنائزر یا کو آرڈینٹر بنے ہوتے ہیں۔
مرد بن کر میری ایک خواہش یہ بھی ہوتی کہ جہیز اور سلامی کا سلسلہ ختم کردوں اور اپنے گھر کے ساتھ ساتھ اپنی بیوی کے میکے کو بھی ہمیشہ آباد رکھوں تا کہ جب میرے ساس سسر اپنی بیٹی سے ملنے آئیں یا بیٹی ان سے ملنے جائے تو انہیں ایسا محسوس ہو کہ انہوں نے بیٹی کو رخصت نہیں بلکہ شادی کا فرض ادا کرکے اسے اس کی گھر میں آباد کیا ہے۔
اگر میں مرد ہوتی تو عورت کو وراثت سے لے کر زندگی کے تمام معاملات میں اس کا حق ضرور دیتی، اس سے دو قدم آگے رہنے کے بجائے اسے اپنے قدم سے قدم ملا کر چلنے کا حوصلہ ، ہمت اور موقع ضرور دیتی۔
بحیثیت مرد قلمکار میں یہ بھی چاہتی کہ اپنی دیگر خواتین قلمکاروں کو یہ حوصلہ و ہمت دوں کہ وہ سماجی دباؤ کی پرواہ کیے بغیربحیثیت عورت قلمکار وہ سب کچھ کہیں کہ جس پر ہمارے معاشرے کے کچھ نام نہاد غیور و اعلیٰ منصب مرد اپنا چہرہ دیکھنے پر مجبور ہوجائیں۔
اگر میں مرد ہوتی تو زمانے کو اکثر یہ یاد دلاتی رہتی کہ “ عورت بھی مرد کی طرح انسان ہے دیوی نہیں ہے ۔۔۔وہ چڑیل یا پری نہیں ، وہ خواہش و تسکین کا ذریعہ بھی نہیں ، غیرت و ناموس کی بے بنیاد وجہ بھی نہیں اور ناقص العقل یا پیر کی جوتی بھی نہیں ہے ۔۔۔” وہ انسان ہے ۔۔ ایک عورت ہے جسے خدا نے تخلیق کی اہلیت دے کر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ زمین پر خدا کی نائب ہے اور مرد اس کا نصف بہتر ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں