81

دنیا کا پہلا ملک جہاں خواتین کو مردوں کے مقابلے کم تنخواہ دینا جرم ہے

آئس لینڈ کی پارلیمان نے ایک قانون متعارف کرایا ہے، جس کے تحت اب اس ملک میں مردوں کے مقابلے میں خواتین کو کم تنخواہ دینا غیرقانونی عمل قرار دے دیا گیا ہے۔ اس طرح آئس لینڈ، مردوں کے مقابلے میں خواتین کو کم تنخواہ دینے کو جرم قرار دینے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔

آئس لینڈ میں مردوں اور خواتین میں مساوی تنخواہ کا قانون 1961ءسے موجود ہے، تاہم نئے قانون کے پاس ہونے تک اس ملک میں مردوں کے مقابلے میں خواتین کو 14فی صد سے 20فی صد کم تنخواہ دی جاتی رہی ہے۔ اس صنفی تفریق کے خلاف آئس لینڈ میں انسانی اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروہ کافی عرصہ سے جدوجہد میں مصروف تھے۔ ان کی یہ جدوجہد بلاآخر رنگ لے آئی ہے اوراس ملک میں ریاست نے مساوی تنخواہ کے قانون پر زبردستی عمل درآمدکروانے کا اعلان کیا ہے۔ قانون کے تحت، ایسے سرکاری یا نجی ادارے جہاں کم از کم25 یا اس سے زائد افراد کام کرتے ہیں، وہاں آئندہ چار سال میں مردوں اور خواتین کی تنخواہوں کو مساوی سطح پر لایا جائے گا۔ تصدیق کے طور پر، ان اداروں کو اس بات کی آزادانہ سند بھی پیش کرنا ہوگی۔ جو ادارے مساوی تنخواہ دیتے ہوئے نہیں پائے جائیں گے، انھیں روزانہ کی بنیاد پر جرمانہ کیا جائے گا۔

آئس لینڈ بظاہر تو ایک چھوٹا ملک ہے، تاہم اس کی معیشت کافی مضبوط ہے۔ سیاحت اور ماہی گیری یہاں کی اہم اور بڑی صنعتیں ہیں۔ کم از کم گزشتہ 9سال سے، ورلڈ اکنامک فورم اس ملک کو دنیا کا سب سے زیادہ Gender-equalملک قرار دیتا آیا ہے۔ 2006ءمیں یہ رینکنگ شروع ہونے کے بعد، آئس لینڈ نے خواتین اور مردوں کی مساوات میں 10درجے ترقی کی ہے، جو اس شعبے میں دنیا کی تیز ترین پیش رفت سمجھی جاتی ہے۔

اب آئس لینڈ کی حکومت پُرعزم ہے کہ وہ 2020تک خواتین اور مردوں کے مابین تنخواہوں میں پائی جانے والی تفریق کو مکمل طور پر ختم کردے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں