Embed HTML not available.

بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر دنیا کی واحد ریاست ہے جہاں…..

بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر دنیا کی واحد ریاست ہے جہاں تاحال اردو سرکاری اور دفتری زبان ہے تاہم غیر علانیہ طور پر وہاں کی عدالتوں اور دفاتر میں انگریزی زبان کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔ حال ہی میں اردو کے ساتھ مزید چار زبانوں کو بھی دفتری زبان کا درجہ دینے کیلئے مسودہ سامنے آیا ہے،جس کی منظوری 2ستمبر کوہندوستان کی مرکزی کابینہ نے دی ۔ اب یہ بل پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا اور یہاں منظوری کے بعد اس قانون کا اطلاق ہو جائے گا۔ ان زبانوں میں انگریزی، اردو، ڈوگری، کشمیری اور ہندی شامل ہیں۔

بھارتی کابینہ کے اس فیصلے کے سامنے آنے کے بعد پہاڑی ،گوجری قبائل اور سکھوں کی جانب سے پہاڑی،گوجری اور پنجابی زبان کو بھی سرکاری اور دفتری زبان کا درجہ دینے کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔

ہندوستان کی کابینہ کا یہ فیصلہ جہاں ریاست میں رابطوں کی زبان یعنی اردو کو محدود کرنے کا سبب بنے گا، وہیں یہ فیصلہ ریاست جموں کشمیر کے انتظامی امور میں واضح مداخلت ہے کیونکہ ہندوستان نے ایک سال قبل منظور کیے گئے جموں وکشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019کی دفعہ 47 میں یہ واضح کیا تھا کہ سرکاری زبانوں کا فیصلہ نئی اسمبلی کرے گی، یہ دفعہ نئی قانون ساز اسمبلی کو اختیار دیتی ہے کہ وہ بھارت کے زیر انتظام جموں وکشمیر میں ایک یا ایک سے زائد زبانوں کو سرکاری مقاصد کے استعمال کے لیے چنے، لیکن ہندوستان کی مرکزی کابینہ نے یہ فیصلہ ایکٹ 2019کے تحت اسمبلی بننے سے قبل ہی کر ڈالا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں