132

” افطار پارٹی “

” رمضان شروع ہونے والا ہے ،جنس وغیرہ پہلے ہی سے لےآتے ہیں ورنہ تو دکانوں میں بھیڑ ہو جاتی ہے اور قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں. “ نسرین اپنے شوہر ساجد سے بولی.
” ارے ہاں ! تم ٹھیک کہہ رہی ہو . افطار پارٹی کابھی تو انتظام کرنا ہے.خیر !اس کے لئے تو میں پیسے الگ ہی سے جمع کرتا ہوں سال بھر. آخر یونہی تو خاندان کی سب سے بہترین افطار پارٹی ہمارے یہاں‌کی نہیں کہلاتی ہے.پورے سال لوگ انتظار کرتے ہیں اس دن کا. “ ساجد فخریہ انداز میں بیوی سے بولا.
” اچھا سنیے! اس مرتبہ ایک اور خاندان کا اضافہ کردیجئے اپنی مہمانوں کی فہرست میں. آمنہ آپا کے نئےسمدھی، ثاقب صاحب اور ان کے گھر والوں کا. بھئی بڑی اونچی چیز ہیں وہ. یونیورسٹی میں ڈین کے عہدے پر ہیں آج کل.“ نسرین رشک سے بولی.
” ہاں‌ہاں‌،کیوں‌نہیں. ایسے لوگوں سے تو میل جول ضرور بڑھانا چاہیئے بلکہ میں تو کہتا ہوں ان کے داماد اور بیٹی کو بھی بلاوا دے دینا. بجلی کے محکمے میں افسر ہیں. بھئی کل کلاں کو کوئی کام پڑ سکتا ہے. “ ساجد بیوی کی بات پر تائیدی انداز میں‌سر ہلا کر جوش سے بولا.
ساجد اور نسرین کا گیارہ سالہ بیٹا، احمد جو دیوان پر بیٹھا ماں‌باپ کے درمیان ہونے والی گفتگو غور سے سن رہا تھا ، باپ کے پاس آکر بولا. ”بابا! ہم میں سے تو کوئی روزے نہیں رکھتا پھر ہم اتنی بڑی افطار پارٹی کیوں‌کرتے ہیں؟ “
”بیٹے! آپ پر تو ابھی روزے فرض ہی نہیں ہوئے ہیں اور میں‌اور آپ کی ماما چونکہ روزے رکھ نہیں پاتے تو اسی لئے ہم افطار پارٹی کرکے بہت سارے لوگوں کے روزے کھلوا دیتے ہیں تاکہ ہماری طرف سے کفارہ ادا ہوجائے. آپ کو پتہ ہے نا کہ ہمارے دین میں ہے کہ اگر کوئی کسی وجہ سے روزے نہ رکھ پائے تو کفارے کے طور پر لوگوں‌کا روزہ افطار کروادے. “ ساجد بیٹے کو پیارسے سمجھاتے ہوئے بولا.
احمد باپ کی بات سن کر ایک لمحے کے لئے سوچ میں پڑ گیا اور پھر دوڑ کر اپنے کمرے میں گیا اور اپنی دینیات کی کتاب کھول کر باپ کو دکھاتے ہوئے بولا.” لیکن ہماری کتاب میں تو لکھا ہے کہ ماہ رمضان کے روزے مسلمانوں پر فرض کیے گئے ہیں اور اگر کوئی کسی بیماری یا مجبوری کی وجہ سے روزے نہ رکھ پائے تو بعد میں پورے کرے اورکفارےکے طور پر غریبوں، ناداروں اور مفلسوں کو کھانا کھلائے، مگر بابا! آپ اور ماما تو بعد میں بھی روزے نہیں رکھتے اور نہ ہی افطار پارٹی میں کبھی کسی غریب کو بلاتے ہیں. پھر کفارہ کیسے ہوا؟ “

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں